Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011

اكستان

53 - 64
اَرکانِ شوریٰ نے اپنے اپنے تاثرات کا اِظہار کیا۔ کئی اَساتذہ واَرکانِ شوریٰ اپنی تقریر کے دوران روپڑے اَور اُن کی آواز شکستہ وغم آلود ہوجانے کی وجہ سے ناصاف ہوگئی۔ دُوسرے روز اہلِ شہر نے دارُالعلوم کے مدرسہ ثانویہ کے میدان میں ایک بڑا جلسۂ تعزیت منعقد کیا، دیوبند کے دیگر سارے مکاتب ومدارس میں یہ سلسلہ کئی روز تک چلتا رہا۔ ملک وبیرون ملک کے مدارسِ اِسلامیہ میں ہر جگہ بالخصوص مغربی یوپی کے مدارس ومکاتب وجامعات میں بڑے بڑے تعزیتی جلسے ہوے، بعض فضلائے دارُالعلوم نے عین نمازِ جنازہ اَور تدفین کے وقت مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ اَور طواف کیا، بعض فضلاء نے جنازہ قبر میں اُتارے جانے کے وقت ملتزم سے چمٹ کر حضرت کی مغفرت کے لیے دُعاکی۔ ملک کے بہت سے مسلم وغیرمسلم قائدین واہلِ سیاست وحکومت بالخصوص مسلم جماعتوں اَور اِداروں کے ذمے داروں نے دارُالعلوم پہنچ کر دارُالعلوم کے موجودہ ذمے داروں سے تعزیت کی اَوراپنے اپنے رنج وغم کا اِظہار کیا جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
بٹا ہوا بدن، باوقار پیکر، دراز قد، بڑاسا سر، کشادہ پیشانی، گھنیریں بھویں، داڑھی کے بال کچھ کل گھنیرے، کھلتا ہوا گندمی رنگ، لمبی اَور اُونچی ناک، چہرے پر معصومیت، گفتگو میں نرمی اَور دھیماپن، برتاؤ میں تہذیب وشائستگی کی تراوش، درویشی، سادگی،سنجیدگی، بردباری، شرافت، رکھ رکھاؤ،عالمانہ متانت، رئیسانہ عظمت اَور نسبی برتری کی مورت، فکر وتدبر میں سمندر کی گہرائی، حسنِ اَخلاق میں صحرائے ناپیدا کنار کی وسعت، صبر اَور خاموشی کا پتلا، ستائش کی تمنّا سے خلقتاً بے نیاز اَور صلے کے پروا سے نا آشنائے محض، اِنتہائی بخالت اَور بے پناہ سخاوت کے تضاد کا عجیب و غریب مجموعہ، اپنے دسترخوان پر اپنے ذاتی مال کو مہمانوں پر اَور وقتِ ضرورت فقیروں یتیموںبیواؤں اَور بے سہاروں پر خرچ کرنے میں ''حاتم طائی'' اَور دارُالعلوم کے ملی مال کے پیسے پیسے کو بٹورکر رکھنے اَور ایک ایک حبّے کو سوچ سمجھ کر خرچ کرنے اَور بادلِ ناخواستہ اُس کے صرف کی اِجازت دینے میں ''اَشہب'' سے زیادہ بخیل، یعنی اپنی ذات میں ایک انجمن، اپنے بعد اپنے جانشین کی تلاش کے لیے اپنے بعد والوں کو بہت زیادہ سرگرداں چھوڑ جانے والا مردِ بے بدل  رَحِمَہُ اللّٰہُ وَجَعَلَ جَنَّةَ الْفِرْدَوْسِ مَثْوَاہُ ۔
یہاںپرایک واقعے کا تذکرہ عبرت اَور دِلچسپی سے خالی نہ ہوگا: کئی سال پہلے (یعنی سہ شنبہ چہار شنبہ: ١١ـ١٢جمادی الاولیٰ ١٤٢٣ھ مطابق٢٣ـ٢٤جولائی ٢٠٠٢ء کی شب میں مغرب کی نماز کے بعد تقریباً
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 7 1
4 اِسلامی جنگی مہم کے بعد مشکلات جنم نہیں لیتیں : 9 3
5 مفتوحہ علاقوں کی عورتوں کے ساتھ سلوک : 9 3
6 مفتوحہ علاقوں کے لوگ بخوشی اِسلام قبول کرتے رہے کسی پر جبر نہیں کیا گیا : 9 3
7 بادشاہوں کا ظالمانہ روّیہ : 10 3
8 حضرت اَبوبکر کی ہدایات ،ایک خاص دُعا اَور اُس کی وجہ : 11 3
9 خلافت علی منہاج النبوة اَور عام خلافت میں فرق : 12 3
10 دارُالخلافہ کی مدینہ منورہ سے کوفہ منتقلی : 12 3
11 بعد والوں کے لیے حضرت معاویہ کا طرز ممکن العمل ہے : 13 3
12 مسئلہ رجم 15 1
13 اِمام شافعی فرماتے ہیں : 16 12
14 قسط : ١٠ اَنفَاسِ قدسیہ 28 1
16 رُفقائِ سفر کے ساتھ : 28 14
17 قسط : ٢٧ تربیت ِ اَولاد 32 1
18 ( حقوق کا بیان ) 32 17
19 اَولاد کے حقوق میں کوتاہی اَور اُس کا نتیجہ : 32 17
20 اَولاد خبیث اَور بدمعاش کیسے ہوجاتی ہے : 33 17
21 بچوں کے اَخلاق اَورعادتیں کیسے خراب ہوجاتی ہیں : 33 17
22 چوری کی عادت رفتہ رفتہ ہوتی ہے : 34 17
23 آج کل کی تعلیم وتربیت کے برے نتائج : 34 17
24 بدحالی کا تدارک اَور اِصلاح کا طریقہ : 35 17
25 قسط : ٤ حضرت اِمام حسن بن علی رضی اللہ عنہما 36 1
26 حُلیہ مبارک : 36 25
27 اَزدواج کی کثرت : 36 25
28 بیویوں سے برتاؤ : 36 25
29 اَولاد : 37 25
30 ذریعہ معاش : 37 25
31 فضل وکمال : 38 25
32 حدیث : 38 25
33 خطابت : 38 25
34 شاعری : 40 25
35 حکیمانہ اَقوال : 40 25
36 اَخلاق وعادات : 41 25
37 اِستغنا ء وبے نیازی : 41 25
38 وفیات 42 1
39 قسط : ٣ ، آخری 43 1
40 دارُالعلوم کے مردِ دَانا و دَرویش کی رِحلت 43 39
41 نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہوتا ہے : 47 39
42 مولانا کی کارگاہِ سیاست 55 1
43 اَذان کی عظمت و شان مَد کی دَرازی سے ہے 59 1
44 دینی مسائل ( وقف کا بیان ) 62 1
45 وقف کیسے لازم اَور مکمل ہوتا ہے : 62 44
46 وقف کا حکم : 62 44
47 متولی وقف کی معزولی : 62 44
48 اَراضی وقف کو اجارہ طویلہ پر دینا : 63 44
Flag Counter