ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011 |
اكستان |
|
(١٥) حضرت اَبو ذر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے : اَنَّ النَّبِیَّ ۖ رَجَمَ امْرَأَةً فَاَمَرَنِیْ اَنْ اَحْفِرَ لَھَا فَحَفَرْتُ لَھَا اِلٰی سُرَّتِیْ'' جناب ِ رسول اللہ ۖ نے ایک عورت کو رجم کیا تو مجھے حکم فرمایا کہ میں اُس کے لیے گڑھا کھودوں تو میں نے اپنی ناف تک آنے والاگڑھا کھودا۔ '' (١٦) حضرت اَبو ہریرہ اَور زید بن خالد الجہنی کی مذکوہ سابق روایت جس میں جنابِ رسول اللہ ۖ نے مزدوری پر کام کرنے والے لڑکے کو کوڑے لگانے کا حکم فرمایا اَور عورت کے اِعتراف کرلینے پر اُسے رجم فرمایا۔ (١٧) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًا۔ (١٨) حضرت سلمة بن المُحبق کی روایت جو اِسی مضمون کی ہے۔ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ اُتِیَ عَلِیّ بِزَانٍ مُّحْصِنٍ فَجَلَدَہ یَوْمَ الْخَمِیْسِ مَأَةَ جَلْدَةٍ ثُمَّ رَجَمَہ یَوْمَ الْجُمُعَةِ ۔ فَقِیْلَ لَہ جَمَعْتَ عَلَیْہِ حَدَّیْنِ فَقَالَ جَلَدْتُّہ بِکِتَابِ اللّٰہِ وَرَجَمْتُہ بِسُنَّةِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ۖ ۔ ''شعبی فرماتے ہیںکہ حضرت علی کے پاس ایک شادی شدہ زانی شخص کو لایاگیاآپ نے جمعرات کے دِن اُس کے سو کوڑے لگوائے پھر جمعہ کے دِن اُسے رجم کیاآپ سے کہا گیا کہ آپ نے اِس کے اُوپر دو حدیں جمع کردیں۔ فرمایا میں نے اِس کے کوڑے تو کتاب اللہ میں حکم کی وجہ سے لگائے اَور رجم سنت ِرسول اللہ کے تحت کیا ہے۔ '' (١٩) حضرت اَبوبرزہ رضی اللہ عنہ کی روایت کہ آپ نے ہم میں سے یعنی اَسلمی لوگوں میںسے حضرت ماعز کو رجم کیا۔ (٢٠) حضرت جابر رضی اللہ عنہ.... رَجَمَ (رَسُوْلُ اللّٰہِ ۖ ) رَجُلًا مِّنْ اَسْلَمَ وَرَجُلًا مِّنَ الْیَہُوْدِ وَامْرَأَةً ۔ (رواہ اَبو بکر ابن ابی شیبہ نحوہ ص٨٣١ ) ''ایک اَسلمی شخص کو ایک یہودی مرد کو اَور ایک یہودی عورت کوجناب ِ رسول اللہ ۖ نے رجم کیا۔ ''