ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2006 |
اكستان |
|
بخاری شریف شروع کی ہے اُس میں بھی علماء نے ترتیب بتلائی ہے۔ ایک باب سے پچھلے باب کی ترتیب یہ تو آسان ہوتی ہے قائم کرنا لیکن ہزاروں باب گزرچکے ہوں بیچ میں اور پھر ایک باب جو سب سے شروع کا ہے اور ایک باب جو سب سے آخر کا ہے اُس میں بھی مناسبت ہو یہ مُلْہَمْ مِّنَ اللّٰہِ چیز ہوتی ہے، اللہ کی طرف سے الہام اور اُس کی طرف سے درست رہنمائی کے بغیر ایسا نہیں ہوسکتا۔ پہلا اور آخری باب : امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے سب سے پہلا باب جو باندھا ہے وہ وحی سے متعلق ہے '' بَابْ کَیْفَ کَانَ بَدْؤُ الْوَحْیِ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ۖ'' اور پھر ایک آیت نقل کی ہے اِنَّآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ کَمَآ اَوْحَیْنَآ اِلٰی نُوْحٍ وَّالنَّبِیّنَ مِنْ بَعْدِہ ۔ وحی سے متعلق آیت ہے، اور سب سے آخر میں جو باب لائے ہیں وہ وزن ِاعمال کا لائے ہیں۔ اِس کا اُس سے کیا جوڑ؟ اِس کا جوڑ یہ ہے کہ وحی جو ہے یہ بمنزل صورت و شکل کے ہے۔ جو کام ہم کرتے ہیں، جو اعمال انسان کرتا ہے اچھے یا برے اُن کی ایک شکل اور صورت ہوتی ہے۔ وحی بمنزلِ صورت ،نیت بمنزلِ رُوح : تو اللہ تعالیٰ نے جو یہ دین ہمیں دیا جو بذریعہ ٔوحی نبی علیہ الصلوٰة والسلام پر نازل ہوا اور پھر آپ کی اُمت کو پہنچا یہ وحی جو ہے یہ اُس کی شکل و صورت ہے۔ اَقِیْمُوْ الصَّلٰوةَ نماز قائم کرو یہ وحی آگئی۔ یہ نماز کی شکل بتلادی۔ یہ تو وحی ِمتلو(ایسی وحی جس کی تلاوت کی جاتی ) ہے۔ قرآن اور وحی غیر متلو(یعنی حدیث ) نے اس کی صورت و شکل کو مزید واضح کردیا کہ نماز کا قیام کیسے ہوگا وہ تفصیلات آگئیں۔ احادیث میں ہے کہ اس میں اس طرح کھڑا ہونا ہے، ایسے ہاتھ اُٹھانے ہیں، ایسے نیت باندھنی ہے۔ قیام ہے، رکوع ہے، رکوع ایک ہے، سجدے دو ہیں۔ اور فجر کی نماز کی دو رکعتیں ہیں، ظہر کی چار، عصر کی چار، مغرب کی تین اور عشاء کی چار ہیں۔ یہ وحی نے بتائیں۔ یہ شکل اور صورت ہیں اور اس طرح سے یہ شروع ہوگی اور اس طرح یہ ختم ہوجائیگی۔ سلام پھیرنے سے اس کا اختتام ہوجائے گا۔ یہ شکل وصورت اور اِس کے خدوخال یہ وحی نے بتلائے۔ تو ہرعمل کی صورت اور شکل وحی نے بتائی۔ اسی طرح روزے کے بارے میں ہے وَاٰتُوْا الزَّکٰوةَ زکوٰةدو، حج کرو، یہ اِرشاد ہے یہ سب بذریعہ وحی، صورت اور شکل آرہی ہے لیکن صورت اور شکل تنہا کچھ نہیں کرسکتی۔ ہر صورت اور شکل کے ساتھ ایک رُوح بھی ضروری ہوتی ہے، تب اُس رُوح اور شکل سے مل کر ایک حقیقت بنتی ہے۔ تنہا انسان پیدا ہوجائے اور