ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2006 |
¾اكستان Ù |
|
وز مسلمان بھائی کی عزت و حرمت کے درپے ہونا، اسے جان و مال کے لحاظ سے تکلیف دینا، معاشرہ میں کسی کا مقام اور مرتبہ بڑھتے ہوئے دیکھ کر حسد کی آگ میں جلنا اور اُس کی کردار کشی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دینا، مذہبی اور سیاسی اختلاف کو مخالفت کی حد تک لے جانا اور نفرت و عداوت کی دیواریں قائم کرکے معاشرہ کو قتل و غارت کے ماحول میں تبدیل کردینا یقینا یہ عمل حج کی رُوح کے منافی اور اسلام کے مزاج کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مومن مسلمان کو اپنی رضا والے اعمال کی توفیق نصیب فرمائے، آمین ۔حج والے محنت طلب عمل میں سعودی حکومت نے حجاج کرام کو سہولت پہنچانے کے خاطر خواہ جو اقدامات کیے ہیں وہ اِس طرح کے ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی اُن کے لیے دل سے دُعا نکلتی ہے۔ وہ قابل قدر اقدامات اتنے زیادہ ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتے۔ حجاج کے اکرام اور خدمت کے لیے شاید اللہ تعالیٰ نے انہیں منتخب کرلیا ہے۔ اس خدمت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اِس حکومت کو جو اتنی وافر توفیق اور ہمت عطا فرمائی ہے اُس پر انتخاب کا شکر یہ ہے کہ وہ حکومت اس خدمت والے عمل سے ایک لمحہ بھر بھی غافل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس خدمت کو قبول فرمائے اور اس جذبہ میں مزید اضافہ فرمائے، آمین۔ اس حکومت سعودیہ کے ذمہ 35,30 لاکھ حجاج کو سنبھالنے کا کام ہے۔ اس کے ساتھ ہماری حکومت کا موازنہ کرلیجیے جس کے ذمہ اِس کی نسبت بہت کم حجاج کرام ہوتے ہیں اور روزِ اوّل حجاج کرام سے لوٹ کھسوٹ شروع ہوتی ہے اور تاروزِ آخر جاری رہتی ہے ،کسی حاجی کو سہولت فراہم کرنا، اس کی تکلیف کا ازالہ کرنا ہماری حکومت کی نگاہ میں گناہ کبیرہ سے کم نہیں۔ حکومت سعودیہ یومیہ فی حاجی سینکڑوں ریال بلادریغ خرچ کرتی ہے اور ہماری حکومت یومیہ فی حاجی سینکڑوں روپیہ لوٹ کھسوٹ کرتی ہے بہ بیں تفاوت راہ کجاست تابہ کجا۔ ہدایت تو ہمارے حکمرانوں کے مقدر میں نہیں رہی۔ ظاہر ہے کہ پھر اِن کے لیے دوسری دُعا ہی زیادہ مناسب رہے گی لیکن ہم تو پھر بھی ہدایت کی دُعا کرتے رہیں گے۔ حجاج کرام کی خدمت کے لیے وہاں جو عملہ تعینات کیا جاتا ہے وہ شاید لوٹ کھسوٹ، بداخلاقی کا سپیشل کورس کرکے یہاں سے بھیجا جاتا ہے۔ پورے ملک میں جو میرٹ پر آتا ہے وہ حجاج کرام کی خدمت کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حجاج کرام سے ملاقات ہوتی رہی۔ عربی، اُردو سمجھنے والوں سے تو حالات معلوم ہوجاتے تھے تو ہمیں اُن پر رشک آتا کہ ہم بھی ان ممالک سے حج کرنے والوں میں شامل ہوتے ،وہ ممالک اپنے حجاج کرام کو بہت زیادہ ریلیف دیتے ہیں۔ ان ممالک میں ہرادارہ جو حج سے کسی نہ کسی طرح متعلق ہوتا ہے وہ اپنی طرف سے حجاج کرام کو ریلیف دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ حجاج کرام اُن کو دعائیں