Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2011

¾اكستان Ù

56 - 64
میں دَرد تھا اَورپھر بخار ہوگیااَوریہ بخار صحیح روایات کے مطابق تیرہ روز تک متواتر رہا اَور اِسی حالت میں وفات ہو گئی''۔ (ملاحظہ ہو  سیرتِ خاتم الانبیاء  ص١٤١)
٭  فقیہِ وقت حضرت مولانا رشید احمدصاحب گنگوہی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں  :
''آخری چہار شنبہ کی کوئی اصل نہیں بلکہ اِس دن میں جناب رسول اللہ  ۖ  کو  شدتِ مرض واقع ہوئی تھی تو یہودیوں نے خوشی کی تھی، وہ اَب جاہل ہندؤوں میں   رائج ہوگئی ۔  نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا ''۔ (فتاوٰی رشیدیہ ص ١٥)
٭  بریلوی مکتبہ فکر کے اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب کا فتویٰ  : ''آخری چہار شنبہ کی کوئی اصل نہیں، نہ اِس دن صحت یابی حضور سیّد عالم  ۖ  کا  کوئی ثبوت ہے بلکہ مرضِ اَقدس جس میں وفات ہوئی اُس کی اِبتداء اِسی دن سے بتائی جاتی ہے''۔(احکامِ شریعت  ج ٣  ص ١٨٣ ) 
٭  بریلوی مکتبۂ فکر کے ایک دُوسرے عالم مولانا امجد علی صاحب تحریر کرتے ہیں  : ''ماہِ صفر کا آخری چہار شنبہ ہندوستان میں بہت منایا جاتا ہے لوگ اپنے کاروبار بند کر دیتے ہیں ۔سیر وتفریح اَور شکار کوجاتے ہیں پوریاں پکتی ہیں اَورنہاتے دھوتے ہیں خوشیاں مناتے ہیں اَور کہتے ہیں کہ حضور  ۖ نے اِس روز غسلِ صحت فرمایا تھا اَور بیرونِ مدینہ سیر کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ یہ سب باتیں بے اصل ہیںبلکہ اِن دِنوں میں حضور اَکرم  ۖ  کا مرض شدت کے ساتھ تھا، لوگوں کو جو باتیں بتائی ہوئی ہیں سب خلافِ واقع ہیں ''۔ (بہارِ شریعت  ج٦  ص٢٤٢)
مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ آپ  ۖ  کُل تیرہ دن بیمار رہے ہیں اَوراِس پر بھی سب متفق   ہیں کہ آپ  ۖ نے پیر کے روز وصال فرمایاہے ۔اِس حساب سے اگر دیکھا جائے تو آپ  ۖ کے  مرضِ وفات کا دِن بدھ ہی بنتا ہے۔ اِ س طرح سے کہ بدھ سے دُوسرے بدھ تک آٹھ دن اَور جمعرات سے   پیر تک پانچ دن (١٣٥٨) لہٰذا مرضِ وفات کا آغاز بالاتفاق بدھ ہی کا دن ہوا۔ مذکورہ حوالے جات
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 6 1
4 اہلِ مشرق میں فتنہ اَور دِلوں کی سختی : 7 3
5 اہلِ حجاز کی تعریف : 7 3
6 آواز گھٹتی بڑھتی ہے : 7 3
7 جمعہ شہروں میں ، حنفی مسلک اَور اُس کی وجہ : 8 3
8 ''نجد ''کا جغرافیہ : 9 3
9 بَحْرَیْن : 10 3
10 شدت اَور نجدی : 10 3
11 بصرہ : 10 3
12 مسئلہ رجم 11 1
13 ''حد'' کی تعریف : 21 12
14 اَنفَاسِ قدسیہ 23 1
15 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 23 14
16 اُسوۂ حَسَنہ یا اَخلاقِ ظاہرہ : 23 14
17 غرباء و مساکین کے ساتھ : 24 14
18 خدام کے ساتھ : 26 14
19 قسط : ٢٤ تربیت ِ اَولاد 29 1
20 صدر مملکت کی خدمت میں کھلا خط! 33 1
21 موت العَالِم موت العَالَم 38 1
22 رحمة للعالمین ۖکے لیے تعددِ اَزواج کی حِکمت 39 1
23 قسط : ا حضرت اِمام حسن بن علی رضی اللہ عنہما 44 1
24 نام و نسب : 44 23
25 پیدائش : 44 23
26 عہد ِنبوی ۖ : 45 23
27 عہد ِصدیقی : 45 23
28 عہد ِفاروقی : 45 23
29 عہد ِعثمانی : 46 23
30 بیعت ِخلافت کے وقت حضرت علی کو مشورہ : 46 23
31 وفیات 47 1
32 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 48 1
33 غیر مسلموں کے ساتھ معاملات : 48 32
34 ماہِ صفرکے اَحکام اَور جاہلانہ خیالات 50 1
35 ماہِ صفر کا ''صفر'' نام رکھنے کی وجہ : 50 34
36 ماہِ صفر کے ساتھ ''مظفَّر''لگانے کی وجہ : 50 34
37 ماہِ صفر کے متعلق نحوست کا عقیدہ اَور اُس کی تردید : 51 34
38 ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اوراُس سے متعلق بدعات : 54 34
39 گلد ستہ اَحادیث 58 1
40 دوزخ کی دیواروں کی موٹائی چالیس برس کی مسافت کے برابر ہوگی : 58 39
41 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دَور کا ایک واقعہ : 60 39
42 بقیہ : رحمة للعالمین ۖکے لیے تعددِ اَزواج کی حکمت 61 22
43 دینی مسائل ( نذر اَور منت کا بیان ) 62 1
44 نذر کے صحیح ہونے کی شرائط : 62 43
45 نذر کے بارے میں ایک اَور ضابطہ : 63 43
Flag Counter