ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011 |
اكستان |
|
کے معیار پر اُترنے کی نہ صرف کوشش کی بلکہ اِس حد تک اُترے کہ اَب ہر ایک کی زبان پر ہے : کون ہوتا ہے حریفِ مےِ مرد اَفگنِ عشق ہے لبِ ساقی پہ مکرر یہ صَلا میرے بعد حضرت رحمة اللہ علیہ ویسے تو کئی سال سے خاصے کمزور تھے، جب سے اُن کے کولھے کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی چہرے اَور پاؤں پر بھی اَکثر ورم رہتا تھا آنکھوں میں نزولِ آب کی بھی شکایت تھی لیکن اِس کے باوجود وہ دو ایک سال قبل تک بہت پابندی سے دفتر اہتمام میں صبح وشام کے مکمل دورانیوں میں تشریف لے جاتے اَور سارے ضروری کام اَنجام دیتے تھے۔ زیادہ کمزوری اَورمعذوری کے بعد جب چلنا پھرنا دُشوار ہوگیا تھا، دارُالعلوم میں اپنے حجرے ہی میں تشریف رکھتے تھے اَور دارُالعلوم کے کام کے اَوقات میں سارے اہلکار اپنے اپنے ضروری کاغدات پر دستخط اَور منظوری وہیں جاکے حاصل کرلیتے تھے۔ عرصے سے حضرت کا یہی معمول رہا۔ شعبان ١٤٣١ھ کی شوریٰ کے بعد اپنے دولت کدے بجنور تشریف لے گئے، وہاں پھر پھسل گئے اَور کولھے کی ہڈیوں میں پھر شدید تکلیف ہوگئی، چلنا پھرنا تو پہلے سے ہی مشکل تھا، اَب اُٹھنا بیٹھنا بھی دُشوار تھا، خادم کے سہارے اُٹھائے بٹھائے جاتے تھے، ہڈیوں کا مجموعہ بن گئے تھے۔ ١٣ذی الحجہ ١٤٣١ھ کو ١١بجے صبح میں ہم چند اَساتذئہ دارُالعلوم اُن کی عیادت اَور زیارت کو پہنچے تو حضرت کے صاحبزادے برادرِمکرم مولانا اَنوارالرحمن صاحب قاسمی نے فرمایا: اچھاہوا کہ آپ مہتمم صاحب سے ملنے آگئے کل ہی کی بات ہے کہ اُنھوں نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ تم نے قربانی کے گوشت اُن سارے لوگوں میں تقسیم کیے کہ نہیں جن میں میں تقسیم کیاکرتا تھا پھر فرمایا: مولانا نور عالم صاحب اَور مفتی سعید صاحب یہاں آئے تھے کہ نہیں؟ میں نے عرض کیا: حضرت! یہ دونوں تو اَبھی تک نہیں آئے ہیں، شاید آنے والے ہوں۔ بھائی اَنوار صاحب سے یہ سن کر میرے دِل میں یہ خطرہ گزرا کہ شاید حضرت کا وقت ِآخر نہ آپہنچا ہو کیونکہ موت سے پہلے عموماً آدمی اُن لوگوں کو یاد کرنے لگتا ہے جن سے کسی طرح کا خصوصی ربط وتعلق اُس کو رہتا ہے۔ راقم کی سعادت کی بات ہے کہ اُن کی موت سے صرف چند روز پہلے وہ اُن سے دُنیا کی اِس زندگی میں مل آیا۔ چہارشنبہ یکم محرم ١٤٣٢ھ مطابق ٨دسمبر ٢٠١٠ء کو خدا معلوم کیوں راقم کے دِل میں شدید تقاضا ہوا کہ شعبان ١٤٣١ھ کے بعد کئی ماہ سے دفترِ اہتمام نہیں جاسکا، آج ضرور جاؤں گا، دیکھیں وہاں حضرت مولانا