ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2017 |
اكستان |
|
٭ لڑکا ہو تو دو بکروں یا دو بکریوں کی قربانی کرو، لڑکی کے لیے ایک کی۔ ١ لڑکے کے لیے دو نہ ہوں تو ایک بکرے یا بکری کی قربانی بھی کافی ہے اور بقر عید کے موقع پر قربانی کے جانور میں بھی عقیقہ کی نیت سے حصہ لیا جا سکتا ہے۔ (دُر مختار وغیرہ) حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دونوں لخت جگر حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما جن کوآنحضرت ۖ نے فرمایا تھا کہ میرے پھول ہیں۔ ٢ اِن دونوں کے عقیقہ میں آنحضرت ۖ نے ایک ایک مینڈھا ذبح کیا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اِن کا سر منڈوا کر بالوں کے وزن کی چاندی صدقہ کر دو ۔ ٣ ضروری مسئلے : (١) عقیقہ ساتویں دن نہ کر سکے تو جب چاہے کر سکتا ہے البتہ ساتویں دن کا خیال رکھنا بہتر ہے اور اِس کا طریقہ یہ ہے کہ جس دن بچہ پیدا ہوا ہے اُس سے ایک دن پہلے عقیقہ کر دے یعنی اگر جمعہ کے روز ہوا تھا توجمعرات کے روز عقیقہ کرے اور اگر جمعرات کے روز پیداہوا تھا توبدھ کوکرے، یہ حساب سے ساتواں ہی دن ہوگا۔ (٢) عقیقہ کاکچا گوشت تقسیم کیا جا سکتا ہے اور پکا کربھی، اور یہ بھی درست ہے کہ دعوت کرکے کھلادیں ،عقیقہ کاگوشت باپ دادا نانا نانی سب کھا سکتے ہیں۔ (٣) بہتر ہے کہ عقیقہ سے پہلے بچہ کانام رکھ لیا جائے تاکہ دُعا کرتے وقت اُس کانام لے کردُعا کی جا سکے۔ دُعائِ عقیقہ : قربانی کے جانور کوقبلہ رُخ لٹا کر یہ دُعا پڑھی جائے : ( اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ، اِنَّ صَلٰوتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ) اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ ۔ ------------------------------ ١ تر مذی شریف ص ٨٣ ١ و ص ٣٥٤ ٢ تر مذی شریف ج٢ ص ٢١٨ ٣ تر مذی شریف ص ١٨٣