ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2006 |
¾اكستان Ù |
|
لے کر'' مجتہد ''بن بیٹھتے ہیں۔ پہلے اسلاف سے بدگمانی کرتے ہیں کہ انہیں یہ حدیث نہ ملی ہوگی وغیرہ۔ اور بعد میں اُن پر بدزبانی کے تیر برساتے ہیں، مثلاً امام ابوحنیفہ کے پاس صرف سترہ احادیث تھیں اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْ فِتَنِ ھٰذَا الزَّمَانِ۔ مولانا اپنی اسی کتاب طریق محمدی صفحہ ١٦٨، ١٦٩ پر گوہرفشاں ہیں : ''پس تقلید جوچوتھی یا چھٹی صدی کی ایجاد ہے قطعاً! مُحدَث ہے اور قطعاً بدعت ہے۔ اے ایک اللہ والو! ایک نبی والو! ایک قبیلے والو! یہ کیا مصیبت ہے کہ آج حنفی کہیں ہمارے امام کا قول یہ ہے اور ہمارے مذہب میں یوں ہے اس کے خلاف شافعی کہیں ہمارے امام کا قول یہ ہے اور ہمارا مذہب یہ ہے اور یہی آواز حنبلیوں کی طرف سے اُٹھے اور اسی کی نقل مالکیوں کی طرف سے کی جائے۔ مسلمانوں اس افتراق اور اختلاف کو مٹادو ........... تقلید شخصی نقیض ہے اتباع قرآن و حدیث کی''۔ اِس عبارت میں بھی مولانا موصوف نے تقلید کو بدعت اور گمراہی کہا ہے۔ حالانکہ تمام غیر مقلد عوام اپنے مولوی سے مسئلہ پوچھ کر عمل کرتے ہیں، خود تحقیق نہیں کرتے۔ اس طرح وہ بھی اپنے مولوی کے مقلد ٹھہرے کیونکہ جب مولوی مسئلہ بتاتا ہے تو وہ اُس سے دلیل کا مطالبہ نہیں کرتے یہی تقید ہے۔ لہٰذا تمام غیرمقلد بقول جونا گڑھی گمراہ اور حرام کا اِرتکاب کرنے والے ہیں۔ حضرات ِگرامی! مولانا جوناگڑھی اپنی کتاب ''سیف ِمحمدی'' کے صفحہ ١١ پر تحریر فرماتے ہیں : ''ایک مسلمان پر اگر قرآن و حدیث پر عمل کرنا فرض ہے تو فقہ کے اِن دفاتر پر آنکھیں بند کیے عمل کرنا حرام بھی یقینا۔'' آپ کے اِس ارشاد سے معلوم ہوا کہ آپ کے نزدیک فقہ کی کتابوں میں دیے گئے مسائل پر عمل کرنا حرام ہے حالانکہ فقہ کی کتابوں میں قرآن و سنت، اجماع اور قیاس یعنی شریعت کی تمام حجتوں کے مسائل منضبط کیے ہوتے ہیں اس لیے فقہ کی کتابوں میں مندرج مسائل پر عمل نہ کرنے کا حکم دینا قرآن و سنت کے مسائل سے بھی رُوگردانی ہوگی۔ غیر مقلدین خداجانے فقہ کے نام سے کیوں الرجک ہیں حالانکہ قرآن پاک نے لِیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ کہہ کر علم فقہ کے حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ایک حدیث پاک کا مفہوم یہ ہے کہ ایک فقیہ