ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011 |
اكستان |
|
(د) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ جنابِ رسول اللہ ۖ نے (تہجد کے وقت میرے حجرے میں ہی مسجد میں پڑھنے والے) ایک صحابی (حضرت عباد) کی آوازسُنی آپ ۖ نے اِرشاد فرمایا : رَحِمَہُ اللّٰہُ لَقَدْ اَذْکَرَنِیْ اٰیَةَ کَذَا وَ کَذَا اَسْقَطْتُّھُنَّ مِنْ سُوْرَةِ کَذَا وَ کَذَا ۔ ( بخاری ص ٣٦٢ ج ١) اللہ اِس پر رحمت کرے اِس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد دِلادی جومیں نے فلاں فلاں سورتوں میں سے ساقط کردی تھیں یعنی وہ منسوخ ہوگئی تھیں اِس سے سُن کر یاد آئیں، یہ مسند اَحمد کی روایت میں سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اِرشاد کی تشریح ہے۔ (١٠) مسند اَحمد میںحضرت سہل بن سعد کی روایت میں ہے کہ حضرت ماعز نے تواِقرار کر لیا تھا لیکن اُس عورت نے اِنکار کردیا تھاآپ نے اُسے چھوڑ دیا فَاَ نْکَرَتْ فَحَدَّہ وَ تَرَکَھَا (مُسند احمد ) (١١) حضرت بریدہ کی روایت میں ہے :کُنَّا نَتَحَدَّثُ اَصْحَابُ النَّبِیِّ ۖ بَیْنَنَا اَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ لَوْ جَلَسَ فِیْ رَحْلِہ بَعْدَ اِعْتِرَافِہ ثَلاثَ مِرَارٍ لَمْ یَطْلُبْہُ وَاِنَّمَا رَجَمَہ عِنْدَ الرَّابِعَةِ۔ (مسند احمد) ''ہم جناب رسول اللہ ۖ کے صحابی آپس میں یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ حضرت ماعز اگر تین دفعہ اعتراف کے بعد بھی اپنے گھر بیٹھے رہتے تو رسول اللہ ۖ اُنہیں (پھر بھی نہ بُلاتے) چوتھی دفعہ جب وہ گئے تب آپ نے رجم کا حکم دیا۔ '' (١٢) مسند اَحمد میں حضرت لجلاج کی روایت میں ایک اَور لڑکے کا واقعہ اِس طرح نقل کیا گیا ہے کہ ہم بازار میں تھے ایک عورت بچہ اُٹھائے گزری لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے میں بھی اُن کے ساتھ اُٹھ کر چل دیا۔ میں جب جناب ِ رسول اللہ ۖ کے پاس پہنچا ہوں توآپ اُس لڑکی سے دریافت فرمار ہے تھے کہ اِس کا باپ کون ہے؟ وہ چپ رہی پھر دوبارہ سوال پر بھی چپ رہی تو ایک نوجوان نے جو اُس کے قریب کھڑا تھا عرض کیا یارسول اللہ !یہ لڑکی کم عمر ہے اَور رُسوائی کے ماحول میں بالکل نئی ہے اُس نے تو جناب کو نہیں بتلایا میں اِس کا باپ ہوں۔ آپ نے اپنے گرد لوگوں پر نظر ڈالی۔ وہ کہنے لگے ہم تو اِس کے بارے میں اچھائی ہی جانتے ہیں یا(لوگوں نے) اِس کے ہم معنی جملے کہے۔