ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2008 |
اكستان |
|
آپ نے عباسی صاحب کی تعریف فرمائی۔ کسی عقیدت مند نے پوچھا حضرت ! عباسی صاحب نے جو کچھ لکھا ہے وہ آپ کی تحریروں کے خلاف ہے۔ تو آپ نے فرمایا میا ں میں کبھی تاریخ کا طالب علم نہیں رہا۔ حق وہی ہے جو عباسی صاحب نے بیان کیا ہے۔ اصلاحی صاحب کا یہ اعلان ِحق اُن کے مقام و مرتبہ میں کئی گنا اضافہ کا موجب ہوا۔ میں یہی بات آپ کے سامنے دوہراتا ہوں۔ میری آپ سے جو خط و کتابت ہوئی ہے وہ میرے پاس امانت کے طور پر محفوظ رہے گی۔ آپ اخلاقی جرأت سے کام لیجئے اور میثاق یاکسی اور مذہبی رسالہ میں اِس موضوع روایت کے متعلق جو حق ہے اُسے بیان فرمادیجئے۔ ورنہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اُسے ایک پمفلٹ کی صورت میں چند دیگر علماء کے تائیدی بیانات کے ساتھ شائع کرادُوں۔والسلامفیض عالم 5/11/76 (صفحہ کی پشت پر) روایت ِمذکورہ کے متعلق قرآن کانفرنس کے بعد ایک شیعہ عالم سے تحریری گفتگو شروع ہوئی۔اُسے تومیں نے جو کچھ لکھا شیعہ کتب سے لکھااور وہ کسی حد تک قائل بھی ہو گیا مگر آپ نے چپ سادھ لی۔ موضوعات سے احتجاج کی صورت نے اہل سنت کو جو نقصان پہنچایا ہے اُس کے متعلق میں حقیقت مذہب شعیہ کے آخری باب قدر مشترک میں اور جناب چشتی صاحب نے میثاق کے اکتوبر نمبر میںاور ڈاکٹر عثمانی صاحب نے توحید خالص میں بالواسطہ بحث کی ہے۔ میں پندرہ دن تک جواب کا انتظار کر کے '' اَنَامَدِیْنَةُ الْعِلْمِ وَعَلِیّ بَابُھَا'' کی علمی حیثیت پر کتابچہ کتابت کے لیے دے دُوںگا۔نامعلوم اِس کے محاکمہ میں کیا لکھا جائیگا۔ والسلام ٭٭٭ حضرتِ اقدس کا جوابی خط محترم و مکرم حکیم صاحب السلام علیکم ور حمة اللہ آپ کا پہلا خط بھی ملا اور یہ بھی۔ اگر پمفلٹ طبع کرنے کا اِرادہ ہے تو اِس کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ ایک طرف آپ کا خط ہو اور دُوسری طرف میرا خط ہو۔ میں نے جواب میں جو جواب دئیے ہیں اُن کی عبارت