ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011 |
اكستان |
|
اِمام شافعی رحمة اللہ علیہ نے کِتَابُ الْاُمْ میں ''حَدُّ الثَّیِّبِ الزَّانِیْ''(شادی شدہ زنا کرنے والے کی حد) کے عنوان سے رَجم کے اَحکام بیان فرمائے ہیں اَور حدیثیں تحریر فرمائی ہیں ۔ اَحادیث وہی تحریر فرمائی ہیں جو موطا اِمام مالک میں بھی موجود ہیں ۔اِس مضمون میں بحوالہ موطا لکھی جا چکی ہیں یعنی حضرت اَبو ہریرہ اَور حضر ت زید بن خالد جھنی کی روایت۔ نیز حضرت ابن عباس کی روایت کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اَلرَّجْمُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ حَقّ ۔ اِمام مالک کی روایت جو موطاء میں موجود نہیں ''کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ۖ نے یہودی مرد و زن کو سنگسار کرنے کا حکم فرمایا اَور اُنہیں سنگسار کردیاگیا '' اِس کی سند یہ ہے قَالَ الشَّافِعِیُّ اَخْبَرَنَا مَالِک عَنْ نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ۖ رَجَمَ یَہُوْدِیًّا وَّیَہُوْدِیَّةً زَنَیَا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وہ واقعہ جب آپ سفر شام پر تشریف لے گئے تھے تو عورت کے شوہر نے شکایت کی اَور آپ نے عورت سے بیان لینے کے لیے اَبو واقد لیثی کو اُس کے پاس بھیجا ۔ یہ روایت بھی اِس مضمون میں گزر چکی ہے اِ ن روایات کے بعد تحریر فرماتے ہیں : قَالَ الشَّافِعِیُّ فَبِکِتَابِ اللّٰہِ ثُمَّ سُنَّةِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ۖ ثُمَّ فِعْلِ عُمَرَ نَأْخُذُ فِیْ ھٰذَا کُلِّہ ۔(کتاب اَلْامْ (باب) حَدُّ الثَّیِّبِ الزَّانِیْ ص١٥٤ ج٦)''کتاب اللہ کو پھر سنت رسول اللہ ۖ کو پھر حضرت عمر کے عمل کو اِس حد کے سارے معاملہ میں ہم لیتے ہیں ۔'' اِسی باب میں اِرشاد فرماتے ہیں : '' وَحَدُّ الْمُحْصِنِ وَالْمُحْصَنَةِ اَنْ یُّرْجَمَا بِالْحِجَارَةِ حَتّٰی یَمُوْتَا ثُمَّ یُغْسَلَا وَیُصَلّٰی عَلَیْھِمَا وَیُدْفَنَا۔'' ''اَور شادی شدہ مرد وزن کی حد یہ ہے کہ اُنہیں سنگسار کیا جائے حتی کہ اُن کی موت واقع ہوپھر اُنہیں غسل دیا جائے گا اُن پر نماز پڑھی جائے گی اَور اُنہیں دفن کیا جائے گا۔''