ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2007 |
اكستان |
|
ہے، تقوی کس میں زیادہ ہے، عمل کس میں زیادہ ہے، خدا کا مقرب کون زیادہ ہے، زیادہ عالم ہونے پر نہیں۔ تو اگر سوچا جائے تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اُنہوں نے علماء تو کئی گِنادیے اور ایک کی وجہ جو بتارہے ہیں وہ یہ کہ نبی علیہ الصلوٰة والسلام نے تعریف فرمائی ہے ،باقیوںسے تو لوگ واقف تھے لیکن عبد اللہ بن سلام کے بارے میں کیونکہ وہ یہودی رہ چکے تھے پھر مسلمان ہوئے تھے اِس واسطے تردُّد جیسا ہوتا ہو گا کچھ۔ مگر اُنہوں نے کہا، نہیں بلکہ میں نے سنا ہے رسول اللہ ۖ سے کہ وہ جنت میں جائیں گے۔ تو جنتی ہونے کی بشارت جناب ِرسول اللہ ۖ نے اُس کی دی ہے کہ جس کے عمل خدا کے یہاں مقبول ہیں اور وہ خدا کا محبوب ہے اور اللہ کو پسند ہے۔ تو اِس طرح سے اُنہوں نے وجہ جو بتائی ہے وہ وجہ وہ ہے جو تقوے والی ہے۔ تو اَب جو ٹھوکریں کھاتے ہیں لوگ، مضمون نگاری ہو یا کوئی چیز ہو، حوالے ہوں، یہ چیزیں بالکل نہیں دیکھی جاسکتیں، عمل دیکھا جاسکتا ہے۔ اتباع ِسنت اور تقوی اصل چیزیں ہیں : اور عمل میں کیا ہے آپ کو کیسے پتا چلے کہ صحیح عمل کیا ہے، غلط کیا ہے ؟تو وہ اتباعِ سنت ہے۔ یہ دیکھ لیں آپ کہ یہ سنت کی پیروی کتنی کرتا ہے اور سنت سے ہٹا ہوا کتنا ہے تو پتا چل جائے گا۔ اگر وہ سنت پر ہے تو متقی بھی ہے اور عالم بھی ہے، وہ صحیح بھی ہے، لائق ِاتباع ہے۔ اور اگر سنت سے ہٹا ہوا ہے وہ خود، تو پھر وہ لائق ِاتباع نہیں رہتا، وہ قابل ِاعتبار نہیں رہتا، وہ مستند نہیں۔ چاہے اُس نے دُنیاوی ڈگریاں حاصل کررکھی ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو آخرت میں اِن حضرات کا ساتھ نصیب فرمائے، آمین ۔ اختتامی دُعا..........