Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011

اكستان

23 - 64
جب دُودھ چھوٹ جائے تب آنااَبھی بچہ کو دُودھ پلاؤ۔ اُس کا دُودھ چھڑانے کے بعد جب آئیں تو بچہ کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑہ تھاآپ نے بچہ کے فرائض ِتربیت ایک صحابی کے سپرد کیے اِن کیلیے رجم کا حکم فرمایا جس کے لیے پستانوں تک گڑھا کھودا گیا۔اُن لوگوں میںجو رجم کر رہے تھے حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ  بھی تھے اُنہوںنے ایک پتھر اُن کے سر پر مارا تو اُس کے خون کا چھینٹا حضرت خالد کے چہرے پر آیا۔ اُنہوں نے اِس کے بارے میں بُرے کلمات کہے۔ اِن کی بات جناب ِ رسول اللہ  ۖ  نے سنی تو اُنہیں برے کلمات کہنے سے منع فرمایا اَور فرمایا  :
فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْتَابَھَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَغُفِرَلَہ (یہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ میں بھی ہے  ج ٣  ص ٨٣٧ )
''قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اِس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر (ظالم) مُحصِّل یہ توبہ کرتا تو قبول کرلی جاتی۔ (ظلم سے ٹیکس وصول کرنے میں بہت سے لوگوں کے حقوق اُس کے ذمہ ہوجاتے ہیں )۔ ''
(١٤)  مسنداَحمد میںاِسی قسم کا واقعہ ایک اَور صحابیہ کا حضرت اَبوبکر ہ رضی اللہ عنہا و عنہم سے روایت  فرمایا ہے۔ اُنہیں بھی رجم کیا گیا اُنہوں نے بھی اِسی طرح خود پر حد جاری کرنے کے لیے اِصرار کیا آپ خچر پر سوار تھے اُس کی لگام پکڑ لی اَور قسم دے کر گزارش کی ۔آپ نے اِرشاد فرمایا کہ پیدائش سے فراغت کے بعد آناوہ پھر آئیں تو فرمایا کہ چلّہ پورا ہوجائے تب آنا آپ نے عورتوں کے ذریعہ معلومات کے بعد رجم کا حکم فرمایا ۔اُن کے لیے ایک ایسا گڑھا بنادیا گیا جس میں ناف کے اُوپر پستان تک کا حصہ چھپا رہے بے پردگی نہ ہو۔ جناب ِ رسول اللہ  ۖ نے ایک چنے کے دانے کے برابر کنکر لی وہ ماری پھر آپ یہ فرما کر تشریف لے گئے کہ تم لوگ مارو اَور اِس کے چہرے پر ہر گزنہ مارنا، جب وہ سردہو گئیں تو غسل وکفن کے بعد آپ نے اُس کی نماز ِجنازہ بھی پڑھائی اَور فرمایا   :  لَوْ قُسِّمَ اَجْرُھَا بَیْنَ اَھْلِ الْحِجَازِ لَوَسِعَھُمْ  اگر اِس کا ثواب اہل حجاز میں تقسیم کیا جاتا تو سب کو کافی ہوتا۔ 
حضرت اَبوبکرہ کی روایت میں ہے  :  اَنَّ النَّبِیَّ  ۖ رَجَمَ امْرَأَةً فَحَفَرَ لَھَا اِلَی الثَّنْدوةِ   جناب ِ رسول اللہ  ۖ  نے ایک عورت کو رجم کیا تو اُس کے سینہ (پستانوں ) تک گڑھا کھودا گیا ۔
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 7 1
4 اِسلامی جنگی مہم کے بعد مشکلات جنم نہیں لیتیں : 9 3
5 مفتوحہ علاقوں کی عورتوں کے ساتھ سلوک : 9 3
6 مفتوحہ علاقوں کے لوگ بخوشی اِسلام قبول کرتے رہے کسی پر جبر نہیں کیا گیا : 9 3
7 بادشاہوں کا ظالمانہ روّیہ : 10 3
8 حضرت اَبوبکر کی ہدایات ،ایک خاص دُعا اَور اُس کی وجہ : 11 3
9 خلافت علی منہاج النبوة اَور عام خلافت میں فرق : 12 3
10 دارُالخلافہ کی مدینہ منورہ سے کوفہ منتقلی : 12 3
11 بعد والوں کے لیے حضرت معاویہ کا طرز ممکن العمل ہے : 13 3
12 مسئلہ رجم 15 1
13 اِمام شافعی فرماتے ہیں : 16 12
14 قسط : ١٠ اَنفَاسِ قدسیہ 28 1
16 رُفقائِ سفر کے ساتھ : 28 14
17 قسط : ٢٧ تربیت ِ اَولاد 32 1
18 ( حقوق کا بیان ) 32 17
19 اَولاد کے حقوق میں کوتاہی اَور اُس کا نتیجہ : 32 17
20 اَولاد خبیث اَور بدمعاش کیسے ہوجاتی ہے : 33 17
21 بچوں کے اَخلاق اَورعادتیں کیسے خراب ہوجاتی ہیں : 33 17
22 چوری کی عادت رفتہ رفتہ ہوتی ہے : 34 17
23 آج کل کی تعلیم وتربیت کے برے نتائج : 34 17
24 بدحالی کا تدارک اَور اِصلاح کا طریقہ : 35 17
25 قسط : ٤ حضرت اِمام حسن بن علی رضی اللہ عنہما 36 1
26 حُلیہ مبارک : 36 25
27 اَزدواج کی کثرت : 36 25
28 بیویوں سے برتاؤ : 36 25
29 اَولاد : 37 25
30 ذریعہ معاش : 37 25
31 فضل وکمال : 38 25
32 حدیث : 38 25
33 خطابت : 38 25
34 شاعری : 40 25
35 حکیمانہ اَقوال : 40 25
36 اَخلاق وعادات : 41 25
37 اِستغنا ء وبے نیازی : 41 25
38 وفیات 42 1
39 قسط : ٣ ، آخری 43 1
40 دارُالعلوم کے مردِ دَانا و دَرویش کی رِحلت 43 39
41 نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہوتا ہے : 47 39
42 مولانا کی کارگاہِ سیاست 55 1
43 اَذان کی عظمت و شان مَد کی دَرازی سے ہے 59 1
44 دینی مسائل ( وقف کا بیان ) 62 1
45 وقف کیسے لازم اَور مکمل ہوتا ہے : 62 44
46 وقف کا حکم : 62 44
47 متولی وقف کی معزولی : 62 44
48 اَراضی وقف کو اجارہ طویلہ پر دینا : 63 44
Flag Counter