ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2017 |
اكستان |
|
مسیحی مشنریاں ١٦٧ تبلیغی مراکز ٢٤٠ مبلغ ٧٢١٨ ٹریننگ کالج برائے تعلیم تبلیغ ٦١ گرجاؤں کے پادری ٧٧٩ ١٨ مذہبی اخبارات مختلف زبانوں میں ٩٩ پریس ٤٢ سنڈے اسکول ٨٢٠ ہائی اسکول ٦١٠ کالج ٥٠ زراعتی اسکول ٩٠٨ صنعتی سکول ١٧٠ تعداد طلبہ ٠٠٠، ٦٠ ،١٠ اساتذہ ٠٤٤، ٤٨ ہسپتال ٤٠٨ ڈاکٹر اور نرسیں ١٥٩٨ ١٩١٣ء میں تمام ہندوستان میں ١٣٦ مشنریاں تھیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے : امریکہ اور کینڈا کی تبلیغی جماعتیں ٤١ ، آسٹریلیا کی تبلیغی جماعتیں ٨ ،لنکا کی تبلیغی جما عتیں ٣ ،براعظم کی تبلیغی جماعتیں ١٢ ،ہندوستان کی تبلیغی جماعتیں ٧، بین الاقوامی تبلیغی جماعتیں ٩ ،بلدی١٣٦ / ١٢ مگر دس برس کے اندر ١٩٢٣ء میں ان کی تعداد میں اکتیس مشنریوں کا اضافہ ہوجاتا ہے ١٩١٣ء میں ان مشنریوں کا سالانہ خرچ باون کروڑ روپیہ تھا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اب وہ کس قدر خرچ کررہی ہونگی، انجیل کا ترجمہ ایک سو چار زبانوں میں کیا جا چکا ہے، ہندوستان میں ١٩٢٦ء میں آٹھ لاکھ پچاس ہزار انجیلیں فروخت اور تقسیم کی گئیں مگر ١٩٢٧ء میں ان کا عدد دس لاکھ باسٹھ ہزار کو پہنچ گیا۔ ان اعداد و شمار کو ملاحظہ فرمائیے کہ کس طرح عیسائیت زور دار طریقہ پر اپنا پنجہ گڑاتی ہوئی ہندوستانیوں کو ہندوستان میں عیسائیت کی طرف کھینچ رہی ہے ،صرف حیدر آباد میں ایک سال میں بیس ہزار آدمی عیسائی ہوئے ،اِدھر تو عیسائیت اس زور شور سے ترقی کرتی ہوئی اسلام اور ہندوستانی مذاہب کو نقصان پہنچا رہی ہے اُدھر آریہ دھرم اسلام کے مٹانے پر تُلا ہوا ہے۔ اس زمانہ اَخیر میں ہماری کمزوریوں اور غفلتوں کو دیکھ کر جو کچھ اُس نے ناجائز کار روائیاں نہ صرف انفرادی طورپر بلکہ اجتماعی طریقہ پر بھی منظم طریقہ پر کی ہیںاور کر رہی ہیں وہ ظاہر و باہر ہے اُس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔