ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2005 |
¾اكستان Ù |
|
ورناک دونوں میں عذر مثلاً زخم ہے تو سجدہ کے لیے سر سے اشارہ کرلینا کا فی ہے سجدہ نہ کرے۔ مسئلہ : اگر کسی کبڑے یا بوڑھے کی پیٹھ رکوع کی حد تک جھکی ہوئی ہو تو وہ رکوع کے لیے اپنے سر سے اشارہ کرے یعنی سر کو ذرا جھکا دینے سے اُس کا رکوع ادا ہو جائے گا۔ لیٹ کر نماز پڑھنا : مسئلہ : اگر بیٹھنے پر قادر نہیں اگرچہ وہ عذر حکمی ہو مثلاً کسی نے آنکھ بنوائی اور طبیب حاذق مسلمان نے چِت لیٹے رہنے کا حکم کیا اور ہلنے جلنے سے منع کردیا تو لیٹے لیٹے اشارہ سے نماز پڑھتا رہے کیونکہ جیسے جان بچانا فرض ہے ویسے ہی اعضا ء کا بچانا بھی فرض ہے ۔ مسئلہ : لیٹ کر نماز پڑھنے کی صورت یہ ہے کہ چت یعنی کمر پر لیٹے اور اپنے دونوں پائوں قبلہ کی طرف پھیلائے (ہمارے ملک میں چونکہ قبلہ مغرب کی طرف ہے لہٰذا مریض کا سر مشرق کی طرف ہوگا اوراُس کے پائوں مغرب کی طرف ہوں گے)اور اشارہ سے رکوع وسجود کرے۔لیکن اگر کچھ طاقت ہو تو دونوں گھٹنوں کو کھڑا کرلے اورپائوں قبلہ کی طرف نہ پھیلائے کیونکہ بلا ضرورت یہ فعل مکروہ تنزیہی ہے۔ چاہیے کہ سرکے نیچے ایک تکیہ رکھ دیں تاکہ لیٹا ہوا مریض بیٹھنے والے کے مشابہ ہو جائے اور سر قبلہ کی طرف ہو جائے آسمان کی طرف نہ رہے، اوررکوع وسجود کے لیے اشارہ بھی اچھی طرح کرسکے۔ مسئلہ : اگرچت نہ لیٹے بلکہ دائیں یا بائیں کروٹ پر لیٹے اورمنہ قبلہ کی طرف کو کرکے اشارہ سے نماز پڑھے تو جائز ہے لیکن چت لیٹنا اولیٰ وافضل ہے اور دائیں کروٹ کو بائیں کروٹ پر فضیلت ہے اور جائز دونوں طرح ہے ۔ مسئلہ : اگر تندرست آدمی نے کھڑے ہو کر نماز شروع کی پھر اُس کوکوئی مرض ایسا پیدا ہو گیا کہ قیام نہیں کرسکتا مثلاً کوئی رگ چڑھ گئی تو بیٹھ کر باقی نماز پڑھے نئے سرے سے پڑھنے کی ضرورت نہیں اوررکوع و سجود کرے اوراگر رکوع وسجود پر بھی قادر نہیں تو بیٹھ کر اشارہ سے باقی نماز پڑھے اور اگر بیٹھنے پر بھی قادر نہیں تو لیٹ کر اشارہ سے باقی نماز پڑھے۔ مسئلہ : جو شخص عذر کی وجہ سے بیٹھ کر رکوع و سجود سے نماز پڑھتا تھا پھر نماز کے اندر تندرست ہو گیا یعنی قیام پر قادر ہوگیاتو ا پنی باقی نماز کھڑے ہو کر پڑھے ۔