Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011

اكستان

54 - 64
سواسات بجے) کی بات ہے کہ دارُالعلوم کے ایک طالب علم کے ساتھ کسی وجہ سے چند شہریوں نے زدّوکوب  کا معاملہ کیا، دارُالعلوم کے طلباء کی ایک تعداد نوجوانی کے جوش سے مغلوب ہوگئی اَور اُن سے دارُالعلوم کے چوراہے کی چند دُکانوں کو ذرا بہت نقصان پہنچ گیا، متعلقہ شہریوں کو بہت تکلیف ہوئی اَور اُنھوں نے حضرت  سے بڑھا چڑھا کے اِس معاملے کی شکایت کی، حضرت نے فرمایا کہ آپ تحریری طور پر لکھ کے دیجیے کہ آپ لوگوں کا واقعتا کتنا اَور کیا کیا نقصان ہوا ہے؟ اُنھوں نے مبالغے کے ساتھ نقصانات کا اَندازہ تحریراً پیش کیا تو حضرت نے فرمایا: دیکھیے دارُالعلوم کو قوم جو چندہ دیتی ہے وہ دارُالعلوم کے ضروری مفادات پر خرچ کرنے کے لیے دیتی ہے، یہ حقیر اُس کا اَمین ہے، اُس میں کوئی خیانت اُس کے لیے جائز نہیں اِس لیے میں دارُالعلوم کی رقم سے آپ کے نقصانات کی تلافی نہیں کرسکتا۔ آپ لوگ مہینے دومہینے کا موقع دیجیے کہ میں اپنی زمین کا کوئی حصّہ مناسب قیمت پر فروخت کرکے آپ کے نقصانات کا معاوضہ اَدا کرسکوں ،حضرت کی بات سُن کے شہریوں کا وفد آبدیدہ ہوگیا اَور اُس نے حضرت سے معافی کی درخواست کی کہ حضرت! ہم لوگوں سے شدید غلطی ہوئی کہ ہم نے آپ کو پریشان کیا اَور آپ کے لیے ذہنی اَذیت کا باعث بنے ہمیں کوئی معاوضہ نہیں چاہیے، دارُالعلوم جیسے آپ کا ہے ویسے ہی ہمارا بھی ہے۔
اُن کی وفات کے بعد بہت سے ہما شما قسم کے لوگوں نے اُن کے جانشین کی اپنے تئیں اپنی خواہش کے مطابق نشاندہی شروع کردی ہے اَور اِس سلسلے میں اَخبارات میں بیان بازی بھی کررکھی ہے تاکہ اَرکانِ شوریٰ کو اِنتشار میں مبتلا کیا جاسکے۔ حالانکہ اِس مسئلے میں کسی ہما شما کو رائے زنی کی کوئی ضرورت تھی نہ ہے، یہ کام دارُالعلوم کی مجلس ِشوریٰ کے اہلِ خرد پاسبانانِ مفادِ دارُالعلوم کا ہے کہ وہ باہمی رائے مشورے سے جس شخصیت کو دارُالعلوم کے اِس عظیم منصب کے لیے موزوں سمجھیں اُس کو اِس کے لیے منتخب کریں۔ اِنشاء اللہ خداے کریم کی توفیق سے وہ اِتفاقِ رائے یا کثرتِ رائے سے جو بھی فیصلہ کریں گے وہ مِلّت کے لیے قابل قبول ہوگا۔ بقول اَکبراِلٰہ آبادی    
لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو		مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 7 1
4 اِسلامی جنگی مہم کے بعد مشکلات جنم نہیں لیتیں : 9 3
5 مفتوحہ علاقوں کی عورتوں کے ساتھ سلوک : 9 3
6 مفتوحہ علاقوں کے لوگ بخوشی اِسلام قبول کرتے رہے کسی پر جبر نہیں کیا گیا : 9 3
7 بادشاہوں کا ظالمانہ روّیہ : 10 3
8 حضرت اَبوبکر کی ہدایات ،ایک خاص دُعا اَور اُس کی وجہ : 11 3
9 خلافت علی منہاج النبوة اَور عام خلافت میں فرق : 12 3
10 دارُالخلافہ کی مدینہ منورہ سے کوفہ منتقلی : 12 3
11 بعد والوں کے لیے حضرت معاویہ کا طرز ممکن العمل ہے : 13 3
12 مسئلہ رجم 15 1
13 اِمام شافعی فرماتے ہیں : 16 12
14 قسط : ١٠ اَنفَاسِ قدسیہ 28 1
16 رُفقائِ سفر کے ساتھ : 28 14
17 قسط : ٢٧ تربیت ِ اَولاد 32 1
18 ( حقوق کا بیان ) 32 17
19 اَولاد کے حقوق میں کوتاہی اَور اُس کا نتیجہ : 32 17
20 اَولاد خبیث اَور بدمعاش کیسے ہوجاتی ہے : 33 17
21 بچوں کے اَخلاق اَورعادتیں کیسے خراب ہوجاتی ہیں : 33 17
22 چوری کی عادت رفتہ رفتہ ہوتی ہے : 34 17
23 آج کل کی تعلیم وتربیت کے برے نتائج : 34 17
24 بدحالی کا تدارک اَور اِصلاح کا طریقہ : 35 17
25 قسط : ٤ حضرت اِمام حسن بن علی رضی اللہ عنہما 36 1
26 حُلیہ مبارک : 36 25
27 اَزدواج کی کثرت : 36 25
28 بیویوں سے برتاؤ : 36 25
29 اَولاد : 37 25
30 ذریعہ معاش : 37 25
31 فضل وکمال : 38 25
32 حدیث : 38 25
33 خطابت : 38 25
34 شاعری : 40 25
35 حکیمانہ اَقوال : 40 25
36 اَخلاق وعادات : 41 25
37 اِستغنا ء وبے نیازی : 41 25
38 وفیات 42 1
39 قسط : ٣ ، آخری 43 1
40 دارُالعلوم کے مردِ دَانا و دَرویش کی رِحلت 43 39
41 نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہوتا ہے : 47 39
42 مولانا کی کارگاہِ سیاست 55 1
43 اَذان کی عظمت و شان مَد کی دَرازی سے ہے 59 1
44 دینی مسائل ( وقف کا بیان ) 62 1
45 وقف کیسے لازم اَور مکمل ہوتا ہے : 62 44
46 وقف کا حکم : 62 44
47 متولی وقف کی معزولی : 62 44
48 اَراضی وقف کو اجارہ طویلہ پر دینا : 63 44
Flag Counter