Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2011

¾اكستان Ù

19 - 64
قَالَ اِصْنَعُوْا بِہ مَا تَصْنَعُوْنَ بِمَوْتَاکُمْ مِّنَ الْکَفَنِ وَالصَّلٰوةِ عَلَیْہِ وَالدَّفَنِ قَالَ فَانْطَلَقَ بِہ اَصْحَابُہ فَصَلُّوْا ۔
(مسند ابی حنفیة  کتاب الحدود ص ١٥٧مطبوعہ اصح المطابع) 
''حضرت ماعز بن مالک جناب رسول اللہ  ۖ کے پاس حاضر ہوئے اَور( اُنہوں نے اپنے لیے اَخِرْ  کا لفظ استعمال جس کے یہ معنی بھی ہیں کہ نیکی میں پیچھے رہ جانے والے یا ذلیل یا تباہ حال) عرض کیا کہ'' اَخِرْ'' نے زِنا کا اِرتکاب کیا ہے آپ اِس پرحد جاری فرما دیں۔ جناب رسول اللہ  ۖنے اُسے لوٹا دیا پھر وہ دوبارہ آئے اَور اِسی طرح عرض   کیا پھر تیسری دفعہ آئے اَور آپ نے ایسا ہی جواب اِرشاد فرمایا پھر وہ چوتھی دفعہ آئے عرض کیا کہ اَخِرْ نے زنا کا اِرتکاب کیا ہے اِس پرحد قائم فرمائیے۔ آپ نے اُن کے ساتھیوں سے دریافت کیا کہ کیا اِس کی عقل تو خراب نہیں ہے اُنہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ فرمایا کہ اِسے لے جائو اَور رجم کردو۔بریدہ فرماتے ہیں کہ پھر اِنہیں لے جایا گیا اَور سنگسار کیا گیا جب اِنہیں قتل ہونے میں دیر لگی تو وہ پلٹے (لیکن) ایسی جگہ چلے گئے جہاں بہت پتھر تھے وہاں وہ کھڑے ہو گئے اِن کے پاس مسلمان پہنچے (آئے) اِنہیں سنگسار کیا حتی کہ اِنہیں  قتل کر دیا۔
 جناب رسول اللہ  ۖ  کو یہ اِطلاع پہنچی (کہ وہ اِس جگہ سے جہاں رجم کیا جا رہا تھا  پلٹ کھڑے ہوئے تھے) تو اِرشاد فرمایا کہ تم لوگوں نے اِنہیں کیوں نہ چھوڑ دیا (یعنی اُن پر لگائی جانے والی حد اُن کے اِقرار پر موقوف تھی اَور اُن کا اِس میدان سے سزا دیے جانے کے وقت پلٹنا بمنزلہ اِنکار کے تھا اِس لیے سزا موقوف کر دینی چاہیے تھی) لوگوں میں اِن  کے بارے میں اِختلاف ہوا۔ کسی نے تو یہ کہا کہ اُس ماعز نے تو اپنے آپ کو برباد کر لیا اَور کسی نے کہا کہ مجھے تو یہ اُمید ہے کہ اُن کا حد جاری کرانا ایک توبہ ہے۔
 جناب رسول اللہ  ۖ  تک یہ بات پہنچی تو آپ نے اِرشاد فرمایا کہ اُنہوں نے ایسی توبہ کی ہے اگر لوگوں کے گروہ کرتے تو وہ قبول کر لی جاتی( اُن کی نجات کے لیے کافی ہوتی)
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 6 1
4 اہلِ مشرق میں فتنہ اَور دِلوں کی سختی : 7 3
5 اہلِ حجاز کی تعریف : 7 3
6 آواز گھٹتی بڑھتی ہے : 7 3
7 جمعہ شہروں میں ، حنفی مسلک اَور اُس کی وجہ : 8 3
8 ''نجد ''کا جغرافیہ : 9 3
9 بَحْرَیْن : 10 3
10 شدت اَور نجدی : 10 3
11 بصرہ : 10 3
12 مسئلہ رجم 11 1
13 ''حد'' کی تعریف : 21 12
14 اَنفَاسِ قدسیہ 23 1
15 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 23 14
16 اُسوۂ حَسَنہ یا اَخلاقِ ظاہرہ : 23 14
17 غرباء و مساکین کے ساتھ : 24 14
18 خدام کے ساتھ : 26 14
19 قسط : ٢٤ تربیت ِ اَولاد 29 1
20 صدر مملکت کی خدمت میں کھلا خط! 33 1
21 موت العَالِم موت العَالَم 38 1
22 رحمة للعالمین ۖکے لیے تعددِ اَزواج کی حِکمت 39 1
23 قسط : ا حضرت اِمام حسن بن علی رضی اللہ عنہما 44 1
24 نام و نسب : 44 23
25 پیدائش : 44 23
26 عہد ِنبوی ۖ : 45 23
27 عہد ِصدیقی : 45 23
28 عہد ِفاروقی : 45 23
29 عہد ِعثمانی : 46 23
30 بیعت ِخلافت کے وقت حضرت علی کو مشورہ : 46 23
31 وفیات 47 1
32 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 48 1
33 غیر مسلموں کے ساتھ معاملات : 48 32
34 ماہِ صفرکے اَحکام اَور جاہلانہ خیالات 50 1
35 ماہِ صفر کا ''صفر'' نام رکھنے کی وجہ : 50 34
36 ماہِ صفر کے ساتھ ''مظفَّر''لگانے کی وجہ : 50 34
37 ماہِ صفر کے متعلق نحوست کا عقیدہ اَور اُس کی تردید : 51 34
38 ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اوراُس سے متعلق بدعات : 54 34
39 گلد ستہ اَحادیث 58 1
40 دوزخ کی دیواروں کی موٹائی چالیس برس کی مسافت کے برابر ہوگی : 58 39
41 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دَور کا ایک واقعہ : 60 39
42 بقیہ : رحمة للعالمین ۖکے لیے تعددِ اَزواج کی حکمت 61 22
43 دینی مسائل ( نذر اَور منت کا بیان ) 62 1
44 نذر کے صحیح ہونے کی شرائط : 62 43
45 نذر کے بارے میں ایک اَور ضابطہ : 63 43
Flag Counter