ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2008 |
اكستان |
|
شائع ہو گیا،آپ کے کلمات میں جوتاثیرہوگی ہماری روایت بالمعنی اورتشریح میں کہاں وہ برکت،اِس لیے اِن کلمات کو بعینہا شائع کرناقرین ِمصلحت سمجھا،اوراِس لیے ادباًتعمیل ِحکم سے قاصر رہا ،میں توکسی کی جوتیوں کے صدقہ کچھ لکھ لیتاہوں ورنہ اُردوکہاں اورہم کہاں؟ خیرحق تعالیٰ جزائے خیر عطافرمائے کہ تفصیلی جواب سے سرفرازفرمایااوربہت کچھ باتیں آجاتی ہیں ، اور ہمیںاوردُوسروںکواستفادہ کاموقع مل جاتاہے،لیکن مخدوما!میرامقصدطُرق وسلاسل ومشائخ کے اذکار و اعمال واشغال مراقبات ومجاہدات کی اَفادیت میں ہرگزنہ تھا،الحمدللہ تعالیٰ کہ اِن پرقلب مطمئن ہے کہ امراضِ نفوس کابھی علاج ہے اوراُن تدابیرکے سواچارہ ٔ کارنہیں،اوراگرامرا ض نہ ہوں توشارع علیہ السلام نے جو غذائے رُوحانی مقررفرمایاہے اورفرض قراردے دیاہے وہی نسخہ ٔ شفاہے مزیدکی حاجت ہی نہیں،مقصدشبہ کاصرف اِتنا تھاکہ ذکراللہ کی برکات وانوار توبہرحال درس قرآن ،حفظ قرآن،تلاوت ِقرآن سے حاصل ہو جاتے ہیں ، طلبہ کے نفوس کاعلاج وہ نہیں،بلاشبہ اِس کے لیے مخصوص طُرق علاج کی ضرورت ہے۔ اِس لیے گزارش کی تھی کہ ہردرس گاہ کے ساتھ ایک خانقاہ کی بھی ضرورت ہے جوطلبہ فارغ ہوں اُس سے وابستہ ہوںاورکچھ عرصہ اِس مقصدکے لیے اقامت بھی کریں،خداکاشکرکہ آپ کی خواہش (کے مطابق)ذاکرین کے اجتماع اور اجتماعی ذکر کی تدبیر کی گئی ،اِس ہفتہ اِس کا افتتاح بھی ہو جائے گا(اِنشاء اللہ ) شب ِجمعہ کو کچھ طلبا ہفتہ وار مکی مسجد میں جایا کرتے ہیں ،امسال جو طلبہ فارغ ہوں گے تیر ہ طلبہ نے ایک سال کے لیے تبلیغ میں وقت لگانے کا عزم کر لیا ہے اور نام لکھوادیے ہیں،اور ایک چلہ والے تو بہت ہیں ،انشاء اللہ تعالیٰ اگر آپ کی دُعائیں اور توجہات دونوں شامل ِحال رہیں تو اِنشاء اللہ تعالیٰ مافات کی تلافی ہوتی رہے گی، آپ کا دُوسرا گرامی نامہ بھی مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے چند اساتذہ کے مجمع میں سنا دیا ،بہت محظوظ ہوئے، وہ آپ کی تدبیر وتجویز پر عمل کرنا سوچ رہے ہیں ،بہت عجلت اور تشویش خاطر میں چند سطریں گھسیٹ دی ہیں تاکہ مزید تاخیر نہ ہو ۔والسلام محمد یوسف بنوری