ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011 |
اكستان |
|
غلام رسول خاموش کارگزار مہتمم دارُالعلوم کی وفات کے بعد کیسا نقشہ ہے؟ دونوں نائب مہتمم: حضرت مولانا عبدالخالق صاحب مدراسی اَور صدیق ِمکرم مولانا عبدالخالق صاحب سنبھلی سے بھی ملاقات ہوجائے گی، بالخصوص آخر الذکر سے کہ وہ اَبھی چند روز قبل حج کے سفر سے واپس آئے تھے۔ دفتر اہتمام میں جھانک کے دیکھا تو وہاں توقع کے خلاف سنّاٹا تھا، پیش کار صاحب نے بتایا کہ آج دفتر تعلیمات میں مجلس ِتعلیمی کی میٹنگ ہے اِس لیے دونوں حضرات وہیں تشریف لے گئے ہیں۔ صبح کے دس بج رہے تھے پیش کار صاحب کی رائے ہوئی کہ آپ آدھا پون گھنٹہ رُک سکتے ہوں تو دفتر اہتمام میں تشریف رکھیں، ساڑھے دس بجے کے بعد یا تو یہ دونوں حضرات خود ہی تشریف لے آئیں گے یا میں اُنھیں آپ کی آمد کی اِطلاع دے دُوں گا تو بالضرور آجائیں گے کیونکہ اُس وقت تک میٹنگ ضرور ختم ہوجائے گی۔ میں اہتمام کے ہال میں دروازے کے پاس دائیں طرف بیٹھ گیا، نہ معلوم کیوں شدید تقاضا ہوا کہ بے کار بیٹھنے کی بجائے قرآن پاک کی زبانی تلاوت کروں۔ راقم نے پہلے سورئہ یٰسین شریف پڑھی اَور پھر اِنتہائی لگن سے کئی سوبار لَآ اِلٰہَ الاَّ اَنتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمینَ کا وِرد کرتا رہا۔ اِتنے میں گیارہ بج گئے تو اُٹھا کہ پیش کار صاحب کو یہ کہہ کر چلا جاؤں کہ اِن دونوں حضرات سے راقم کا سلام کہہ دیجیے گا اَور بتادیجیے گا کہ عرصے کے بعد ملاقات کو آیا تھا لیکن اِس سعادت سے محروم رہا کہ اِتنے میں مولانا عبدالخالق صاحب سنبھلی دفتر تعلیمات سے تیزی سے واپس آئے اَور بتایا کہ اَبھی اَبھی اِطلاع آئی ہے کہ ذرا پہلے حضرت مہتمم مولانا مرغوب الرحمن صاحب کا اِنتقال ہوگیا ہے، وہ دُودھ لے رہے تھے کہ اُنھیں اُچھوآیا اَور اِسی دوران اُنھوں نے آخری سانس لی۔اُنھوں نے کہا کہ بھائی اَنوار صاحب کی رائے جنازہ یہاں دارُالعلوم لانے کی ہورہی ہے لیکن بجنور میں اَعزاء اَور اہل ِشہر وہیں تدفین کے خواہش مند ہیں۔ بھائی اَنوار صاحب مولانا سیّد اَرشد صاحب مدنی سے (جو جنوبی اَفریقہ کے سفر پر ہیں) اَور بھائی محمود صاحب (مولانا محمود مدنی بن مولانا سیّد اَسعد صاحب مدنی) نیز اپنے بڑوں سے مشورہ کررہے ہیں، بہ جلد یہ فیصلہ ہوجائے گا کہ تدفین کہاں ہو؟ ہم لوگ اِنا للہ پڑھتے ہوے دفتر تعلیمات کی طرف چل پڑے کہ بہت سے اَساتذہ وہیں تھے، دِل نے کہا کہ شاید اِسی لیے اِس راقم کو خدائے کریم نے سورئہ یٰسین اَور آیت ِکریمہ پڑھنے کی طرف متوجہ کردیا تھاکیونکہ وہی وفات کا وقت تھا۔ اَساتذہ کی بڑی تعداد کو شدہ شدہ وفات کی خبر مل گئی اَور