ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011 |
اكستان |
|
جنابِ رسول اللہ ۖ نے اُس نوجوان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم شادی شدہ ہو۔ اُس نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ نے اُس کے رجم کا حکم دے دیا ہم نے رجم کرنے کے لیے گڑھا کھودا حتی کہ ہمارے لیے سنگسار کرنا آسان ہو گیا پھر رجم کیا حتی کہ وہ بالکل بے حرکت (بے جان مردہ )ہوگیا۔ پھر ہم اپنی اپنی جگہوں پر چلے آئے۔ اَبھی ہم کام میں لگے ہی تھے کہ ایک بوڑھا شخص اُس نوجوان کے بارے میں پوچھتا ہوا آیا۔ ہم نے اُس کے کپڑے جو اُس کے گردن پر تھے پکڑ کراُسے رسول اللہ ۖ کے پاس لے آئے اَور عرض کیا کہ اے خدا کے رسول یہ شخص اُس خبیث کے بارے میں پوچھتا ہوا آیا ہے۔ اِنَّ ھٰذَا جَائَ یَسْئَلُ عَنْ ھٰذَا الْخَبِیْثِ فَقَالَ مَہْ لَھُوَ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ رِیْحًا مِّنَ الْمِسْکِ قَالَ فَذَھَبْنَا فَاَعِنَّاہُ عَلٰی غُسْلِہ وَتَکْفِیْنِہ وَ حَفَرْنَا لَہ وَلَمْ اَدْرِ اَ ذَکَرَ الصَّلٰوةَ اَمْ لَا ۔ ( مسند احمد) ''آپ نے اِرشاد فرمایا بس۔ وہ نوجوان یقینا بِلا شبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ عمدہ خوشبو والا ہے (نہ کہ خبیث گندہ) لَجْلَاجْ فرماتے ہیں کہ پھر ہم اُس بوڑھے صحابی کے ساتھ گئے اَور اُس نوجوان کے غسل کفن اَور قبر میں اُس کی مدد کی۔ حضرت لَجْلَاجْ کے بیٹے سے نیچے جو حدیث کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ اُنہوں نے اِس پر نماز کا بھی ذکر کیا یا نہیں؟ '' (١٣) مصنف عبدالرزاق کے حوالہ سے حضرت عمران بن حصین کی روایت میں جُہَنِیَّةَ صحابیہ کا واقعہ گزرا ہے ۔ یہ صحابیہ جُہَنِیَّةَ بھی کہلاتی ہیں کیونکہ'' غامد'' ''جُہَنِیَّةَ '' کی ایک گوتھ ہے۔ یہ واقعہ مسند اَحمد میں حضرت عمران بن حصین اَور حضرت بریدہ اَسلمی سے نقل کیا ہے اُس میں ہے کہ وہ خود آکر عرض کرتی رہیں وَاَنَا اُرِیْدُ اَنْ تُطَھِّرَنِیْ میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے حد جاری کر کے اِس گناہ سے پاک کردیں کیونکہ آپ نے اُس سے فرمایا تھا اِسْتَتِرِیْ بِسِتْرِاللّٰہِ اللہ نے جو پردہ رکھا ہے اُس میں ہی رہویعنی گناہ کا اِظہار نہ کرو۔ لیکن یہ دُوسرے دِن پھر آئیں پھر تیسرے دِن آئیں اَور عرض کرنے لگیں کہ شاید آپ مجھے ماعز کی طرح لوٹا رہے ہیں فرمایا وِلادت سے فراغت کے بعد آنا وہ اِتنے عرصہ کے بعد پھر آگئیں تو اِرشاد فرمایا کہ