ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2008 |
اكستان |
|
٭ عرض ہے کہ پہلے ہی جواب لکھ چکا ہوں۔ جب آپ نے خط میں یہ عبارت لکھی تھی۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے میرا اعتبار نہیں کیا اِس لیے وہ حوالے دیکھے ہی نہیں اور اب اِس خط میں پھروہی عبارت لکھ ڈالی ہے جو پہلے ایک خط میں تھی جیسے درمیان میں کچھ ہوا ہی نہ ہو اور میں نے کوئی جواب ہی نہ دیا ہو۔ یہ طرز آپ نے کس مقصد سے اختیار کیا ہے یہ خدا ہی جانتا ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ '' ابن الجوزی کہتے ہیں الخ '' ٭ ابن الجوزی کا حال علامہ عبد الرحمن صاحب مبارک پوری کی زبانی سُنیے وہ لکھتے ہیں کہ ''انہوں نے روایات کو موضوع قرار دینے میں بڑی سہولت پسندی سے کام لیا ہے حتّٰی کہ اُنہوں نے صحیح حدیثوں کو موضوع کہہ دیا۔ چہ جائیکہ حسن اور چہ جائیکہ ضعیف۔ لیکن حافظ سیوطی نے اِن کا اس طرح پیچھا لیا (تعقُّب کیا) کہ وہ بالکل کافی ہے''۔ اِس لیے میں آپ کی اِس عبارت کے آخر میں سیوطی رحمة اللہ علیہ کی باتوں کا اُردو ترجمہ کردُوں گا تاکہ آپ کی سمجھ میں آجائے۔ اِس کے بعد علامہ مبارک پوری نے ابن ِ جوزی کی کتاب الموضوعات الکبرٰی کا تعارف کرایا ہے۔ اِس میں اُنہوں نے لکھا ہے کہ ''اُنہوں نے مسند احمد کی روایات میں بعض روایتوں کو حتّٰی کہ صحیح مسلم کی ایک صحیح روایت کو بھی موضوع لکھ دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ''حَتّٰی قَالَ شَیْخُ الْاِسْلَامِ ھٰذِہ غَفْلَة شَدِیْدَة مِنْ اِبْنِ الْجَوْزِیْ حَیْثُ حَکَمَ عَلٰی ھٰذَا الْحَدِیْثِ بِالْوَضْعِ یعنی یہ تو نہایت ہی شدید غفلت کی بات ہے کہ اُنہوں نے اِس حدیث پر موضوع ہونے کا حکم لگادیا( مقدمۂ تحفة الاحوذی ص ١٤٢)۔'' دراصل وہ اپنے اُستاذ ابن ِ تیمیہ کی بہت سی اُن باتوں کی جو اُنہوں نے شدت میں فرمائی تھیں تائید کیا کرتے ہیں اِس لیے اُن کی ایسی کسی بات کا اُس وقت تک اعتبار نہیں ہوگا جب تک دُوسرے ایسے محدثین جو معتدل مزاج تھے اِن کی تائید نہ کریں۔ آپ اگر اصولِ حدیث کی کتابوں کا مطالعہ کریں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوجائے گی۔ اِس خط میں آپ نے پھر یہ الفاظ بدل کر وہی بات لکھی ہے کہ'' علم کا دروازہ صرف ایک علی ہوا ۔ '' ٭ حالانکہ ہم پہلے واضح کر آئے ہیں کہ علم کے کتنے دروازے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اُن میں سے ایک دروازہ یقینًا تھے۔ اگر آپ نے میرا خط بلاکسی کمی کے شائع کیا ہوگا تو ناظرین ِاَوراق کی سمجھ میں