Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011

اكستان

20 - 64
ورنہ ہر صحابی اُسی آیت و حکم و روایت اَور طریقہ پر قائم رہا ہے جو اُس نے خود جناب رسول اللہ  ۖ سے دیکھا اَور سنا تھا اِس کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں  : 
(الف )  حضرت اَبوالدردا ء رضی اللہ عنہ شام میں اَور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فہ میں سُورة وَاللَّیْلِ میں وَمَاخَلَقَ الذَّکَرَوَالْاُنْثٰی نہیں پڑھتے تھے بلکہ'' وَالذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی '' پڑھتے رہے ہیں۔ حضرت اَبو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں اَور میں نے رسول اللہ  ۖ  کو اِسی طرح پڑھتے سنا ہے  وَاللّٰہِ لَا اُتَابِعُھُمْ  اللہ کی قسم میں اِن کے پیچھے نہ چلوں گا( اِن کی بات نہ مانوں گا)۔(لیکن اِن حضرات کے شاگردوںنے دیگر صحابہ کرام سے''  وَمَاخَلَقَ  '' کا جملہ تواتر سے سنا تو اہلِ شام اَور اہلِ کوفہ  نے یہی پڑھنا شروع کیاقراء تِ شامی اَور کوفی یہی رہی ہے جو آج بھی ہے )۔(روایات ملا حظہ ہوںبخاری ص ٧٣٧  جلد دوم) 
(ب )  اِسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سورہ بقرہ کی آیات نمبر١٩٨میں  پ ٢  رکوع ٩ میں '' فِیْ مَوَاسِمِ الْحَج ''کا جملہ بڑھا کر پڑھتے تھے جو منسوخ ہے ۔وہ پڑھتے تھے لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاح اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ فِیْ مَوَاسِمِ الْحَجِّ ۔ (بخاری ص ٢٣٨جلد اَول  و  اَیضاً  ص٦٤٨ج ٢)
(ج)  حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ قائل ہی نہ تھے کہ کوئی آیت منسوخ التلاوت ہوئی ہے ۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  : 
اَقْرَأُنَا اُبَیّ وَاَقْضَانَا عَلِیّ وَاِنَّا لَنَدَعُ مِنْ قَوْلِ اُبَیٍّ وَذٰلِکَ اَنَّ اُبَیًّا یَقُوْلُ لَااَدَعُ شَیْئًا سَمِعْتُہ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ  ۖ  وَقَدْ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِھَا ۔ (بخاری ص ٦٤٤ ج ٢)
''ہم میں بہترین قاری حضرت  اُبَیْ  ہیں اَور بہترین فیصلہ دینے والے علی ہیںاَور ہم ضرور اُبی کی بات چھوڑ دیتے ہیں اَور یہ اِس لیے کرتے ہیں کہ اُبی کہتے ہیں کہ میں کوئی بھی چیز جو میں نے خود رسول اللہ  ۖ  سے سنی ہے نہیں چھوڑوں گا حالانکہ حق تعالیٰ نے اِرشاد فرمایا ہے کہ ہم جو آیت منسوخ کر دیتے ہیں یا بُھلا دیتے ہیں (تو وقت گزرنے کے ساتھ اُس سے بہتر یا اُسی جیسا دُوسرا مفید حکم لاتے ہیں)۔'' 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 7 1
4 اِسلامی جنگی مہم کے بعد مشکلات جنم نہیں لیتیں : 9 3
5 مفتوحہ علاقوں کی عورتوں کے ساتھ سلوک : 9 3
6 مفتوحہ علاقوں کے لوگ بخوشی اِسلام قبول کرتے رہے کسی پر جبر نہیں کیا گیا : 9 3
7 بادشاہوں کا ظالمانہ روّیہ : 10 3
8 حضرت اَبوبکر کی ہدایات ،ایک خاص دُعا اَور اُس کی وجہ : 11 3
9 خلافت علی منہاج النبوة اَور عام خلافت میں فرق : 12 3
10 دارُالخلافہ کی مدینہ منورہ سے کوفہ منتقلی : 12 3
11 بعد والوں کے لیے حضرت معاویہ کا طرز ممکن العمل ہے : 13 3
12 مسئلہ رجم 15 1
13 اِمام شافعی فرماتے ہیں : 16 12
14 قسط : ١٠ اَنفَاسِ قدسیہ 28 1
16 رُفقائِ سفر کے ساتھ : 28 14
17 قسط : ٢٧ تربیت ِ اَولاد 32 1
18 ( حقوق کا بیان ) 32 17
19 اَولاد کے حقوق میں کوتاہی اَور اُس کا نتیجہ : 32 17
20 اَولاد خبیث اَور بدمعاش کیسے ہوجاتی ہے : 33 17
21 بچوں کے اَخلاق اَورعادتیں کیسے خراب ہوجاتی ہیں : 33 17
22 چوری کی عادت رفتہ رفتہ ہوتی ہے : 34 17
23 آج کل کی تعلیم وتربیت کے برے نتائج : 34 17
24 بدحالی کا تدارک اَور اِصلاح کا طریقہ : 35 17
25 قسط : ٤ حضرت اِمام حسن بن علی رضی اللہ عنہما 36 1
26 حُلیہ مبارک : 36 25
27 اَزدواج کی کثرت : 36 25
28 بیویوں سے برتاؤ : 36 25
29 اَولاد : 37 25
30 ذریعہ معاش : 37 25
31 فضل وکمال : 38 25
32 حدیث : 38 25
33 خطابت : 38 25
34 شاعری : 40 25
35 حکیمانہ اَقوال : 40 25
36 اَخلاق وعادات : 41 25
37 اِستغنا ء وبے نیازی : 41 25
38 وفیات 42 1
39 قسط : ٣ ، آخری 43 1
40 دارُالعلوم کے مردِ دَانا و دَرویش کی رِحلت 43 39
41 نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہوتا ہے : 47 39
42 مولانا کی کارگاہِ سیاست 55 1
43 اَذان کی عظمت و شان مَد کی دَرازی سے ہے 59 1
44 دینی مسائل ( وقف کا بیان ) 62 1
45 وقف کیسے لازم اَور مکمل ہوتا ہے : 62 44
46 وقف کا حکم : 62 44
47 متولی وقف کی معزولی : 62 44
48 اَراضی وقف کو اجارہ طویلہ پر دینا : 63 44
Flag Counter