ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2005 |
¾اكستان Ù |
|
مسئلہ : اگر کچھ نماز کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر اشارہ سے پڑھی پھر کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر رکوع وسجود کرنے پر قادر ہو گیا تو نئے سرے سے نماز پڑھے۔ یہ حکم اُس وقت ہے جب رکوع وسجود کی قدرت ایک دفعہ اشارہ سے رکوع و سجود کرلینے کے بعد حاصل ہوئی ہو لیکن اگرنماز شروع کرنے کے بعد اور رکوع وسجود کرنے سے پہلے یہ قدرت حاصل ہوئی تو اسی نماز کو رکوع وسجود کے ساتھ پورا کرلے، نئے سرے سے پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ اگر چت یا کروٹ پر لیٹ کر اشارہ سے نماز شروع کی تو خواہ رکوع و سجود کے اشارہ سے پہلے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر رکوع وسجود کرنے پر قادر ہوگیا یا بعدمیں قادر ہوا ،ہرحا ل میں نئے سرے سے نماز پڑھے۔ مسئلہ : عذر کے ساتھ اشارہ سے جو نمازیں پڑھیں صحت کے بعد اُن کااعادہ نہیں ہے۔ مسئلہ : اسی طرح کسی کی زبان ایک دن رات تک بند رہی اور گونگے کی طرح نماز پڑھی پھر زبان کھل گئی تو ان نمازوں کا اعادہ نہیں ہے۔ مسئلہ : جب مریض سر سے اشارہ کرنے سے بھی عاجز ہو تو نماز کا فرض اس سے ساقط ہو جا تا ہے ۔ آنکھ یا اَبرو یا دل کے اشارہ سے نماز نہ پڑھے کیونکہ ان کے اشارہ کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ ایسے مریض کو جب صحت ہو جائے تو اُس پر ایسی نمازوں کی قضا کے لازم ہونے یا نہ ہونے میں چار صورتیں ہیں ۔ (١) مرض ایک دن ایک رات یعنی پانچ نمازوں سے زیادہ رہا اور اس کی عقل قائم نہ رہی، اِس صورت میں حالت ِمرض کی نمازوں کی قضا نہیں ہے۔ (٢) مرض بے ہوشی کے ساتھ ایک دن ایک رات یا اس سے کم رہا مگر عقل قائم رہی، اِس صورت میں صحت ہونے پر قضا پڑھے۔ (٣) دن رات سے زیادہ مرض رہا اور عقل قائم رہی ۔ (٤) مر ض دن رات سے کم رہا اور عقل قائم نہ رہی ۔ ٣ اور ٤ دونوں صورتوں میں قضا لازم ہے۔ (جاری ہے)