ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2007 |
¾اكستان Ù |
|
اجتہاد کو ''قیاسِ شرعی'' کہتے ہیں۔ مجتہد اپنے قیاس سے کوئی نئی چیز ثابت نہیں کرتا بلکہ قرآن و سنت کے پوشیدہ مسئلے کو عوام کے سامنے ظاہر کردیتا ہے اِسی لیے کہا جاتا ہے کہ قیاس مُثْبِتْ نہیں ہوتا بلکہ مُظْہِرْ ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا حقائق سے معلوم ہوا کہ اہل سنت والجماعت کے مذاہب ِاَربعہ میں دین میں چار چیزیں حجت ہیں یعنی قرآن، سنت، اجماع اور قیاسِ شرعی۔ اہل سنت والجماعت میں سے کوئی بھی اِن میں سے کسی ایک کا بھی منکر نہیں۔ اُصول ِفقہ کی کوئی چھوٹی سی کتاب بھی اُٹھالیں اُس میں اِن دلائل اربعہ سے ہی بحث ہوگی۔ برصغیر پاک و ہند میں جب سے اسلام آیا یہاں پر دین ِاسلام کے تمام احکام اور عبادات فقہ حنفی کے مطابق ہی ادا کی جاتی تھیں۔ تمام مسلمان فقہ حنفی کے پیروکار تھے اور دین کی چاروں حجتوں سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ کیونکہ یہاں پر ہر شعبہ میں مذہب حنفی رائج تھا۔ علمائ، قضاة، حکام، بادشاہ اور سب عوام اِسی مذہب کے پیروکار تھے اِس لیے تمام دینی و دُنیوی معاملات باحسن ِوجوہ سر انجام پاتے تھے اور کوئی بھی مذہب حنفی سے سرتابی کرنے کی جسارت نہ کرتا تھا۔ لیکن جب برصغیر میں انگریز کی منحوس حکومت قائم ہوئی تو اُس نے آزادی ٔمذہب کا نعرہ لگاکر کچھ مفاد پرست اور کچھ سادہ لوح مسلمانوں کو مذہب ِحنفی سے بغاوت پر آمادہ کرلیا۔ انگریز کا مقصد یہ تھا کہ مساجد کا سکون تباہ و برباد ہو اور مسلمان باہم دست و گریبان ہوجائیں تاکہ وہ اپنی پالیسی ''لڑائو اور حکومت کرو'' پر کاربند ہوسکے۔ چنانچہ اُن لوگوں نے انگریز کو راضی کرنے کے لیے مساجد کو دَنگا و فساد کا مرکز بنادیا۔ جن احادیث پر احناف اِس لیے عمل نہیں کرتے تھے کہ وہ اُن کے امام کے ہاں سنت نہیں ہیں اُن شاذ احادیث کو مساجد میں پڑھا جاتا اور کہا جاتا کہ حنفی اِس حدیث کے خلاف نماز پڑھتے ہیں یا اِس حدیث کو نہیں مانتے۔ فقہ حنفی کے اِجماعی اور قیاسی مسائل کے لیے بھی حدیث کا مطالبہ کیا جاتا جوکہ سراسر باطل تھا۔ کیونکہ ہمارے نزدیک قرآن و سنت کے بعد اجماعِ اُمت اور قیاسِ شرعی بھی دین کے لیے حجت ہیں۔ الغرض عوام کو پریشان کرنا اُن لوگوں کا وطیرہ بن گیا۔ دوسرے لفظوں میں اُنہوں نے دلائل شرعیہ میں سے آخری دو دلائل کا مکمل انکار کردیا اور سنت کی بجائے حدیث کے لفظ پر زور دینا شروع کردیا حالانکہ ہر حدیث سنت نہیں ہوتی جبکہ دلائل شرعیہ میں سنت رسول ۖ شامل ہے نہ کہ حدیث ِ رسول ۖ ۔ اُن لوگوں نے پہلے اپنا نام ''محمدی'' رکھا لیکن لوگ انہیں عبد الوہاب نجدی کی طرف منسوب کرکے