ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011 |
اكستان |
|
بہت سے دفتر تعلیمات میں جمع ہوکے ایک دُوسرے سے تعزیت کرنے لگے، بغیر اِعلان کے یہ رُوح فرسا خبر سارے دارُالعلوم میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، بہت سے طلباء بجنور کو روانہ ہونے لگے۔ دارُالعلوم کا سارا ماحول غم و اَندوہ میں ڈوب گیا، ہر ایک کو ایسا لگا کہ وہ یتیم اَور بے سہارا ہوگیا ہے۔ دارُالعلوم کی فضا اُجڑی اُجڑی سی محسوس ہونے لگی۔ حضرت کو دارُالعلوم سے جو عشق تھا اُس کی خدمت کو عبادت کی طرح جس طرح اَنجام دیتے تھے، سارے اَساتذہ وطلباء وملازمین سے اُنھیں جو پیار تھا اُس کا کچھ اَندازہ آج ہورہا تھا۔ بالآخر بھائی اَنوار صاحب نے بڑوں کے مشورے سے جنازہ دیوبند لانے کا فیصلہ کرلیا جو دارُالعلوم کے تمام اَساتذئہ وملازمین وطلباء کی خواہش کے عین مطابق تھا، دارُالعلوم میں مائیک سے بعجلت یہ اِعلان کئی بار دہرایا گیا کہ حضرت مہتمم صاحب مولانا مرغوب الرحمن کا اِنتقال ہوگیا ہے اَور شب میں ٩بجے نماز ِجنازہ اِحاطہ مولسری میں اَدا کی جائے گی لیکن شدید بھیڑ کی وجہ سے نیز بعض علماء اَور اہل ِقرابت کے اِنتظار میں نماز ِجنازہ ١١بجے شب میں اَدا کی جاسکی کیونکہ عصر کے بعد جنازہ بجنور سے روانہ ہوا اَور ٩بجے شب میں دیوبند پہنچ سکا اِ س لیے کہ راستے میں ہر جگہ علماء واہل ِتعلق نے روک روک کے دیدار کرنے پر اِصرار کیا۔ تقریباً پچاس ہزار علماء وطلباء واہلِ شہر نے نمازِ جنازہ وتدفین میں شرکت کی۔ دارُالحدیث ،دونوں طرف کی درسگاہیں، اِحاطہ مولسری، اِحاطہ باغ،اِحاطہ مطبخ، اِحاطہ دفاتر، صدر گیٹ کے آگے کا میدان صدسالہ بلڈنگ تک، دفتر تعلیمات کے سامنے کی چھت دفتر اہتمام تک کچھا کھچ بھری ہوئی تھی، اِس راقم نے اَور کئی اَساتذہ اَور ملازمین نے بالائی منزل پر دفتر اہتمام کی گیلری میں نماز جنازہ میں شرکت کی۔ ٹھیک ١٢بجے شب میں تدفین سے فراغت ہوئی۔ نمازِ جنازہ اَور تدفین میں اَساتذہ وطلباء کی محبت وعقیدت دیدنی تھی، ہر ایک ذوق وشوق اَور غم واَلم کے شدید جذبات سے مغلوب نظر آرہا تھا۔ نمازِجنازہ برادرمکرم مولانا اَنوارالرحمن صاحب قاسمی نے پڑھائی، اِس سے قبل بجنور شہر کی عیدگاہ میں بہت بڑے مجمع نے نمازِ جنازہ پڑھی جس کی اِمامت جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مراد آباد کے مولانا مفتی شبیر احمد صاحب نے پڑھائی۔ صبح کو ٨ بجے دارُالعلوم کی حضرت رحمة اللہ علیہ کی تعمیرکردہ پرشکوہ مسجدِ رشید کے کشادہ ہال میں دارُالعلوم کی طرف سے تعزیتی جلسہ ہوا، مسجد اپنی کشادگی کے باوجود مکمل طورپر بھری ہوئی تھی، اَساتذہ اَور کئی