ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011 |
اكستان |
|
اِمام محمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ(١٦٤ھ۔ ٢٤١ھ ) اِمام المسلمین فی الحدیث اِمام محمد بن حنبل کی کتاب مسند اَحمد بن حنبل میں بہت روایات ہیں ،اگر جمع کی جائیں تو مضمون بہت طویل ہوجائے گا ۔اِس لیے روایانِ حدیث کے اَسمائِ مبارکہ اَور کہیں کہیں مضمون حدیث کے جملے ہی نقل کردینے کافی ہیں حدیثیں مسند احمد میں دیکھی جا سکتی ہیں ۔ (١) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ ....یہ وہی حدیث ہے جو موطا اِمام مالک میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خطبہ کے بیان میں گزری ۔ (٢) حَدَّثَنَا ھُشَیْمُ اَنْبَاَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ عَنْ یُوْسُفَ بْنِ مَھْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَطَبَ عُمَرُ ...... یہ روایت دُوسری سند سے ہے،اِس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خطاب کے یہ جملے بھی ہیں فَاِنَّہ حَدّ مِّنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ رجم اللہ کی حدود میں ایک حد ہے۔ اِسی میں ہے :اَلا اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ۖ قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَہ لَوْلَا اَنْ یَّقُوْلَ قَائِلُوْنَ زَادَ عُمَرُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَالَیْسَ مِنْہُ لَکَتَبْتُہ فِیْ نَاحِیَةٍ مِّنَ الْمُصْحَفِ شَھِدَ عُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ وَفُلان وَفُلان اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ۖ قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا مِنْ بَعْدِہ اَلا وَاِنَّہ سَیَکُوْنُ مِنْ بَعْدِکُمْ قَوْم یُکَذِّبُوْنَ بِالرَّجْمِ وَبِالدَّجَالِ وَبِالشَّفَاعَةِ وَبِعَذَابِ الْقَبْرِ وَبِقَوْمٍ یُخْرَجُوْنَ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا امْتَحِشُوْا ۔ ''دیکھو! جنابِ رسول اللہ ۖ نے رجم کیا ہے اَور آپ کے بعد ہم نے رجم کیا ہے اگر یہ اَندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ یہ کہیں گے کہ عمر نے کتاب اللہ میں وہ جز بڑھا دیا ہے جو کتاب اللہ عزوجل میں نہیں ہے تو میں ضرور قرآن پاک میں کونے میں لکھ دیتا (یعنی آیت رجم جس کی تلاوت منسوخ ہو گئی ہے اَور حکم باقی ہے یہ نماز میں اَب نہیں پڑھی جا