ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011 |
اكستان |
|
جب دُودھ چھوٹ جائے تب آنااَبھی بچہ کو دُودھ پلاؤ۔ اُس کا دُودھ چھڑانے کے بعد جب آئیں تو بچہ کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑہ تھاآپ نے بچہ کے فرائض ِتربیت ایک صحابی کے سپرد کیے اِن کیلیے رجم کا حکم فرمایا جس کے لیے پستانوں تک گڑھا کھودا گیا۔اُن لوگوں میںجو رجم کر رہے تھے حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ بھی تھے اُنہوںنے ایک پتھر اُن کے سر پر مارا تو اُس کے خون کا چھینٹا حضرت خالد کے چہرے پر آیا۔ اُنہوں نے اِس کے بارے میں بُرے کلمات کہے۔ اِن کی بات جناب ِ رسول اللہ ۖ نے سنی تو اُنہیں برے کلمات کہنے سے منع فرمایا اَور فرمایا : فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْتَابَھَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَغُفِرَلَہ (یہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ میں بھی ہے ج ٣ ص ٨٣٧ ) ''قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اِس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر (ظالم) مُحصِّل یہ توبہ کرتا تو قبول کرلی جاتی۔ (ظلم سے ٹیکس وصول کرنے میں بہت سے لوگوں کے حقوق اُس کے ذمہ ہوجاتے ہیں )۔ '' (١٤) مسنداَحمد میںاِسی قسم کا واقعہ ایک اَور صحابیہ کا حضرت اَبوبکر ہ رضی اللہ عنہا و عنہم سے روایت فرمایا ہے۔ اُنہیں بھی رجم کیا گیا اُنہوں نے بھی اِسی طرح خود پر حد جاری کرنے کے لیے اِصرار کیا آپ خچر پر سوار تھے اُس کی لگام پکڑ لی اَور قسم دے کر گزارش کی ۔آپ نے اِرشاد فرمایا کہ پیدائش سے فراغت کے بعد آناوہ پھر آئیں تو فرمایا کہ چلّہ پورا ہوجائے تب آنا آپ نے عورتوں کے ذریعہ معلومات کے بعد رجم کا حکم فرمایا ۔اُن کے لیے ایک ایسا گڑھا بنادیا گیا جس میں ناف کے اُوپر پستان تک کا حصہ چھپا رہے بے پردگی نہ ہو۔ جناب ِ رسول اللہ ۖ نے ایک چنے کے دانے کے برابر کنکر لی وہ ماری پھر آپ یہ فرما کر تشریف لے گئے کہ تم لوگ مارو اَور اِس کے چہرے پر ہر گزنہ مارنا، جب وہ سردہو گئیں تو غسل وکفن کے بعد آپ نے اُس کی نماز ِجنازہ بھی پڑھائی اَور فرمایا : لَوْ قُسِّمَ اَجْرُھَا بَیْنَ اَھْلِ الْحِجَازِ لَوَسِعَھُمْ اگر اِس کا ثواب اہل حجاز میں تقسیم کیا جاتا تو سب کو کافی ہوتا۔ حضرت اَبوبکرہ کی روایت میں ہے : اَنَّ النَّبِیَّ ۖ رَجَمَ امْرَأَةً فَحَفَرَ لَھَا اِلَی الثَّنْدوةِ جناب ِ رسول اللہ ۖ نے ایک عورت کو رجم کیا تو اُس کے سینہ (پستانوں ) تک گڑھا کھودا گیا ۔