ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2006 |
¾اكستان Ù |
|
دینی مسائل ( نکاح کابیان ) ٹیلی فون پر نکاح : ٹیلی فون پر اگرچہ آواز اُونچی ہو اور پہچانی بھی جاتی ہو اور اگرچہ تصویر بھی آتی ہو تب بھی نکاح صحیح نہیں کیونکہ نکاح کے لیے دو گواہوں کی گواہی ضروری ہے اور گواہی کے لیے ضروری ہے کہ گواہ عقد کرنے والوں کے الفاظ کو براہِ راست (یعنی بغیر کسی واسطے کے) اُن کے منہ سے خود سنیں اور دونوں گواہ بیک وقت سنیں۔ چونکہ گواہی کی یہ شرط ٹیلی فون پر پوری نہیں ہوتی اِس لیے نکاح صحیح نہیں۔ اِس کا متبادل اور آسان طریقہ یہ ہے کہ بیرون ملک میں موجود شخص یہاں کسی کو اپنا وکیل بنادے خواہ خط کے ذریعے سے یا ٹیلی فون کے ذریعے سے (کیونکہ وکالت کے لیے گواہی شرط نہیں ہے) اور وکیل نکاح کے وقت یوں کہے کہ میں نے فلاں کی طرف سے قبول کیا۔ عورت کی پہچان ضروری ہے : اگر خود عورت مجلس ِنکاح میں ہو اور اُس کا ولی اُس کی طرف اشارہ کرکے یوں کہہ دے کہ میں نے اِس کا نکاح تمہارے ساتھ کیا اور مرد کہے میں نے قبول کیا تب بھی نکاح ہوگیا نام لینے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر عورت خود موجود نہ ہو تو اُس کا ولی اُس کا نام بھی لے اور اُس کے باپ کا بھی، اتنی آواز سے کہ گواہ سن لیں۔ اور اگر باپ کو بھی لوگ نہ جانتے ہوں اور فقط باپ کا نام لینے سے معلوم نہ ہو کہ کس کا نکاح کیا جاتا ہے تو دادا کا نام بھی لینا ضروری ہے۔ غرض یہ کہ ایسی بات ذکر ہونی چاہیے کہ سننے والے سمجھ لیں کہ فلاں عورت کا نکاح ہو رہا ہے۔ نکاح کرنے میں کسی کو وکیل بنانا : مسئلہ : اگر کسی نے اپنا نکاح خود نہیں کیا بلکہ کسی سے کہہ دیا کہ تم میرا نکاح کسی سے کردو یا یوں کہا کہ میرا نکاح فلاں سے کردو اور اُس نے گواہوں کے سامنے کردیا تب بھی نکاح ہوگیا۔ اب اگر حکم دینے والا انکار