ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2006 |
¾اكستان Ù |
|
یتے ہوں گے ہم تو اپنے حکمرانوں کی کرپشن، لوٹ کھسوٹ سے نجات کی دُعائیں مانگتے رہے کہ یہ ظالم اِس عظیم فریضہ کی ادائیگی والوں کو بھی معاف نہیں کرتے۔ انڈیا سے آنے والے حجاج کرام کا سب سے بڑا پیکچ ایک لاکھ پچیس ہزار روپے کا ہے جس میں انہیں فائیوسٹار ہوٹلوں کی رہائش مہیا کی جاتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں اس رقم کا عام پیکچ ہے جس سے حجاج کرام کو دُور دراز رہائش مہیا کی جاتی ہیں۔ انڈیا سے آنے والے حجاج کرام کا عام پیکچ تہتر ہزار روپے سے لیکر بیاسی ہزار روپیہ ہے۔ واپس ملنے والی رقم کے بعد انہیں پچاس ہزار روپے میں حج کا فریضہ پڑتا ہے جس رقم میں ہمیں عمرہ پڑتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں میں دین کی کوئی اہمیت ہے نہ اُن مقامات مقدسہ پر دعائوں اور بددعائوں کا کوئی تصور ان کے ذہن میں ہے۔ یاالٰہی ہمیں منافق حکمرانوں سے واسطہ پڑا ہے، زبان پر دین کا نام اور بے دینی الحاد کے دلدادہ ہیں، انہیں ہدایت نصیب فرمادے۔ اگر اِن کے مقدر میں ہدایت نہیں ہے تو دُنیا میں ہی اِن کو عبرتناک عذاب دے کر ہماری آنکھوں کو ٹھنڈا کردے۔ آمین یارب العالمین ۔ بہرحال سعودی حکومت سے ہماری حکومت کا موازنہ ''چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک'' کا مصداق ہے۔ تبلیغ، توحید اور ترویج و سنت میں سعودی علماء کرام کا انہماک اور جدوجہد قابل تحسین ہے۔ توحید و سنت کے قیام کے لیے وہ علماء کرام کسی قسم کی کوئی لچک نہیں دکھاتے۔ ردِ شرک و بدعت میں وہ سیف بے نیام ہیں۔ قرآن و سنت کے دلائل کے سامنے وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے، نہ حجت بازی کرتے ہیں فوراً تسلیم کرتے ہیں۔ یہ اُن کے خلوص و للّٰہیت کی دلیل ہے، اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرمائے۔ چاروں فقہی مذاہب باقاعدہ طور پر حکومتی اور غیر حکومتی اداروں میں پڑھائے جاتے ہیں۔ ائمہ حرمین کے جمعہ کے خطبات، کتاب و سنت کے دلائل سے بھرپور اور رُلانے والے ہوتے ہیں۔ حرمین کی تعمیر و ترقی اور مثالی عمارات حکومت کی حرمین کے ساتھ بے پناہ عقیدت و محبت کی دلیل ہے اور زندہ مثال ہے اور اس کے علاوہ قابل ذکر مساجد کی تعمیر حکومت سعودیہ کے ایمان کی دلیل ہے۔ حجاج کرام کو اللہ تعالیٰ کا مہمان سمجھ کر اُن کی تواضع و اکرام میں کسی قسم کا دقیقہ فروگزاشت نہ کرنا حکومت سعودیہ کی دینی اور دین والے لوگوں سے بے پناہ محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس بارے میں بندہ کا عربی زبان میں تفصیلی مضمون ''خیر الحکومت الحکومة السعودیہ'' کے عنوان سے زیر تحریر ہے اللہ تعالیٰ اس حکومت سعودیہ اور وہاں کے علماء کرام کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے اور جن منافقین حکمرانوں سے ہمیں واسطہ پڑا ہے اللہ تعالیٰ ان پر ہدایت کے دروازے کھول دے ،آمین ۔