ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2005 |
¾اكستان Ù |
|
(٥٨) پینے کی چیزوں میں دُودھ طبیعت ِپاک کو سب سے زیادہ مرغوب تھا۔ (٥٩) دُودھ کبھی تنہا استعمال فرماتے اور کبھی ٹھنڈا پانی ملا کر نوشِ جان فرماتے۔ (٦٠) کبھی آپ ۖ مشک یا ڈول سے منہ لگا کر پانی پی لیا کرتے۔ (٦١) آنحضرت ۖ جب پینے کی چیز کسی مجلس میں تقسیم کراتے تو حکم دیتے کہ پہلے عمر میں بڑے لوگوںسے دَور شروع کیا جائے۔ (٦٢) جب مجلس میں کسی پینے کی چیز کا دور چل رہا ہوتا اورباربار پیالہ آرہا ہوتا تو دوسرا پیالہ آنے پر حضوراکرم ۖ اُسی جگہ سے شروع کراتے جہاں پہلا دور ختم ہواتھا۔ (٦٣) جب آنحضرت ۖ اپنے احباب کو کوئی چیز پلاتے تو آپ ۖ خود سب سے آخر میں نوشِ جان فرماتے اور فرماتے کہ ساقی سب سے آخر میں پیتا ہے۔ (٦٤) حضور ا قدس ۖ عام استعمال گاہوں مثلاً نہروں ،ندیوں یا تالابوں سے پانی منگا کر نوش فرمایا کرتے تھے تاکہ عام مسلمانوں کے ہاتھوں کی برکت حاصل فرمائیں۔ (٦٥) آنحضرت ۖ نے کانچ،مٹی،تانبے، اورلکڑی کے برتنوں میں پانی نوش فرمایا ہے۔ (٦٦) آپ ۖ اکثر جَو کے ستُّو استعمال فرماتے۔ (٦٧) بادام کے سَتُّو ایک مرتبہ خدمت ِعالی میں پیش ہوئے تو آپ ۖ نے ان کو پینے سے انکار فرمایا اورفرمایا کہ یہ اُمراء کی غذاہے۔ (٦٨) شہد ملا ہوا دُودھ بھی حضوراکرم ۖ نوش نہیں فرماتے اور فرماتے کہ ''دوسالن ایک برتن میں'' یعنی یہ اسراف کیسا؟ (٦٩) آپ ۖ پانی بیٹھ کر تین سانس میں اِس طرح نوش فرماتے کہ ہر دفعہ برتن سے منہ مبارک لگاتے وقت بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کہتے اور جب برتن کو منہ سے ہٹاتے تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ فرماتے، آخر مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کے ساتھ وَالشُّکْرُ لِلّٰہِ بھی بڑھا دیتے۔ (جاری ہے) ضضض