ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2008 |
¾اكستان Ù |
|
میں یہ نہیں تھی تو اَب جب ساری ذمّہ داری میرے اُوپر ہے اَور پھر میں اپنی رائے پر عمل نہ کروں تو خدا کے یہاں جوابدہ ہوں گا اِس لیے اُنہوں نے حساب لینا شروع کیا۔اعتراض کیا کہ فلاں چیز کیسے خرچ کی ہے آپ نے اور ایسے کی؟ اَور اِن کا جو مال تھا اُس میں سے ضبط بھی کرلیا جو اِن کے حصّے میں روپیہ آیا ہوا تھا کہ یہ زیادہ بنتا ہے اِتنا زیادہ نہیں ہونا چاہیے، دوبارہ پھر کوئی اَورلشکر بھیج دیا دوبارہ پھر کوئی اَور شکایت ہوئی اُس پر گرفت کی تو چونکہ اُن کی طرف سے گرفت ہوئی تھی اِس لیے لوگوں کے ذہن میں متضاد سے اَثرات ہوگئے پیدا ایک یہ کہ یہ نہایت عمدہ اَور بڑے جرنل ہیں وہ محبت تھی اُس کی وجہ سے قدر و منزلت تھی اَور اِس طرح کی بات اَور روک ٹوک کی وجہ سے شکوک طبیعت میں، تردد ایک طرح کا۔ تو حضرتِ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا جو ہے یہ اِس چیز کے اِزالے کے لیے لگتا ہے اِس لیے فرمایا ہوگا اُنہوں نے ،فرماتے ہیں کہ میں نے خود جنابِ رسول اللہ ۖ سے جو سُنے ہیں کلمات وہ یہ ہیں کہ خَالِد سَیْف مِّنْ سُیُوْفِ اللّٰہِ یہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں اَور نِعْمَ فَتَی الْعَشِیْرَةِ یہ اپنے گروپ میں یا اپنے ہم عمر لوگوں میں بہت اچھے جوان ہیں ،تو اِس طرح کے کلمات اُنہوں نے جو رسول اللہ ۖ سے سُنے ہوئے تھے وہ سُنائے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو جب دُوسری دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بلایا ہے اَور بات چیت کی ہے اَور اُنہوں نے جوابات دے دِیے تمام سوالات کے تو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پہلے تو یہ کہا تھا کہ میری طرف سے تم کسی بھی جگہ اَمیر نہیں بنائے جاسکتے ہاں یہ ہے کہ کام میں لگے رہو لڑتے رہو ساتھ، جہاد میں حصّہ لیتے رہو اُدھر جو اَمیر تھا اُسے پابند کیا کہ اِن سے مشورہ ضرور کرتے رہو لیکن خودمختار ہوںیا اَمیر بالادست وہ نہیں ہوسکتے۔اِس دفعہ حضرت عمر نے فرمایا کہ کبھی بھی میری طرف سے تمہیں کوئی ناپسند بات پہنچے گی ہی نہیں لَایُصِیْبُکَ مِنِّیْ مَکْرُوْہ کوئی ناپسند بات تم تک میرے سے نہیں پہنچے گی، بہت مطمئن ہوئے دُوسری دفعہ جب ایسی بات کی لیکن حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آگیا تھا وہ علیل ہوگئے اَور وفات پاگئے ۔ تو اِس طرح کے کلمات آقائے نامدار ۖ سے اپنے صحابۂ کرام کے بارے میں منقول ہیں جو تعریفی کلمات ہیں اَور جن کے بارے میں تعریفی کلمات ہیں اُن کی زندگی سب کے سامنے ہے، بہت بڑے بڑے کام اُنہوں نے انجام دیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت میں اُن کا ساتھ نصیب فرمائے، آمین۔ اِختتامی دُعاء …