ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2017 |
اكستان |
|
١٩٠١ء : ٢٩ لاکھ ١٩١١ء : ٣٨ لاکھ ١٩٢١ء : ٠٦٤، ٥٤، ٤٧ لاکھ انہوں نے ١٩٠١ء اور ١٩١١ء کے درمیان میں فیصدی ٦. ٣٢ ترقی کی۔ اور ١٩١١ء اور ١٩٢١ ء کے درمیان میں فیصدی ٧. ٢٢ ترقی کی جو کہ مسلمانوں کی ترقی کے مقابلہ میں ١٩١١ء میں پانچ گنے سے زیادہ اور ١٩٢١ء میں سات گنے سے زیادہ ہے۔ اور پھر آریہ سماج کی ترقی کو اگر دیکھا جائے تو نہایت ہی تعجب خیز حالت پیدا ہوتی ہے ملاحظہ ہو : ١٩٠١ء : ٠٠٠،٩٢ ١٩١١ء : ٠٠٠،٤٣، ٢ ١٩٢١ء : ٥٧٨، ٦٧، ٤ یعنی ١٩٠١ء اور١٩١١ء کے درمیان انہوں نے فیصدی ٤. ١٦٣ کی نسبت سے ترقی کی۔ اور ١٩٠١١ء اور ١٩٢١ء کے درمیان میں فیصدی١ .٩٢ کی نسبت سے ترقی کی۔ اس کیفیت کے سامنے مسلمانوں کی ترقی کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہے۔ وہ مذہب اسلام جس کے تمام اصول نہایت ہی اعلیٰ درجہ کے اور روشن عقل اور طبع کے موافق ہیں وہ اِس طرح پسماندہ ہو اجاتا ہے اور وہ مذاہب جن کے اصول و عقائد انتہائی درجے کے لچر اور پوچ ہیں وہ اس طرح تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں۔ قابلِ غوریہ اَمر ہے کہ آخر وہ بات کیا ہے جس کی وجہ سے مسلمان اُلٹے پیر لوٹتے جارہے ہیں ؟ مسلمانوں کی پست خیالی، کم ہمتی، غفلت، نیند، جہالت وغیرہ کو دیکھ کو دوسرے مذاہب کو بھی ہمت ہوئی کہ مسلمانوں پر ہجوم کیا جائے اوراِن کی منتشر بکریوں کو شکار کر لیا جائے ،عیسائی مشنریوں نے ہندوستان اور بیرون ہندوستان میں مختلف قسم کے جال پھیلا دیے ،نہ صرف مصر شام فلسطین عراق وغیرہ میں ہی ان کی مشنریاں کام کررہی یں بلکہ ایران، ایشیائے کوچک وغیرہ ممالک اسلامیہ میں بھی بڑی کامیابی سے مسلمانوں کو فنا کر رہی ہیں۔ ہندوستان میں جس کو شش سے ہندوستانیوں کو عیسائی بنایا جاتا ہے وہ ذیل کے نقشہ سے معلوم ہوجائے گا : ١٩٢٣ء کی رپورٹ کے اعداد و شمار ملاحظہ ہوں :