Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011

اكستان

30 - 64
سردی کے موسم میں بھی پہلے خود وضو کرتے ہیں اَور پھر اسٹیشنوں پر اُتر اُتر کر رفقاء کے لیے لوٹے میںپانی بھر بھر کر لاتے ہیں اَور اُن کے پاؤں دباکر اُن کوبیدار کرنے اَوروضو کرنے کی ہدایت فرماتے ہیں۔ عام طورپر علماء اپنی یبوست مزاجی اَور غیر ضروری سنجیدگی کے لیے بدنام ہیں مگر عالم اِسلام کی یہ سب سے بڑی شخصیت ہر وقت مسکراتی رہتی ہے الخ ۔''(اَخبارِشریعت حسین اَحمدنمبر: مرتبہ حافظ یوسف صاحب) 
حالت ِ سفر میں ریل گاڑی میں ہر قسم کا آدمی سوار ہوتا ہے چنانچہ آپ ہر مزاج اَور ہر قسم کے آدمی سے اُس کے مزاج کے مطابق گفتگو کرتے تھے کوئی آپ سے دُنیاکے بارے میں مثلاًتجارت، دُکانداری، کاشتکاری، غرض کہ ہر قسم کی بات چیت کرتاتو آپ بھی اُسی قسم کی بات چیت کرتے۔ بعض دفعہ تو میں نے خود ایسا دیکھا ہے کہ رفقائِ سفر میں سے کسی نے ایسا سلسلہ گفتگو شروع کیاکہ اُن کونہ شروع کرنا چاہیے تھامگر آپ سب کچھ نہایت ہی خندہ پیشانی سے سنتے اَور نہایت مناسب جوابات عنایت فرماتے تھے۔ غرضیکہ آپ کی زندگی کا ہر گوشہ نہایت مکمل ہے جس گوشہ کواُٹھاکر دیکھیے اَپنی نظیر آپ ہوگا۔ 
جان کر منجلمۂ خاصانِ میخانہ اُنہیں 	مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ اُنہیں 
رُفقارِ کار کے ساتھ  :
دارُ العلوم دیوبند اَور جمعیت آپ کے محبوب ترین اِدارے تھے اِن دونوں اِداروں کے کارکنان حضرت کی رفاقت پر جتنا بھی فخر کریں کم ہے۔ اِن دونوں اِداروں کے کارکنان حضرت کی وجہ سے مطمئن تھے تقسیم ِکار تو ضرور ہوتی تھی لیکن تکمیل ِکار حضرت کے دم قدم سے تھی، جو کام بھی اِدارہ آپ کے سپرد کرتا اُس کی اَنجام دہی میں دن رات ایک کردیتے تھے۔ چنانچہ جمعیت نے تحریک ِ آزادی کے سلسلے میں متعدد تجویزیں منظور کیں اُن سب کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے والے آپ ہی ہوتے تھے ۔اگر خدام کبھی عرض کرتے حضرت کچھ آرام کرلیجیے یا اِس وقت غنڈوں کی طرف سے خطرہ ہے کہ کہیں آپ پر حملہ نہ کریں (متعدد بار آپ پر حملے ہوئے اَور قتل کرنے کی ناپاک کوششیں کی گئیں) لیکن یہی فرمادیتے تھے میں جمعیت کا اَدنیٰ خادم ہوں جمعیت نے جو کام میرے سپرد کیا ہے اُس کو اِنشاء اللہ ضرور پورا کروں گا چاہے جو کچھ ہو۔ 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 7 1
4 اِسلامی جنگی مہم کے بعد مشکلات جنم نہیں لیتیں : 9 3
5 مفتوحہ علاقوں کی عورتوں کے ساتھ سلوک : 9 3
6 مفتوحہ علاقوں کے لوگ بخوشی اِسلام قبول کرتے رہے کسی پر جبر نہیں کیا گیا : 9 3
7 بادشاہوں کا ظالمانہ روّیہ : 10 3
8 حضرت اَبوبکر کی ہدایات ،ایک خاص دُعا اَور اُس کی وجہ : 11 3
9 خلافت علی منہاج النبوة اَور عام خلافت میں فرق : 12 3
10 دارُالخلافہ کی مدینہ منورہ سے کوفہ منتقلی : 12 3
11 بعد والوں کے لیے حضرت معاویہ کا طرز ممکن العمل ہے : 13 3
12 مسئلہ رجم 15 1
13 اِمام شافعی فرماتے ہیں : 16 12
14 قسط : ١٠ اَنفَاسِ قدسیہ 28 1
16 رُفقائِ سفر کے ساتھ : 28 14
17 قسط : ٢٧ تربیت ِ اَولاد 32 1
18 ( حقوق کا بیان ) 32 17
19 اَولاد کے حقوق میں کوتاہی اَور اُس کا نتیجہ : 32 17
20 اَولاد خبیث اَور بدمعاش کیسے ہوجاتی ہے : 33 17
21 بچوں کے اَخلاق اَورعادتیں کیسے خراب ہوجاتی ہیں : 33 17
22 چوری کی عادت رفتہ رفتہ ہوتی ہے : 34 17
23 آج کل کی تعلیم وتربیت کے برے نتائج : 34 17
24 بدحالی کا تدارک اَور اِصلاح کا طریقہ : 35 17
25 قسط : ٤ حضرت اِمام حسن بن علی رضی اللہ عنہما 36 1
26 حُلیہ مبارک : 36 25
27 اَزدواج کی کثرت : 36 25
28 بیویوں سے برتاؤ : 36 25
29 اَولاد : 37 25
30 ذریعہ معاش : 37 25
31 فضل وکمال : 38 25
32 حدیث : 38 25
33 خطابت : 38 25
34 شاعری : 40 25
35 حکیمانہ اَقوال : 40 25
36 اَخلاق وعادات : 41 25
37 اِستغنا ء وبے نیازی : 41 25
38 وفیات 42 1
39 قسط : ٣ ، آخری 43 1
40 دارُالعلوم کے مردِ دَانا و دَرویش کی رِحلت 43 39
41 نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہوتا ہے : 47 39
42 مولانا کی کارگاہِ سیاست 55 1
43 اَذان کی عظمت و شان مَد کی دَرازی سے ہے 59 1
44 دینی مسائل ( وقف کا بیان ) 62 1
45 وقف کیسے لازم اَور مکمل ہوتا ہے : 62 44
46 وقف کا حکم : 62 44
47 متولی وقف کی معزولی : 62 44
48 اَراضی وقف کو اجارہ طویلہ پر دینا : 63 44
Flag Counter