ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2005 |
¾اكستان Ù |
|
گلدستۂ حدیث مولانا نعیم الدین صاحب دو قسم کے حریص عن انس ان النبی ۖ قال : مَنْھُوْمَانِ لَا یَشْبَعَانِ مَنْھُوْم فِی الْعِلْمِ لَا یَشْبَعُ مِنْہُ وَمَنْھُوْم فِی الدُّنْیَا لَایَشْبَعُ مِنْھَا ''۔ ( شعب الایمان للامام البیہقی ) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ۖ نے فرمایا : دو حرص کرنے والے ایسے ہیں جن کا کبھی پیٹ نہیں بھرتا (١) ایک علم میں حرص کرنے والا کہ اُس کا پیٹ کبھی علم سے نہیں بھرتا (٢) اور دوسرا دُنیا کی حرص کرنے والا کہ اُس کا پیٹ دُنیا سے کبھی نہیں بھرتا۔ اس حدیث ِمبارک میں حضور اکرم ۖ نے علم کی فضیلت ذکر فرمائی ہے کہ علم ایسی عظیم دولت ہے کہ جب انسان کو اِس کا چسکا لگ جاتا ہے تو (چونکہ اُس کی کوئی آخری حد تو ہے نہیں اس لیے)وہ اپنے حاصل کردہ علم پر قناعت نہیں کرتا اوراس سے سیر نہیں ہوتا بلکہ حصولِ علم میں ہر درجہ آگے سے آگے بڑھنے کی جستجو میں رہتا ہے ۔علماء ربانیین کی زندگیاں اِس پر شاہد ِعدل ہیں۔ دوقسم کے علم عن الحسن قال : اَلْعِلْمُ عِلْمِانِ فَعِلْم فِی الْقَلْبِ فَذَاکَ الْعِلْمُ النَّافِعُ وَعِلْم عَلَی اللِّسَانِ فَذَاکَ حُجَّةُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ عَلَی ابْنِ آدَمَ ''(مسندِ دارمی) حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علم کی دو قسمیں ہیں (١) ایک وہ علم جو دل کے اندر ہوتا ہے یہ علم تو نفع دیتا ہے (٢) اور دوسرا وہ علم ہے جو زبان کے اُوپر ہوتا ہے ،یہ علم آدمی پر اللہ عزوجل کی دلیل وحجت ہوتا ہے۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے علم کی جو دوقسمیں کی ہیں ان میں سے پہلی قسم کو'' علمِ باطن'' کہا جاتا ہے اوردوسری قسم کو'' علمِ ظاہر '' ۔جب تک ظاہر کی اصلاح نہیں ہوتی ،علمِ باطن سے کچھ میسر نہیں آتا۔ اسی طرح جب تک باطن کی اصلاح نہیں ہوتی ،علمِ ظاہر کی تکمیل نہیں ہوتی ۔ علمِ ظاہر کو جو اِس حدیث میں آدمی پر اللہ کی دلیل وحجت کہا گیا ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ بندوں کو الزام دیتے ہوئے فرمائیںگے کہ میں نے تمہیں علم دیا تھا تم نے اِس پر عمل کیوں نہیںکیا