ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011 |
اكستان |
|
(٢١) حضرت نعیم بن ہزال کی روایت حضرت ماعز کے بارے میں۔ (٢٢ تا ٣٤) حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے حضرت ماعز رضی اللہ عنہ کے بارے میں پانچ روایات اَور اِن ہی کے واقعہ کے بارے میں حضرت اَبو بکر صدیق، حضرت اَبو ہریرہ، حضرت بریرہ اَسلمی، حضرت جابر بن عبد اللہ کی اَور حضرت عبد اللہ بن عباس کی متعدد روایتیں۔ حضرت نصر بن دھراَسلمی ،حضرت سہل بن سعد، حضرت اَبو سعید خدری کی روایت رضی اللہ عنہم۔ (٣٥) عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ۖ فِیْ سَفَرٍ فَاَتَاہُ رَجُل فَقَالَ اِنَّ الْاَخِرَ قَدْ زَنٰی فَاَعْرَضَ عَنْہُ ثُمَّ ثَلَّثَ ثُمَّ رَبَّعَ فَنَزَلَ النَّبِیُّ ۖ وَقَالَ مَرَّةً فَاَقَرَّ عِنْدَہ بِالزِّنَا فَرَدَّدَہ اَرْبَعًا ثُمَّ نَزَلَ فَاَمَرَنَا فَحَفَرْنَا لَہ حَفِیْرَةً لَیْسَتْ بِالطَّوِیْلَةِ فَرَجَمَ فَارْتَحَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ۖ کَئِیْبًا حَزِیْنًا فَسِرْنَا حَتّٰی نَزَلَ مَنْزِلًا فَسُرِّیَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ۖ فَقَالَ لِیْ یَااَبَاذَرٍّ اَلَمْ تَرَ اِلٰی صَاحِبِکُمْ غُفِرَلَہ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ ۔(مسند احمد بن حنبل،الفتح الربانی الجز ١٦ من ص ٨١ الی ١٠٥) ''حضرت اَبو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم جناب ِ رسول اللہ ۖ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ایک شخص نے آکر کہا کہ اِس تباہ حال نے زِنا کا اِرتکاب کیا ہے۔ آپ نے اُس سے اِعراض فرمایا۔اُس نے (باربار) تیسری دفعہ پھر چوتھی دفعہ یہی کہا تو آپ اُترے اَور ایک دفعہ (مزید وضاحت سے) فرمایا تھا کہ آپ ۖ نے اُسے چاردفعہ لوٹایا تھاپھر بالآخراُترے ہمیں حکم دیا ہم نے اُس کے لیے چھوٹا سا گڑھاکھودا جولمبا نہ تھا۔ آپ نے اُسے رجم کیا۔ (وہاں سے) جناب ِ رسول اللہ ۖ بے چین اَور غمگین روانہ ہوئے ہم چلتے رہے حتی کہ آپ ایک منزل پر اُترے (پڑاؤ ڈالا) تو جناب ِ رسول اللہ ۖ کی بے چینی اَور حزن کی کیفیت جاتی رہی۔ آپ نے مجھ سے اِرشاد فرمایا اَے اَبو ذر! کیا تمہیں پتہ نہیں کہ تمہارے اِس رجم شدہ ساتھی کو اللہ تعالیٰ نے بخش دیا اَور اُسے جنت میں داخل فرما دیا ہے۔''