ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2007 |
اكستان |
|
موجودگی اور پہلے دو سال تک کے لیے سرمایہ کاروں کے لیے محصولات کی مکمل چھوٹ ہونے کے باعث ممکن ہے۔ بھارت کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہاںنِت نتئی مصنوعات کی تیاری بہتر معیار اور بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے دوا سازی کی صنعت میں بہتر فضاء کی فراہمی، دواسازی کی صنعت میں بہتری کی آئینہ دار ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کی کمزوریوں سے پردہ چاک کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مقامی صنعتوں سے اَدویات کی تیاری میں ضروری خام مال کی محدود مقدار میں فراہمی، درآمد شدہ خام مال پر مکمل انحصار ہی دوائوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کا اصل سبب ہے۔ اِس وقت پاکستان 90فیصد خام مال یورپ، جاپان اور چین سے درآمد کررہا ہے۔ وزارتِ صحت کے حوالے سے کہا گیا کہ وزارت 2010ء کی صحت سے متعلقہ پالیسی پر کام کررہی ہے جس سے صحت سے متعلقہ اُمور کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ (روزنامہ نوائے وقت ٢ فروری ٢٠٠٧ئ) گندا جنگلی چینی شخص کی 26سال میں بالوں کی پہلی دُھلائی بیجنگ (اے پی پی) چین میں 80سالہ معمر شخص نے 26سال میں پہلی مرتبہ اپنے بال دھوئے۔ بال دھونے میں اُس کی مدد 12افراد نے کی۔ ذرائع کے مطابق 80سالہ چینی شخص لیوشی یوان کے بال چھ فٹ لمبے اور اُس کی داڑھی پانچ فٹ لمبی ہے۔ گزشتہ 26سال سے اُس نے اپنے بال نہیں دھوئے تھے۔ تاہم چند روز قبل اُس کے بیٹے، بہو، پوتوں اور ہمسایوں نے مل کر اُس کے بالوں اور داڑھی کو واشنگ پائوڈر سے دھو ڈالا۔ لیوشی یوان کے بالوں کو دھونے میں 5گھنٹے لگے اور فیملی سائز کے واشنگ پائوڈر کے تین بیگ صرف ہوئے۔ لیوشی یوان چانگ چنک شہر کے مضافاتی گائوں کا رہائشی ہے۔ اُس کے بال دھونے کا مظاہرہ گائوں والوں نے مل کر دیکھا اور اُس اُمید کا اظہار کیا کہ لیو شی کا نام گینس بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا جائے گا۔ (روز نامہ نوائے وقت ٥ فروری 2007ء )