ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2007 |
اكستان |
|
لمبی نماز۔ سفر میں مختصر نماز بتائی گئی ہے اور سفر میں رعایت بھی دے دی کہ اگر تین دن کا سفر ہے یا زیادہ کا تو پھر وہ ظہر، عصر، عشائ، چار کی بجائے دو پڑھ لے اور سنتیں معاف فرمادیں، وتر بس پڑھ لے۔ ہاں اگر کسی کا دل چاہتا ہے تو پڑھ لے سنتیںبھی۔ رسول اللہ ۖ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو مسئلہ بتایا تو گویا ابتدا میں حالت تو یہ تھی کہ جیسے اُستاد کو سمجھانا، خفا ہونا، ڈانٹ ڈپٹ اِن کی نوبت آتی ہے ایسے گویا نوبت آتی رہی۔ اُس کے بعد اِن کے تعلیم حاصل کرنے کا یہ حال ہوا کہ یہ قابل ِتعریف ہوگئے۔ علمی ترقی کے بعد مقام : اورجناب ِرسول اللہ ۖ نے یہ فرمایا کہ اَعْلَمُھُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ حلال و حرام کو سب سے زیادہ پہچاننے والا تم میں معاذ بن جبل ہے۔ تو رسول اللہ ۖ کے اِشارے پر چلتے تھے اور تمام چیزیں نوٹ کرتے رہتے تھے۔ صحابہ کرام کی حالت یہی تھی۔ تو اِس وجہ سے بہت جلدی چند سال میں ہی ایسا درجہ اُنہوں نے حاصل کرلیا کہ وہ جناب ِرسول اللہ ۖ کے نزدیک بھی قاضی بنانے کے قابل ہوگئے اور اِنہیں قاضی بناکر بھیجا۔ اِن کو یمن بھیجنے کی وجہ : اِن کے واقعات میں ہے کہ اصل میں یہ مقروض تھے، پریشانِ حال تھے۔ رسول اللہ ۖ نے اِن کو وہاں بھیج دیا کہ یہ وہاں سے خراج وغیرہ بھی وصول کریں۔ جاتے وقت اِنہیں جب رُخصت فرمایا تو رسول اللہ ۖ ساتھ ساتھ روانہ کرنے کے لیے چلے، نصیحتیں بھی فرمائیں۔ حاکم کو کافر رَعیت کے بارے میں بھی ہدایت : اُن میں ایک نصیحت یہ تھی کہ اِتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُوْمِ مظلوم کی بد دُعاء سے بچتے رہنا فَاِنَّہ لَیْسَ بَیْنَھَا وَبَیْنَ اللّٰہِ حِجَاب اُس مظلوم کی بد دُعاء اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا، بہت جلدی قبول ہوتی ہے۔ اَب مظلوم کون تھے وہی جو رعایا تھی۔ اُس میں مسلمان کم تھے غیر مسلم زیادہ تھے اُس وقت تک۔ مگر کسی کے اُوپر بھی ظلم رَوا نہیں رکھا شریعت نے، چاہے وہ مسلمان ہو چاہے غیر مسلم۔ یہی چیزیں دیکھ کر لوگ مسلمان ہوتے گئے ہیں اَب تک۔ کہ اِن کے یہاں اِس قدر انصاف ہے، عدل ہے تو اُنہیں یہ نصیحت