ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011 |
اكستان |
|
کسی اِدارہ میں جب بہت سے آدمی کام کرنے والے ہوتے ہیں تو ایک دُوسرے پر کام کو ٹالنے لگتے ہیں اَور طرح طرح کے اَعذار پیش کرنے لگتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اچھی اچھی اسکیمیں فیل ہوجاتی ہے۔ اَوّل تو آپ نے کبھی ایسا موقع پیدا نہیں ہونے دیا اَور اگر کبھی ہو بھی گیا تو بڑھ کر آپ نے خود اُس کام کو پورا کردیا۔ تقسیم ِ ہند سے پیشتر ضلع گوڑ گائوں میں جمعیت کا جلسہ تھا، حضرت نے فرمایا کہ فلاں فلاں چلا جائے چنانچہ اُن لوگوں نے اپنے اپنے اَعذار بیان کردیے تب حضرت نے فرمایا کہ جب کوئی نہیں جاتا تو میں جاتا ہوں اَور دیکھوں کہ جلسہ کامیاب ہوتا ہے کہ نہیں۔یہ دیکھ کر سب رُفقاء ساتھ ہولیے اَور جلسہ نہایت شاندار طریقہ پر کامیاب ہوا۔ (اَز مولانا سلطان الحق صاحب) ا١٣٧ ھ میں دارُالعلوم کی مجلس ِ علمیہ نے طے کیا کہ مدرسین رات کو طلباء کے حجروں کا گشت کیا کریں اَور پتہ لگائیں کہ طلباء رات کو پڑھتے ہیں یا سوجاتے ہیں چنانچہ مدرسین کی جماعتیں بنادی گئیں ۔حضرت بھی باوجودیکہ رات کو بارہ بجے تک درس دیتے تھے لیکن اَور مدرسین کی طرح گشت بھی کیا کرتے تھے چنددِن کے بعد تمام اَساتذہ نے عرض کیاحضرت آپ ضعیف ہیں آپ گشت نہ کیا کریں۔ آپ کی باری ہم لوگ کام کیا کریں گے چنانچہ بڑ ی مشکل سے اِس کو منظور کیا۔ اگرچہ آپ کے سپرد درس ہی کی خدمت تھی لیکن دارُالعلوم کے تمام شعبوں کا خیال رکھتے تھے اَور اَسفار سے ہزاروں روپیہ وصول کر کے دارُالعلوم کے لیے لاتے تھے لیکن آپ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ میں دارُالعلوم کااِتناکام کرتا ہوں۔ علاوہ اَزیں عمر اَور فضل و کمال کے اعتبار سے آپ سب سے بڑے تھے لیکن بایں ہمہ آپ مہتمم صاحب کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ وہ ہمارے اَفسر ہیں اَور میں تو اُن کا اَدنیٰ درجے کا خادم ہوں۔ غرضیکہ ہر دواِدارے آپ کے دم قدم سے ترو تازہ تھے گویاکہ آپ اُن دونوں اِداروں کی رُوحِ رواں تھے، ہر دواِدارے اپنے اِس مردِ مجاہد کوتابقا و قیام یاد رکھیں گے۔ دل ہمارے یادِ عہدِ رفتہ سے خالی نہیں اپنے شاہوں کو یہ اُمت بھولنے والی نہیں (جاری ہے)