ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2005 |
اكستان |
|
یہ اللہ تعالیٰ کی نظررحمت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکات اورسکینہ کا نزول ان صحابی نے اپنے آپ محسوس کیااوراس کو دیکھا ۔اگر محسوس نہ بھی ہو کسی کو تو اتنا تو محسوس ضرور ہی ہو گا کہ طبیعت میں سکون کچھ نہ کچھ آئے گا۔ یہ نظر آنا تو بہت ہی بڑی بات ہے،ایک بہت مشکل کام ہے ،عام نہیں ہے۔ اورخدا کی ایک خاص قسم کی عنایت ہے کہ کسی کو نظر آجائے۔ مگر جس چیز کے عام ہونے کی ضرورت ہے وہ وہی ہے کہ قلب سکون محسوس کرے ،لہٰذا یہ عام ہے۔ اب جو مسلمان تلاوت کرے گا اُس پر اُس کے اثرات مرتب ضرور ہوں گے۔ قرآن پاک کی تلاوت کا جوڑ رمضان کے مبارک ایام سے بہت زیادہ ہے ،تو اِس میں جتنا وقت زیادہ صرف کیا جا سکے ذکر تلاوت، استغفار ، دُعائیں اوردُعائیں تو بہت زیادہ مانگی جائیں ۔بہت زیادہ ضرورت ہے دعا کی سب کے لیے، حکام کے لیے بھی مانگی جائیں ،ملک کے لیے مانگی جائیں، جہاں اپنے لیے مانگیںاپنے حالات کے لیے مانگیں وہاں اِن کے لیے کہ خدا اِنھیں ٹھیک کرے اور ٹھیک رکھے ،ہدایت دے بہتر راستوں پر چلائے ، غلط راستوں سے بچائے ۔ورنہ آپ سن رہے ہیں دیکھ رہے ہیں کیا خراب ہوتا چلا جا رہا ہے حال ۔خدا کی طرف بار بار رجوع میں بہت کمی ہے، وہ بہت زیادہ ہونا چاہیے ،ہر انسان انفرادی طورپر تو کم ازکم کرے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے اوراپنی رضااورخیرو رحمتوں سے ہمیں دُنیا اورآخرت میں نوازے ۔آمین ۔ اختتامی دُعا..........................