Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011

اكستان

51 - 64
غلام رسول خاموش کارگزار مہتمم دارُالعلوم کی وفات کے بعد کیسا نقشہ ہے؟ دونوں نائب مہتمم: حضرت مولانا عبدالخالق صاحب مدراسی اَور صدیق ِمکرم مولانا عبدالخالق صاحب سنبھلی سے بھی ملاقات ہوجائے گی، بالخصوص آخر الذکر سے کہ وہ اَبھی چند روز قبل حج کے سفر سے واپس آئے تھے۔ دفتر اہتمام میں جھانک کے دیکھا تو وہاں توقع کے خلاف سنّاٹا تھا، پیش کار صاحب نے بتایا کہ آج دفتر تعلیمات میں مجلس ِتعلیمی کی میٹنگ ہے اِس لیے دونوں حضرات وہیں تشریف لے گئے ہیں۔ صبح کے دس بج رہے تھے پیش کار صاحب کی رائے ہوئی کہ آپ آدھا پون گھنٹہ رُک سکتے ہوں تو دفتر اہتمام میں تشریف رکھیں، ساڑھے دس بجے کے بعد یا تو یہ دونوں حضرات خود ہی تشریف لے آئیں گے یا میں اُنھیں آپ کی آمد کی اِطلاع دے دُوں گا تو بالضرور آجائیں گے کیونکہ اُس وقت تک میٹنگ ضرور ختم ہوجائے گی۔ میں اہتمام کے ہال میں دروازے کے پاس دائیں طرف بیٹھ گیا، نہ معلوم کیوں شدید تقاضا ہوا کہ بے کار بیٹھنے کی بجائے قرآن پاک کی زبانی تلاوت کروں۔ راقم نے پہلے سورئہ یٰسین شریف پڑھی اَور پھر اِنتہائی لگن سے کئی سوبار لَآ اِلٰہَ الاَّ اَنتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمینَ  کا وِرد کرتا رہا۔
اِتنے میں گیارہ بج گئے تو اُٹھا کہ پیش کار صاحب کو یہ کہہ کر چلا جاؤں کہ اِن دونوں حضرات سے راقم کا سلام کہہ دیجیے گا اَور بتادیجیے گا کہ عرصے کے بعد ملاقات کو آیا تھا  لیکن اِس سعادت سے محروم رہا کہ اِتنے میں مولانا عبدالخالق صاحب سنبھلی دفتر تعلیمات سے تیزی سے واپس آئے اَور بتایا کہ اَبھی اَبھی اِطلاع آئی ہے کہ ذرا پہلے حضرت مہتمم مولانا مرغوب الرحمن صاحب کا اِنتقال ہوگیا ہے، وہ دُودھ لے رہے تھے کہ اُنھیں اُچھوآیا اَور اِسی دوران اُنھوں نے آخری سانس لی۔اُنھوں نے کہا کہ بھائی اَنوار صاحب کی رائے جنازہ یہاں دارُالعلوم لانے کی ہورہی ہے لیکن بجنور میں اَعزاء اَور اہل ِشہر وہیں تدفین کے خواہش مند ہیں۔ بھائی اَنوار صاحب مولانا سیّد اَرشد صاحب مدنی سے (جو جنوبی اَفریقہ کے سفر پر ہیں) اَور بھائی محمود صاحب (مولانا محمود مدنی بن مولانا سیّد اَسعد صاحب مدنی) نیز اپنے بڑوں سے مشورہ کررہے ہیں، بہ جلد یہ فیصلہ ہوجائے گا کہ تدفین کہاں ہو؟ ہم لوگ اِنا للہ پڑھتے ہوے دفتر تعلیمات کی طرف چل پڑے کہ بہت سے اَساتذہ وہیں تھے، دِل نے کہا کہ شاید اِسی لیے اِس راقم کو خدائے کریم نے سورئہ یٰسین اَور آیت ِکریمہ پڑھنے کی طرف متوجہ کردیا تھاکیونکہ وہی وفات کا وقت تھا۔ اَساتذہ کی بڑی تعداد کو   شدہ شدہ وفات کی خبر مل گئی اَور
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 7 1
4 اِسلامی جنگی مہم کے بعد مشکلات جنم نہیں لیتیں : 9 3
5 مفتوحہ علاقوں کی عورتوں کے ساتھ سلوک : 9 3
6 مفتوحہ علاقوں کے لوگ بخوشی اِسلام قبول کرتے رہے کسی پر جبر نہیں کیا گیا : 9 3
7 بادشاہوں کا ظالمانہ روّیہ : 10 3
8 حضرت اَبوبکر کی ہدایات ،ایک خاص دُعا اَور اُس کی وجہ : 11 3
9 خلافت علی منہاج النبوة اَور عام خلافت میں فرق : 12 3
10 دارُالخلافہ کی مدینہ منورہ سے کوفہ منتقلی : 12 3
11 بعد والوں کے لیے حضرت معاویہ کا طرز ممکن العمل ہے : 13 3
12 مسئلہ رجم 15 1
13 اِمام شافعی فرماتے ہیں : 16 12
14 قسط : ١٠ اَنفَاسِ قدسیہ 28 1
16 رُفقائِ سفر کے ساتھ : 28 14
17 قسط : ٢٧ تربیت ِ اَولاد 32 1
18 ( حقوق کا بیان ) 32 17
19 اَولاد کے حقوق میں کوتاہی اَور اُس کا نتیجہ : 32 17
20 اَولاد خبیث اَور بدمعاش کیسے ہوجاتی ہے : 33 17
21 بچوں کے اَخلاق اَورعادتیں کیسے خراب ہوجاتی ہیں : 33 17
22 چوری کی عادت رفتہ رفتہ ہوتی ہے : 34 17
23 آج کل کی تعلیم وتربیت کے برے نتائج : 34 17
24 بدحالی کا تدارک اَور اِصلاح کا طریقہ : 35 17
25 قسط : ٤ حضرت اِمام حسن بن علی رضی اللہ عنہما 36 1
26 حُلیہ مبارک : 36 25
27 اَزدواج کی کثرت : 36 25
28 بیویوں سے برتاؤ : 36 25
29 اَولاد : 37 25
30 ذریعہ معاش : 37 25
31 فضل وکمال : 38 25
32 حدیث : 38 25
33 خطابت : 38 25
34 شاعری : 40 25
35 حکیمانہ اَقوال : 40 25
36 اَخلاق وعادات : 41 25
37 اِستغنا ء وبے نیازی : 41 25
38 وفیات 42 1
39 قسط : ٣ ، آخری 43 1
40 دارُالعلوم کے مردِ دَانا و دَرویش کی رِحلت 43 39
41 نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہوتا ہے : 47 39
42 مولانا کی کارگاہِ سیاست 55 1
43 اَذان کی عظمت و شان مَد کی دَرازی سے ہے 59 1
44 دینی مسائل ( وقف کا بیان ) 62 1
45 وقف کیسے لازم اَور مکمل ہوتا ہے : 62 44
46 وقف کا حکم : 62 44
47 متولی وقف کی معزولی : 62 44
48 اَراضی وقف کو اجارہ طویلہ پر دینا : 63 44
Flag Counter