Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2005

¾اكستان Ù

54 - 64
گلدستۂ حدیث   			            مولانا نعیم الدین صاحب
دو قسم کے حریص
عن انس ان النبی ۖ  قال  : مَنْھُوْمَانِ لَا یَشْبَعَانِ مَنْھُوْم فِی الْعِلْمِ لَا یَشْبَعُ مِنْہُ وَمَنْھُوْم فِی الدُّنْیَا لَایَشْبَعُ مِنْھَا ''۔ ( شعب الایمان  للامام البیہقی )
 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم  ۖ نے فرمایا : دو حرص کرنے والے ایسے ہیں جن کا کبھی پیٹ نہیں بھرتا  (١) ایک علم میں حرص کرنے والا کہ اُس کا پیٹ کبھی علم سے نہیں بھرتا  (٢) اور دوسرا دُنیا کی حرص کرنے والا کہ اُس کا پیٹ دُنیا سے کبھی نہیں بھرتا۔
	اس حدیث ِمبارک میں حضور اکرم  ۖ نے علم کی فضیلت ذکر فرمائی ہے کہ علم ایسی عظیم دولت ہے کہ جب انسان کو اِس کا چسکا لگ جاتا ہے تو (چونکہ اُس کی کوئی آخری حد تو ہے نہیں اس لیے)وہ اپنے حاصل کردہ علم پر قناعت نہیں کرتا اوراس سے سیر نہیں ہوتا بلکہ حصولِ علم میں ہر درجہ آگے سے آگے بڑھنے کی جستجو میں رہتا ہے ۔علماء ربانیین کی زندگیاں اِس پر شاہد ِعدل ہیں۔ 
دوقسم کے علم 
عن الحسن قال :  اَلْعِلْمُ عِلْمِانِ فَعِلْم فِی الْقَلْبِ فَذَاکَ الْعِلْمُ النَّافِعُ وَعِلْم  عَلَی اللِّسَانِ فَذَاکَ حُجَّةُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ عَلَی ابْنِ آدَمَ ''(مسندِ دارمی)
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علم کی دو قسمیں ہیں (١) ایک وہ علم جو دل کے اندر ہوتا ہے یہ علم تو نفع دیتا ہے (٢) اور دوسرا وہ علم ہے جو زبان کے اُوپر ہوتا ہے ،یہ علم آدمی پر اللہ عزوجل کی دلیل وحجت ہوتا ہے۔
	حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے علم کی جو دوقسمیں کی ہیں ان میں سے پہلی قسم کو'' علمِ باطن'' کہا جاتا ہے اوردوسری قسم کو'' علمِ ظاہر '' ۔جب تک ظاہر کی اصلاح نہیں ہوتی ،علمِ باطن سے کچھ میسر نہیں آتا۔ اسی طرح جب تک باطن کی اصلاح نہیں ہوتی ،علمِ ظاہر کی تکمیل نہیں ہوتی ۔ 
	علمِ ظاہر کو جو اِس حدیث میں آدمی پر اللہ کی دلیل وحجت کہا گیا ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ بندوں کو الزام دیتے ہوئے فرمائیںگے کہ میں نے تمہیں علم دیا تھا تم نے اِس پر عمل کیوں نہیںکیا
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی ضابطہ نہیں ہے : 6 3
5 معجزہ اورنظر بندی کا فرق : 6 3
6 حضرت جابر کے لیے دُعائے مغفرت : 7 3
7 مغفرت کا مطلب : 7 3
8 صحابہ کرام کی سب سے بڑی خصوصیت : 8 3
9 قرآن پاک 9 1
10 (١) قرآن کلام اللہ ہے : 9 9
11 قرآن ِپاک اورذاتِ الٰہی : 10 9
12 شیخ الاسلام سیمینار 16 1
13 دُعا کے فضائل وترغیب میں رسول اللہ ۖ کے ارشادات 29 1
14 دُعا کا حکم ، دُعا عبادت ہے : 29 13
15 دُعا کا حکم اس اُمت کی خصوصیت ہے : 29 13
16 دُعا تقدیر کو بدل دیتی ہے : 30 13
17 دُعا عبادت کا مغز ہے : 30 13
18 دُعا نصف عبادت ہے : 30 13
19 دُعارحمت کی کنجی ہے : 31 13
20 دُعا افضل عبادت ہے : 31 13
21 دعاء مؤمن کا ہتھیا رہے : 31 13
22 دُعا گمان کے اعتبار سے ہے : 31 13
23 دُعا کرنے والا کبھی برباد نہیں ہوتا : 31 13
24 دُعا نازل اورغیر نازل دونوں مصائب کے لیے نفع بخش ہے : 32 13
25 بندے کی دُعا پر اللہ کا اثر : 32 13
26 استخارہ ، متعلقات ومسائل 33 1
27 استخارہ کی حکمت : 34 26
28 استخارہ کی فضیلت : 34 26
29 استخارہ کا مسنون طریقہ : 35 26
30 استخارہ کا نتیجہ : 36 26
31 استخارہ کن امور میں کیا جائے ؟ 37 26
32 نماز استخارہ کن اوقات میں پڑھی جائے؟ 38 26
33 استخارہ میں تکرار : 38 26
34 نتیجہ ٔ استخارہ کا شرعی حکم : 39 26
35 کسی شخص کا دُوسرے کے لیے استخارہ کرنا : 39 26
36 حضور ۖ کی سیرت و صورت 42 1
37 رسول اللہ ۖ کی صورتِ مبارکہ وحُسن وجمال کی ایک جھلک : 42 36
38 آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری 42 36
39 وفیات 47 1
40 نبوی لیل و نہار 48 1
41 آنحضرت ۖ کی عادات ِپاکیزہ کھانا کھانے کے بارہ میں : 48 40
42 دو قسم کے حریص 54 40
43 دوقسم کے علم 54 40
44 بچوں کی پرورش سے متعلق احادیث ِنبویہ 55 1
45 بچوں کی پرورش میں مصیبتیں جھیلنے اوردُودھ پلانے کی فضیلت : 55 44
46 لڑکیوں کی پرورش کرنے کی فضیلت : 55 44
47 حمل ساقط ہوجانے اورزچہ بچہ کے مر جانے کی فضیلت : 55 44
48 جناب جنرل پرویز مشرف صاحب اور جناب شوکت عزیز صاحب کے نام کھلا خط 57 1
49 دینی مسائل 60 1
50 ( بیمار کی نماز کا بیان ) 60 49
51 قیام سے متعلق مسائل : 60 49
52 بیٹھ کر نماز پڑھنا : 61 49
53 لیٹ کر نماز پڑھنا : 62 49
Flag Counter