ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2017 |
اكستان |
|
وضو کا شیطان : (٣٣) عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ عَنِّ النَّبِیِّ ۖ قَالَ اِنَّ لِلْوُضُوْئِ شَیْطَانًا یُقَالُ لَہ اَلْوَلَھَانْ فَاتَّقُوْا وَسْوَاسَ الْمَآئِ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ) ''حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں حضور اکرم ۖ نے فرمایا کہ وضو کا ایک شیطان ہے جس کا نام وَلْھَانْ ہے پس تم اُس کے بارے میں وسوسہ ڈالنے والے سے بچو۔ '' تشریح : جس طرح دیگر اُمور کے لیے مستقلاً اور جداگانہ شیاطین ہیں اسی طرح وضو کرتے وقت بھی ایک متعین اور مخصوص شیطان ہوتا ہے جس کا کام یہ ہے کہ وہ وضو کرنے والے کو مختلف قسم کے شبہات میں مبتلا کر کے اُس کے وضو کوبرباد یاکم اَز کم خلافِ سنت بنانے کی سعی بلیغ کرتا ہے مثلاً کبھی یہ وہم ڈالتا ہے کہ پانی اعضاء پر پہنچا ہے یا نہیں، اسی طرح تین بار اعضاء کو دھونے کے بعد وہم پیدا کرتا ہے کہ ممکن ہے ایک بار دھویا ہو، غرض یہ کہ اس قسم کے اوہام میں مبتلا کر کے وضو کی اصل رُوح کو ختم کردیتا ہے اس لیے وضو کرتے وقت اس شیطان کے وساوس سے بچنے کے لیے خوب احتیاط کی جائے۔بعض نواقض وضو : (٣٤) عَنْ عَلِیِّ بْنِ طَلْقٍ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ۖ اِذَا فَسَا اَحَدُکُمْ فَلْیَتَوَضَّاْ وَلاَ تَأْتُوا النِّسَائَ فِیْ اَدْبَارِھِنَّ ۔( الترمذی و ابوداود) ''حضرت علی ابن طلق سے روایت ہے نبی کریم ۖ نے فرمایا کہ جب آہستہ بھی ریح خارج ہوجائے تووضو کرو اور تم لوگ عورتوں کے پیچھے والے مقام میں خواہش پوری نہ کرو۔ ''(٣٥) وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ سَاَلْتُ النَّبِیَّ ۖ مِنَ الْمَذِیِّ فَقَالَ مِنَ الْمَذِیِّ اَلْوُضُوْئُ وَمِنَ الْمَنِیِّ الْغُسْلُ ۔ ( الترمذی ) ''حضرت علی رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ میں نے رسولِ اکرم ۖ سے دریافت کیا