ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011 |
اكستان |
|
سواسات بجے) کی بات ہے کہ دارُالعلوم کے ایک طالب علم کے ساتھ کسی وجہ سے چند شہریوں نے زدّوکوب کا معاملہ کیا، دارُالعلوم کے طلباء کی ایک تعداد نوجوانی کے جوش سے مغلوب ہوگئی اَور اُن سے دارُالعلوم کے چوراہے کی چند دُکانوں کو ذرا بہت نقصان پہنچ گیا، متعلقہ شہریوں کو بہت تکلیف ہوئی اَور اُنھوں نے حضرت سے بڑھا چڑھا کے اِس معاملے کی شکایت کی، حضرت نے فرمایا کہ آپ تحریری طور پر لکھ کے دیجیے کہ آپ لوگوں کا واقعتا کتنا اَور کیا کیا نقصان ہوا ہے؟ اُنھوں نے مبالغے کے ساتھ نقصانات کا اَندازہ تحریراً پیش کیا تو حضرت نے فرمایا: دیکھیے دارُالعلوم کو قوم جو چندہ دیتی ہے وہ دارُالعلوم کے ضروری مفادات پر خرچ کرنے کے لیے دیتی ہے، یہ حقیر اُس کا اَمین ہے، اُس میں کوئی خیانت اُس کے لیے جائز نہیں اِس لیے میں دارُالعلوم کی رقم سے آپ کے نقصانات کی تلافی نہیں کرسکتا۔ آپ لوگ مہینے دومہینے کا موقع دیجیے کہ میں اپنی زمین کا کوئی حصّہ مناسب قیمت پر فروخت کرکے آپ کے نقصانات کا معاوضہ اَدا کرسکوں ،حضرت کی بات سُن کے شہریوں کا وفد آبدیدہ ہوگیا اَور اُس نے حضرت سے معافی کی درخواست کی کہ حضرت! ہم لوگوں سے شدید غلطی ہوئی کہ ہم نے آپ کو پریشان کیا اَور آپ کے لیے ذہنی اَذیت کا باعث بنے ہمیں کوئی معاوضہ نہیں چاہیے، دارُالعلوم جیسے آپ کا ہے ویسے ہی ہمارا بھی ہے۔ اُن کی وفات کے بعد بہت سے ہما شما قسم کے لوگوں نے اُن کے جانشین کی اپنے تئیں اپنی خواہش کے مطابق نشاندہی شروع کردی ہے اَور اِس سلسلے میں اَخبارات میں بیان بازی بھی کررکھی ہے تاکہ اَرکانِ شوریٰ کو اِنتشار میں مبتلا کیا جاسکے۔ حالانکہ اِس مسئلے میں کسی ہما شما کو رائے زنی کی کوئی ضرورت تھی نہ ہے، یہ کام دارُالعلوم کی مجلس ِشوریٰ کے اہلِ خرد پاسبانانِ مفادِ دارُالعلوم کا ہے کہ وہ باہمی رائے مشورے سے جس شخصیت کو دارُالعلوم کے اِس عظیم منصب کے لیے موزوں سمجھیں اُس کو اِس کے لیے منتخب کریں۔ اِنشاء اللہ خداے کریم کی توفیق سے وہ اِتفاقِ رائے یا کثرتِ رائے سے جو بھی فیصلہ کریں گے وہ مِلّت کے لیے قابل قبول ہوگا۔ بقول اَکبراِلٰہ آبادی لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں