ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011 |
اكستان |
|
سکتی ) عمر بن الخطاب اَور عبد الرحمن بن عوف اَور فلاں اَور فلاں صحابی گواہ ہیں جناب رسول اللہ ۖ نے رجم فرمایااَور آپ کے بعد ہم نے رجم کیا ۔ غور سے سنو! عنقریب تمہارے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو رجم کی، دجال کے آنے کی اَور آخرت میں شفاعت کی اَور عذاب ِ قبر کی تکذیب کریں گے۔ اَور ایسے لوگوں کا جو جہنم میںجھلسے جانے کے بعد نکالے جائیں گے اِنکار کریں گے (یہ کہیں گے کہ جہنم میں داخل ہونے والے جہنم سے نکالے نہیں جائیںگے چاہے وہ گناہ گا ر مسلمان ہوں )۔'' (٣) حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ اَبِیْ زَائِدَةَ اَخْبَرَنَا مُجَالِد عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ اِنَّ الرَّجْمَ سُنَّة مِّنْ سُنَنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ۖ وَقَدْ کَانَتْ نَزَلَتْ اٰیَةُ الرَّجْمِ فَھَلَکَ مَنْ کَانَ یَقْرَؤُھَا وَاٰیًا مِّنَ الْقُرْاٰنِ بِالْیَمَامَةِ۔ '' .................حضرت شعبی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا رجم جناب ِ رسول اللہ ۖ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ اَور آیت رجم نازل ہوئی تھی تو جو صحابہ اُس آیت کو منسوخ التلاوت نہیں مانتے تھے مسلمہ کذاب سے جہاد کے وقت یمامہ میں شہید ہوگئے وہ کچھ اَور آیت بھی پڑھا کرتے تھے۔ '' (٤) حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس اَور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہم اَور حضرت عبد اللہ بن اَبی اَوفٰی رضی اللہ عنہم (یعنی علقمہ بن خالد الاسلمی) حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہم سے وہ روایت دی ہیں جن میں یہودیوں کو رجم کی سزا کا ذکرگزرا ہے۔ فائدہ : خوارج کافرقہ جو بعد میں ظاہر ہوا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اِس اِرشاد کے تحت آتا ہے اَورجو حدیث نمبر٢ میں متعدد بار گزرا آج جو شخص رجم کو حَدّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ نہیں مانتا وہ بھی اُن کے اِس اِرشاد کے تحت آتا ہے۔ قرآن پاک کی جو آیت کسی صحابی نے خود جناب رسول اللہ ۖ سے سیکھی تھی اِسے وہ پڑھتا ہی رہا ہے آپ ۖ کے بعد اگر کسی نے اِس کے منسوخ ہونے کی اِطلاع دی تو اگر پورا یقین آیا تب تو مان لیا