ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2005 |
¾اكستان Ù |
|
جائے پھر اُس کو ذبح کراکے پکواتے اور تناول فرماتے ۔ (٤٦) آپ ۖ کھچڑی بہت پسند فرماتے۔ (٤٧) گوشت کے شوربے میں ڈبوئی ہوئی روٹی(ثرید) بہت مرغوبِ طبع تھی ۔ (٤٨) مکھن اورکھجور بھی حضور اقدس ۖ کو بہت پسند تھے۔ (٤٩) دُودھ اورکھجور ساتھ ساتھ تناول فرماتے اورارشاد فرماتے کہ یہ دونوں چیزیں بہت عمدہ ہیں۔ (٥٠) جب آنحضرت ۖ کھانے میں سے اول لقمہ لیتے تو فرماتے یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ (٥١) جب کھانا پا س آتا تو فرماتے : اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ مَارَزَقْتَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ بِسْمِ اللّٰہِ۔ (٥٢) جب آپ ۖ کھانا تناول فرماچکتے تو فرماتے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ (٥٣) جب دستر خوان اُٹھ جاتا تو آپ ۖ ارشاد فرماتے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًاطَیِّبًا مُبَارَکاً فِیْہِ غَیْرَ مُکَفٍّی وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنٍی عَنْہُ ۔ (٥٤) جب حضور اکرم ۖ کہیں مدعو ہوتے تو داعی کے حق میں ان الفاظ سے ضرور دعا فرماتے اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَھُمْ فِیْ مَارَزَقْتَھُمْ وَاغْفِرْلَھُمْ وَارْحَمْھُمْ ۔ آنحضرت ۖ کی عاداتِ طیّبہ پینے میں : (٥٥) آنحضرت ۖ پانی چُوس کر بغیر آواز کے نوش فرماتے۔ غٹ غٹ کرکے آواز کی گھونٹوں سے کبھی نہیں پیتے تھے۔ (٥٦) آپ ۖ کو میٹھے پانی کا بہت شوق تھا۔ دُور دُور سے یعنی دو روز تک کی مسافت سے منگا کر نوش فرماتے۔ (٥٧) ازواجِ مطہرات میں چونکہ حضور ۖ کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خصوصی اُنس تھا اس لیے عادتِ طیبہ تھی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جس برتن سے اور جس رُخ سے پانی پیتیں، آنحضرت ۖ بھی اپنے لب ِمبارک اُسی جگہ لگا کر پانی نوشِ جان فرماتے ۔