ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2004 |
¾اكستان Ù |
|
(٦) دُعا میں ہاتھ کن موقعوں پر اُٹھانے سنت ہیں : باقی دعائوں کے بارے میں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ دعا میں ہاتھ اُٹھانے اُسی جگہ سنت ہیں جہاں نبی اکرم ۖ سے ہاتھ اُٹھانے ثابت ہیں اور جس مقام پر ہاتھ اُٹھانے ثابت نہیں وہاں بغیر ہاتھ اُٹھائے دعا کرنا سنت ہے اور ایسے موقعہ پر ہاتھ اُٹھانا خلافِ سنت اور مکروہ ہے ۔ اس موقع پر طحطاوی ص١٧٤ میں تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ اور شرح مناسک میں ملا علی قاری لکھتے ہیں : '' السنة متبعة فی الاحوال المختلفة اما ترٰی انہ علیہ السلام دعٰی فی الطواف ولم یرفع یدیہ ''۔ '' سنت کی مختلف حالات میں پیروی کی جائے گی کیا تم نہیں دیکھتے کہ حضور علیہ السلام نے طواف میںدعا مانگی اور ہاتھ نہیں اُٹھائے''۔ تفسیر رُوح البیان ص ٣٢٦ ج٤ میں علامہ اسماعیل حقی افندی نقل فرماتے ہیں کہ حضرت بایزید بسطامی فرماتے ہیں کہ ایک رات کو میں نے سخت سردی کی وجہ سے ایک ہی ہاتھ کونکال کر دعا مانگی۔ دعا سے فراغت کے تھوڑی دیر بعد مجھ پر اُونگھ طاری ہوئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرا وہ ہاتھ جو دعا کے لیے نکالا تھا نور سے بھرا ہوا ہے اور دوسرا بالکل خالی ۔ تو میں نے کہا اے میرے پروردگار اس کی کیا وجہ ہے؟ تو غیب سے آواز آئی کہ جس ہاتھ کو تو نے دعا کے لیے نکالا تھا وہ تونور سے بھر دیا گیا ہے اور جس کو تونے مستور رکھا وہ محروم کردیاگیا۔ ادب ٣ : ''دون العین فھو منھی عنہ ''۔ (عین العلم) '' اور آدابِ دعا سے ایک یہ ہے کہ دعا کے وقت اپنی نگاہ آسمان کی طرف نہ اُٹھائے کیونکہ بوقتِ دعا نگاہ کا بلند کرنا ممنوع ہے''۔ تشریح : زین الحلم شرح العلم ص١٠٢ ج ١ میں ملا علی قاری اس قول کے تحت تحریر فرماتے ہیں کہ مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ آنحضرت ۖ نے فرمایا : '' لینتھین اقوام عن رفع ابصارھم الی السمائِ عند الدعائِ اولتخطفن ابصارھم ''۔ (باقی صفحہ ٤١ )