ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2006 |
¾اكستان Ù |
|
پس فصیح بلیغ پیغمبر کا کلام چونکہ لغویات سے پاکیزہ ہونا ضرور ہے تو اِس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کسی خاص طور پر مغفرت اور بخشش ہوگی جو اور مسلمانوں سے زیادہ ہوگی اور اُس خاص طریق میں چند احتمال ہیں ،اولاً یہ کہ ابتدا ہی سے عذاب نہ ہو ۔ثانیاً یہ کہ حساب بالکل نہ ہو یا اُس میں تخفیف ہو یا نفس عذاب میں تخفیف ہو۔ ثالثاً یہ کہ ثواب میں بعد مغفرت زیادتی ہو اور یہ اَمر رحمت ِخداوندی سے کچھ بعید نہیں جو تعلق اللہ جل جلالہ' کا حضور سرورِ عالم ۖ کے ساتھ ہے وہ ظاہر ہے کہ کس درجہ کا ہے اور اس کی وجہ سے اگر اہل بیت کو یہ نعمت میسر ہو تو کیا جائے تعجب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جیسا کہ حدیث میں ہے اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ (میں نزدیک گمان اپنے بندہ کے ہوں وہ گمان جو مجھ سے رکھتا ہے) یعنی اگر مجھ سے اچھا گمان اور نیک اُمید رکھے گا تو ویسا ہی برتائو کروں گا اور اگر نااُمیدی اور بدگمانی رکھے گا تو ویسا ہی برتائو کیا جاوے گا) لیکن واضح رہے کہ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ حضرات بالکل مواخذہ سے بری ہیں بلکہ گناہ کی سزا خاص لوگوں کو زیادہ دی جاتی ہے ۔پس مراد یہ ہے کہ جو شخص باقتضائے قرابت ِنبوی ۖ ہر وقت اطاعت الٰہی میں مصروف ہوگا اور اتفاقاً کچھ کوتاہی اور کوئی گناہ بھی ہوجاوے گا تو اُس کا مواخذہ نہ ہوگا اور ببرکت قرابت ِنبوی ۖ وہ مغفور ہوگا اگرچہ وہ گناہ کیسا ہی بڑا ہو ۔ غرض اہل بیت نبوی ۖ کی مغفرت خاص طور پر ہوگی جو اہل بیت میں سے پارسا اور زاہد ہیں اُن کے اعلیٰ درجہ پر پہنچنے کی بشارت ہے یعنی اُن کے درجے بلند ہوں گے اور جوسخت گنہگار ہوں گے اہل بیت میں سے وہ بہ نسبت اور لوگوںکے عذاب کے زیادہ مستحق ہوں گے بوجہ خصوصیت قرابت ِنبوی ۖ کے اور مغفرت کے وقت خصوصیت مغفرت سے بھی مشرف ہوں گے ۔بڑی بے حیائی اور ناشکری ہے کہ اولاد نبوی ۖ میں ہوکر خدائے تعالیٰ کی نافرمانی کرے بلکہ لازم ہے کہ اِس نعمت کو غنیمت کبریٰ سمجھ کر ایسا شکر کرے کہ کوئی وقت طاعت باری سے خالی نہ جاوے اور اہل ِبیت میں آپ کے تمام اہل ِقرابت داخل ہیں ۔لیکن یہ ضرور ہے کہ جس درجہ کی قرابت ِقریبہ ہوگی اُسی درجہ کی فضیلت بھی زیادہ ہوگی یعنی مثلاً جو حضور ۖ کے حقیقی چچا ہوں وہ دُور کے رشتہ کے چچا سے کم ہوں گے اور اولاد میں سب کا ایک حکم ہوتا ہے یعنی نواسہ، بیٹی، بیٹا اور اُن کی اولاد اِن سب کی قرابت ِقریبہ ہی شمار ہے اگرچہ بظاہر کچھ تھوڑا سا فرق ہے لیکن عرف میں یہ قرابت ِبعیدہ شمار نہیں ہوتی ہاں جن فضائل کے ساتھ بعض مخصوص ہوں وہ دوسروں کو نہیں میسر ہوسکتے مثلاً حضرت امام حسین بوجہ صحابیت وغیرہ