ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011 |
اكستان |
|
وَرَوٰی نَحْوَہ اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ خَالِدِ الْاَحْمَرُ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الْمُغِیْرَةِ الطَّائفِیِّ عَنِ ابْنِ شَدَّادٍ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَ عَنْھُمْ ۔(کتاب الحدود من مصنَّف لابن ابی شیبةج ٣ ص ٨٣٢ النُسخة القلمیہ) اِسی طرح مصنف ابن اَبی شیبہ میں بھی ہے بِسَنَدِہ نیز غامدیہ کی روایت ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٨٣٧ پر ہے۔ اَور دُوسری عورت کے قصہ میں اُنہوں نے روایت میں حسن بصری کایہ جملہ نقل کیاہے فَتَطَھَّرَتْ وَلَبِسَتْ اَکْفَانَھَا۔ (ج ٣ ص ٨٣٧) اُس نے بدن خوب پاک کر لیا (غسل وغیرہ کرکے) اَور اپنے کفن کے کپڑے پہنے۔ ابن ِاَبی شیبہ رحمہ اللہ نے یہ سب روایتیں اپنی مصنف کی جلد سوم میں ص ٨٣١ سے ص٧٣٤ تک تحریر کی ہیں اُنہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ، جابر بن سمرہ ،نصر، اَبوبکر، اَبوہریرہ ،بریدہ اَسلمی ،ابن عباس، اَبوسعید، ابن اَبی اَوفی اَور حضرت اَبو برزہ اَسلمی رضی اللہ عنہم کی روایات بھی ج ٣ میں تحریر کی ہیں ۔ فقہ حنبلی کی معروف ترین کتاب '' اَلْمُغْنِی ''کی کتاب الحدود میں ہے :قَالَ اَبُو الْقَاسِمِ رَحِمَہُ اللّٰہُ اِذَا زَنٰی اَلْحُرُّ الْمُحْصِنُ اَوِالْحُرَّةُ الْمُحْصِنَةُ جُلِدَا وَ رُجِمَا حَتّٰی یَمُوْتَا فِیْ اِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ رَحِمَہُ اللّٰہُ وَالرِّوَایَةُ الْاُخْرٰی یُرْجَمَانِ وَلَایُجْلَدَانِ لِکَلَامٍ فِیْ ھٰذِہِ الْمَسْئَلَةِ فِیْ فُصُوْلٍ ثَلاثَةٍ اَحَدُھَا فِیْ وُجُوْبِ الرَّجْمِ عَلَی الزَّانِی الْمُحْصِنِ رَجُلًا اَوِ امْرَأَةً وَھٰذَا قَوْلُ عَامَةِ اَھْلِ الْعِلْمِ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِیِْنَ وَمَنْ بَعْدَھُمْ مِّنْ عُلَمَائِ الْاَمْصَارِ فِیْ جَمِیْعِ الْاَعْصَارِ وَلَانَعْلَمُ فِیْہِ مُخَالِفًا اِلَّاالْخَوَارِجَ ۔ (المغنی لا بن قدامہ ج ٨ ص ١٥٧) '' اَبو القاسم رحمہ اللہ نے فرمایا : جب کوئی آزاد محصن (شادی شدہ ) مرد یاعورت زنا کریں تو اِمام اَحمد رحمة اللہ علیہ کا ایک قول یہ ہے کہ اُن کے کوڑے بھی لگائے جائیں گے