Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2006

¾اكستان Ù

55 - 64
لے کر'' مجتہد ''بن بیٹھتے ہیں۔ پہلے اسلاف سے بدگمانی کرتے ہیں کہ انہیں یہ حدیث نہ ملی ہوگی وغیرہ۔ اور بعد میں اُن پر بدزبانی کے تیر برساتے ہیں، مثلاً امام ابوحنیفہ کے پاس صرف سترہ احادیث تھیں  اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْ فِتَنِ ھٰذَا الزَّمَانِ۔ 
	مولانا اپنی اسی کتاب طریق محمدی صفحہ ١٦٨، ١٦٩ پر گوہرفشاں ہیں  : 
 ''پس تقلید جوچوتھی یا چھٹی صدی کی ایجاد ہے قطعاً!  مُحدَث ہے اور قطعاً بدعت ہے۔ اے ایک اللہ والو! ایک نبی والو! ایک قبیلے والو! یہ کیا مصیبت ہے کہ آج حنفی کہیں ہمارے امام کا قول یہ ہے اور ہمارے مذہب میں یوں ہے اس کے خلاف شافعی کہیں ہمارے امام کا قول یہ ہے اور ہمارا مذہب یہ ہے اور یہی آواز حنبلیوں کی طرف سے اُٹھے اور اسی کی نقل مالکیوں کی طرف سے کی جائے۔ مسلمانوں اس افتراق اور اختلاف کو مٹادو  ...........  تقلید شخصی نقیض ہے اتباع قرآن و حدیث کی''۔
	 اِس عبارت میں بھی مولانا موصوف نے تقلید کو بدعت اور گمراہی کہا ہے۔ حالانکہ تمام غیر مقلد عوام اپنے مولوی سے مسئلہ پوچھ کر عمل کرتے ہیں، خود تحقیق نہیں کرتے۔ اس طرح وہ بھی اپنے مولوی کے مقلد ٹھہرے کیونکہ جب مولوی مسئلہ بتاتا ہے تو وہ اُس سے دلیل کا مطالبہ نہیں کرتے یہی تقید ہے۔ لہٰذا تمام غیرمقلد بقول جونا گڑھی گمراہ اور حرام کا اِرتکاب کرنے والے ہیں۔
	حضرات ِگرامی! مولانا جوناگڑھی اپنی کتاب ''سیف ِمحمدی'' کے صفحہ ١١ پر تحریر فرماتے ہیں  :  
''ایک مسلمان پر اگر قرآن و حدیث پر عمل کرنا فرض ہے تو فقہ کے اِن دفاتر پر آنکھیں بند کیے عمل کرنا حرام بھی یقینا۔''
 	آپ کے اِس ارشاد سے معلوم ہوا کہ آپ کے نزدیک فقہ کی کتابوں میں دیے گئے مسائل پر عمل کرنا حرام ہے حالانکہ فقہ کی کتابوں میں قرآن و سنت، اجماع اور قیاس یعنی شریعت کی تمام حجتوں کے مسائل منضبط کیے ہوتے ہیں اس لیے فقہ کی کتابوں میں مندرج مسائل پر عمل نہ کرنے کا حکم دینا قرآن و سنت کے مسائل سے بھی رُوگردانی ہوگی۔ غیر مقلدین خداجانے فقہ کے نام سے کیوں الرجک ہیں حالانکہ قرآن پاک نے لِیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ کہہ کر علم فقہ کے حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ایک حدیث پاک کا مفہوم یہ ہے کہ ایک فقیہ
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 عربوں کا ذوق فصاحت وبلاغت : 6 3
5 عربوں کا قوی حافظہ اور اُس کی وجہ ، بدن ہلکا اور اُس کی وجہ : 6 3
6 وفد اور خطیب : 7 3
7 قوت ِ بیانیہ جادو کاسا اثر رکھتی ہے ، اِس سے انقلابات آجاتے ہیں : 7 3
8 ہٹلر انگریزوں کو تباہ کرکے خود بھی تباہ ہوگیا : 7 3
9 رسول اللہ ۖ کے پسندیدہ خطیب اور شاعر : 8 3
10 مسیلمہ کے پاس جنات اور شیاطین آتے تھے : 8 3
11 ہر قبیلہ میں کاہن ہوتا تھا : 9 3
12 ''حنفیہ''حضرت علی کی اہلیہ محترمہ : 9 3
13 قرآنِ پاک کی یکجا کتابت بعد اَزاں اشاعت : 9 3
14 مسیلمہ کا ناپاک مقصد : 10 3
15 نبی علیہ السلام کا جواب اور حضرت ثابت پر اعتماد : 10 3
16 دو جھوٹے نبی اور نبی علیہ السلام کا خواب : 10 3
17 مسیلمہ کے قاتل : 12 3
18 غیر مسلم شروع سے بدعہد ہیں : 12 3
19 تقریب ختم ِبخاری شریف قسط : ١ 13 1
20 اِلہامی ترتیب : 13 19
21 پہلا اور آخری باب : 14 19
22 وحی بمنزلِ صورت ،نیت بمنزلِ رُوح : 14 19
23 اعمال کی صورت اِس دُنیا میں بھی : 15 19
24 فائدہ یا نقصان اِس کا پتہ ناپ تول سے چلے گا : 17 19
25 وزن ِاعمال آخر میں لانے کی وجہ : 17 19
26 جو دیں کی خدمت یہ کر رہا ہے ،خدایا اِس کو قبول کر لے 18 1
27 جامعہ مدنیہ جدید کی ایک پُروقار اور تاریخی تقریب کی مختصر رُوداد 20 1
28 '' مذمت '' 23 27
29 رمضان المبارک کی فضیلت اور تاریخی واقعات 34 1
30 ماہِ رمضان کی فضیلت و عظمت : 34 29
31 نزول ِقرآن : 34 29
32 ماہِ رمضان نزولِ قرآن کی زندۂ جاوید یادگار ہے : 35 29
33 جنگ ِ بدر : 35 29
34 فتح مکہ : 35 29
35 روزے کے فائدے : 36 29
36 وزہ دار پر انعامات ِ خداوندی : 37 29
37 روزہ نہ رکھنے پر وعید : 37 29
38 شب براء ت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کن کاموں سے بچنا چاہیے 39 29
39 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 40 1
40 بسلسلہ اصلاح خواتین 44 1
41 عورتوں کے عیوب اور اَمراض 44 40
42 عورتوں کو ایک دوسرے سے ملنے میں احتیاط 44 40
43 نبوی لیل ونہار 46 1
44 آنحضرت ۖ کی پاک خصلتیں معاشرتی معاملات میں 46 43
45 بقیہ : عورتوں کے عیوب اور امراض 48 40
46 گلدستہ ٔ احادیث 49 1
47 تین قسم کے لوگوں کی دُعا ء رد نہیں ہوتی : 49 46
48 ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کے مقلدین کے بارے میں غیر مقلدین ( نام نہاد اہل ِ حدیثوں)کا نقطہ نظر 53 1
49 دینی مسائل 57 1
50 ( نکاح کابیان ) 57 49
51 ٹیلی فون پر نکاح : 57 49
52 عورت کی پہچان ضروری ہے : 57 49
53 نکاح کرنے میں کسی کو وکیل بنانا : 57 49
54 عذاب ِقبر احادیث کی روشنی میں 59 1
55 وفیات 61 1
56 اخبار الجامعہ 62 1
Flag Counter