ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011 |
اكستان |
|
اَرکانِ شوریٰ نے اپنے اپنے تاثرات کا اِظہار کیا۔ کئی اَساتذہ واَرکانِ شوریٰ اپنی تقریر کے دوران روپڑے اَور اُن کی آواز شکستہ وغم آلود ہوجانے کی وجہ سے ناصاف ہوگئی۔ دُوسرے روز اہلِ شہر نے دارُالعلوم کے مدرسہ ثانویہ کے میدان میں ایک بڑا جلسۂ تعزیت منعقد کیا، دیوبند کے دیگر سارے مکاتب ومدارس میں یہ سلسلہ کئی روز تک چلتا رہا۔ ملک وبیرون ملک کے مدارسِ اِسلامیہ میں ہر جگہ بالخصوص مغربی یوپی کے مدارس ومکاتب وجامعات میں بڑے بڑے تعزیتی جلسے ہوے، بعض فضلائے دارُالعلوم نے عین نمازِ جنازہ اَور تدفین کے وقت مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ اَور طواف کیا، بعض فضلاء نے جنازہ قبر میں اُتارے جانے کے وقت ملتزم سے چمٹ کر حضرت کی مغفرت کے لیے دُعاکی۔ ملک کے بہت سے مسلم وغیرمسلم قائدین واہلِ سیاست وحکومت بالخصوص مسلم جماعتوں اَور اِداروں کے ذمے داروں نے دارُالعلوم پہنچ کر دارُالعلوم کے موجودہ ذمے داروں سے تعزیت کی اَوراپنے اپنے رنج وغم کا اِظہار کیا جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ بٹا ہوا بدن، باوقار پیکر، دراز قد، بڑاسا سر، کشادہ پیشانی، گھنیریں بھویں، داڑھی کے بال کچھ کل گھنیرے، کھلتا ہوا گندمی رنگ، لمبی اَور اُونچی ناک، چہرے پر معصومیت، گفتگو میں نرمی اَور دھیماپن، برتاؤ میں تہذیب وشائستگی کی تراوش، درویشی، سادگی،سنجیدگی، بردباری، شرافت، رکھ رکھاؤ،عالمانہ متانت، رئیسانہ عظمت اَور نسبی برتری کی مورت، فکر وتدبر میں سمندر کی گہرائی، حسنِ اَخلاق میں صحرائے ناپیدا کنار کی وسعت، صبر اَور خاموشی کا پتلا، ستائش کی تمنّا سے خلقتاً بے نیاز اَور صلے کے پروا سے نا آشنائے محض، اِنتہائی بخالت اَور بے پناہ سخاوت کے تضاد کا عجیب و غریب مجموعہ، اپنے دسترخوان پر اپنے ذاتی مال کو مہمانوں پر اَور وقتِ ضرورت فقیروں یتیموںبیواؤں اَور بے سہاروں پر خرچ کرنے میں ''حاتم طائی'' اَور دارُالعلوم کے ملی مال کے پیسے پیسے کو بٹورکر رکھنے اَور ایک ایک حبّے کو سوچ سمجھ کر خرچ کرنے اَور بادلِ ناخواستہ اُس کے صرف کی اِجازت دینے میں ''اَشہب'' سے زیادہ بخیل، یعنی اپنی ذات میں ایک انجمن، اپنے بعد اپنے جانشین کی تلاش کے لیے اپنے بعد والوں کو بہت زیادہ سرگرداں چھوڑ جانے والا مردِ بے بدل رَحِمَہُ اللّٰہُ وَجَعَلَ جَنَّةَ الْفِرْدَوْسِ مَثْوَاہُ ۔ یہاںپرایک واقعے کا تذکرہ عبرت اَور دِلچسپی سے خالی نہ ہوگا: کئی سال پہلے (یعنی سہ شنبہ چہار شنبہ: ١١ـ١٢جمادی الاولیٰ ١٤٢٣ھ مطابق٢٣ـ٢٤جولائی ٢٠٠٢ء کی شب میں مغرب کی نماز کے بعد تقریباً