Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2003

اكستان

56 - 65
ہے کہ ایک صاحب نے کچھ لوگوں کی امامت کروائی،دورانِ امامت اُنہوں نے قبلہ کی جانب تھوک دیا، رسولِ اکرم  ۖ  یہ دیکھ رہے تھے ،جب وہ صاحب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا : یہ صاحب آئندہ تمہاری امامت نہ کرائیں ۔ان صاحب نے اس واقعہ کے بعد جب دوبارہ اُن لوگوں کی امامت کرانے کا ارادہ کیا تو اُن لوگوں نے اُنھیں روک دیا اور کہا کہ حضور علیہ السلام نے منع فرمایا ہے ،اُن صاحب نے حضور علیہ السلام سے اس کا تذکرہ کیا ،آپ نے فرمایا ہاں (میں نے منع کیاہے) حضرت سائب کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے اُن سے یہ بھی فرمایا کہ تم نے اللہ اور اللہ کے رسول کو اذیت دی ہے ۔
	اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جانب ِقبلہ محترم ہے اس کا انتہائی احترام کرنا چاہیے نہ اس کی طرف تھوکنا چاہیے نہ اس کی طرف بلا عذر پائوں پھیلا نے چاہئیں اور نہ اس کی طرف رُخ کرکے یا پیٹھ کرکے بول وبراز کرنا چاہیے۔ہمارے اسلاف نے اس رمز کو سمجھا تھا وہ معمولی معمولی آداب کا بھی خیال رکھتے تھے اور ایسے لوگوں سے بچتے تھے جنھیں شعائر اللہ کے آداب کا خیال نہیں ہوتا تھا ۔
	امام قشیری رحمہ اللہ (م : ٤٦٥ھ)سرخیلِ صوفیاء حضرت با یزید بسطامی رحمہ اللہ (م : ٢٦١ھ)کا ایک واقعہ اپنی سند سے ذکر فرماتے ہیں کہ  :
''عَمِّیْ بسطامی کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ فرمارہے تھے کہ مجھ سے حضرت بایزید بسطامی نے فرمایا : چلو ذرا چل کر اس بندہ کی زیارت کر آئیں جس نے اپنے بارہ میں مشہور کر رکھا ہے کہ اُسے ولایت حاصل ہے، زہد و عبادت میں بھی اس کی بڑی شہرت ہے چنانچہ ہم اس کی زیارت کو چلے، جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھاکہ وہ صاحب گھر سے مسجد میں آئے اور آتے ہوئے راستے میں انہوںنے قبلہ کی طرف منہ کرکے تھوکا ،یہ دیکھ کر حضرت بایزید بسطامی واپس چلے آئے اور اُسے سلام تک نہیں کیا، فرمایا : جوشخص رسول اکرم  ۖ  کے آداب میں سے ایک ادب کا بھی خیال نہیں رکھ سکتا وہ اس چیز (ولایت) کا کیا خیال کرے گا جس کا وہ دعویدار ہے''  ١   
	ہمیں اس واقعہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ ہمارے اسلاف کیا تھے اور ہم کیاہیں ؟ہمارے اسلاف کا یہ حال تھا کہ وہ شریعت کے ایک معمولی سے ادب میں کوتاہی کرنے والے کو بھی اچھا نہیں سمجھتے تھے اور ہمارا حال یہ ہے کہ ہم صریح حرام کاموں میں مبتلا اشخاص کو بھی اچھا سمجھتے ہیں اور اُنھیں مقتدا وپیشوا بنا لیتے ہیں ۔  ع
  ببیں تفاوت رہ از کجا تا بکجااست


x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
50 درس حدیث 6 1
51 فضیلت حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما 6 50
52 حضرت عائشہ کی غیرت : 6 50
53 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا : 7 50
54 حضرت عائشہ کی باری، لوگوں کا رویہ ، اس کی وجہ : 7 50
55 ازواجِ مطہرات کی دو جماعتیں : 7 50
56 سوکن کی برداشت : 7 50
57 حضرت اُم ِ سلمہ کی گفتگو ،بعد ازاں تائب ہونا : 8 50
58 ایک اور کوشش اور بیٹی کی سعادت مندی : 8 50
59 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کامان : 9 50
60 حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب رحمہ اللہ 10 1
61 جیل خانے یا عبادت گاہیں،ان حضرات کے مشاغل کی ایک جھلک : 10 60
62 جمعیة علماء ہند کی نظامت : 12 60
63 ١٩٤٧ء کے بعد حالات اور خدمات : 12 60
64 ٤٧ء کے بعد پیش آنے والے حالات کے ضمن میں : 14 60
65 جدید دفترجمعیة علماء ہند : 15 60
66 آخری دور کی تصانیف : 15 60
67 سلوک واحسان : 17 60
68 تعلیمی اشغال مدارس سے شغف : 18 60
69 عادات واخلاق : 20 60
70 عبادت وریاضت : 21 60
71 آخر وقت تک عزیمت پر عمل پیرا رہنے کی کوشش : 21 60
72 علالت : 22 60
73 وفات : 22 60
74 حُسنِ خاتمہ : 23 60
75 ایک اہم اعلان 25 1
76 قسط :١حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہ اور حضرت علی کے ساتھ اُن کا اتصال 27 1
77 نشو ونما : 30 76
78 حسن بصری نے کن صحابہ سے روایت کی : 34 76
79 فہمِ حدیث 37 1
80 ٭قیامت اور آخرت کی تفصیلات 37 79
81 شفاعت : 37 79
82 شفاعت کون کون کرے گا : 42 79
83 جہنم میں داخلہ سے پہلے شفاعت : 42 79
84 اکمالِ دین 43 1
85 قرآن وحدیث میں تحریف : 43 84
86 (٢) اکمالِ دین ادلہ ٔ اربعہ کی صورت میں : 48 84
87 دعوت الی الحق : 50 84
88 آپ کے دینی مسائل 51 1
89 ٭( نماز پڑھنے کا طریقہ ) 51 88
90 نماز کی سنتیں : 51 88
91 حاصل مطالعہ 55 1
92 بے ادب بے نصیب : 55 91
93 قبلہ کی طرف تھوکنا بے ادبی ہے : 55 91
94 پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے : 57 91
95 ھَلْ جَزَآئُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ : 59 91
96 وَکَذَالِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُ وًَّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ : 60 91
Flag Counter