ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2011 |
¾اكستان Ù |
|
قَالَ اِصْنَعُوْا بِہ مَا تَصْنَعُوْنَ بِمَوْتَاکُمْ مِّنَ الْکَفَنِ وَالصَّلٰوةِ عَلَیْہِ وَالدَّفَنِ قَالَ فَانْطَلَقَ بِہ اَصْحَابُہ فَصَلُّوْا ۔ (مسند ابی حنفیة کتاب الحدود ص ١٥٧مطبوعہ اصح المطابع) ''حضرت ماعز بن مالک جناب رسول اللہ ۖ کے پاس حاضر ہوئے اَور( اُنہوں نے اپنے لیے اَخِرْ کا لفظ استعمال جس کے یہ معنی بھی ہیں کہ نیکی میں پیچھے رہ جانے والے یا ذلیل یا تباہ حال) عرض کیا کہ'' اَخِرْ'' نے زِنا کا اِرتکاب کیا ہے آپ اِس پرحد جاری فرما دیں۔ جناب رسول اللہ ۖنے اُسے لوٹا دیا پھر وہ دوبارہ آئے اَور اِسی طرح عرض کیا پھر تیسری دفعہ آئے اَور آپ نے ایسا ہی جواب اِرشاد فرمایا پھر وہ چوتھی دفعہ آئے عرض کیا کہ اَخِرْ نے زنا کا اِرتکاب کیا ہے اِس پرحد قائم فرمائیے۔ آپ نے اُن کے ساتھیوں سے دریافت کیا کہ کیا اِس کی عقل تو خراب نہیں ہے اُنہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ فرمایا کہ اِسے لے جائو اَور رجم کردو۔بریدہ فرماتے ہیں کہ پھر اِنہیں لے جایا گیا اَور سنگسار کیا گیا جب اِنہیں قتل ہونے میں دیر لگی تو وہ پلٹے (لیکن) ایسی جگہ چلے گئے جہاں بہت پتھر تھے وہاں وہ کھڑے ہو گئے اِن کے پاس مسلمان پہنچے (آئے) اِنہیں سنگسار کیا حتی کہ اِنہیں قتل کر دیا۔ جناب رسول اللہ ۖ کو یہ اِطلاع پہنچی (کہ وہ اِس جگہ سے جہاں رجم کیا جا رہا تھا پلٹ کھڑے ہوئے تھے) تو اِرشاد فرمایا کہ تم لوگوں نے اِنہیں کیوں نہ چھوڑ دیا (یعنی اُن پر لگائی جانے والی حد اُن کے اِقرار پر موقوف تھی اَور اُن کا اِس میدان سے سزا دیے جانے کے وقت پلٹنا بمنزلہ اِنکار کے تھا اِس لیے سزا موقوف کر دینی چاہیے تھی) لوگوں میں اِن کے بارے میں اِختلاف ہوا۔ کسی نے تو یہ کہا کہ اُس ماعز نے تو اپنے آپ کو برباد کر لیا اَور کسی نے کہا کہ مجھے تو یہ اُمید ہے کہ اُن کا حد جاری کرانا ایک توبہ ہے۔ جناب رسول اللہ ۖ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے اِرشاد فرمایا کہ اُنہوں نے ایسی توبہ کی ہے اگر لوگوں کے گروہ کرتے تو وہ قبول کر لی جاتی( اُن کی نجات کے لیے کافی ہوتی)