Deobandi Books

فضائل علم - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

53 - 54
بے دینی ہے، یہ قرآن پر چلنا نہیں بلکہ قرآن کو اپنے نظریہ پر ڈھالنا ہے معتزلہ، خوارج، نواصب، روافض، نیچری، قادیانی اور دیگر گمراہ فرقے یہی ناپاک کوشش کرتے رہے، اور اب دورِ حاضر میں منکرینِ حدیث یہی کام کررہے ہیں اپنے خود ساختہ افکار ونظریات کو ثابت کرنے کے لئے برابر قرآن کی تحریف میں مشغول ہیں، مسلسل کتابیں اور رسالے چھاپ رہے ہیں، ان دشمنانِ دین نے ضروریاتِ دین تک کو مسخ کرڈالاہے توحید ورسالت، نماز، زکوٰۃ، روزہ، قربانی وغیرہ کے متعلق نئے نئے نظریات تراشتے ہیں اور ان کو قرآن مقدس پر چپکانے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں ان کے نزدیک روس اور یورپ اور امریکہ کے نظریات ہی اصل ایمان واسلام ہیں قرآن کو روس وامریکہ ویورپ کے مطابق بنانے اور اپنی خواہشات کو عین حکمِ خداوندی ثابت کرنے کے لئے عمریں خرچ کررہے ہیںاور قوم کی دولت لگارہے ہیں اسلام ومسلمان کی ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح عوام اور اسکولوں کالجوں کے پروفیسر ٹیچروں اور طالب علموں کو ورغلاتے ہیں یہ لوگ چونکہ مغربیت کے قاتلانہ ماحول میں تربیت پاکر آزادی نفس کے خوگر ہوچکے ہیں اور اس کی وجہ سے اسلام کے مطالبات ومقتضیات کا پابند ہونا گراں معلوم ہوتا ہے اس لئے منکرینِ حدیث کے دام تزویر وتلبیس میں پھنس جاتے ہیں اور نفس وشیطان کے سمجھانے سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم صحیح مسلمان ہیں قرآن کو بس ہم نے اور ہمارے مغربیت زدہ مرشدوں نے سمجھا ہے اور حال یہ ہے کہ استاد وشاگرد عربی کے چند لغات اور شستہ اردو لکھ لیتی یا پڑھ لینے سے زیادہ کوئی قابلیت نہیں رکھتے۔
ان نادانوں کا معاملہ قرآن مجید کے ساتھ یہ ہے کہ اول اپنی طرف سے کوئی نظریہ گھڑتے ہیں پھڑ اس کے ثابت کرنے کے لئے قرآنی آیات کی آڑ پکڑتے ہیں ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بہت ہوتا ہے جہاں اپنے خیالِ فاسد میں کسی لفظِ قرآنی کا ترجمہ اپنے نظریہ کے مطابق معلوم ہو (خواہ عربیت کے لحاظ سے وہ ترجمہ غلط ہی ہو) بس آیت لکھی اور ترجمہ تراشا اور آٹھ دس صفحات سیاہ کرڈالے بے چارے اسکولوں اور کالجوں کے پڑھنے پڑھانے والوں نے یہ سمجھ لیا کہ آیت سے نظریہ ثابت ہوگیا۔
خدا کے بندو قرآن سے کہاں نظریہ ثابت ہوا؟ قرآن کو نظرئیے پر منڈھنے کی ملحدانہ کوشش کی گئی ہے ان ملحدوں نے آخرت، جنت، جہنم وغیرہ کے مفہوم بدل کر ان الفاظ کو اپنے ایجاد کردہ معانی پہنائے ہیں اور انہی کو پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اور اب توالفاظِ قرآن کے خود تراشیدہ معانی سمجھانے کے لئے جدید لغت نامہ تیار کرلیا ہے۔
جہالت کی انتہا ہے کہ جس قوم کی زبان قرآن ہے ان کی لکھے ہوئے لغت نامہ غلط ہوجائیں اور جو لوگ عربیت سے محض ناواقف ہیں ان کا لغت نامہ معتبر اور قابلِ تسلیم ہوجائے یہ لوگ آخرت کے حساب کتاب کے قائل ہوتے تو اللہ تعالیٰ 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 تصحیح نیت اور اس کی اہمیت 1 1
3 مہاجر ام قیس 1 1
4 طالب علم کیا نیت کرے 2 1
5 دنیا حاصل کرنے کیلئے علم دین حاصل کرنا 3 1
6 علمیت جتانے یا معتقد بنانے کے لیے علم حاصل کرنا 4 1
7 علم دین کی ضرورت اور فرضیت 6 1
8 اصل علم تین چیزوں کا علم ہے 10 1
9 دینی سمجھ انعام عظیم ہے 14 1
10 علمائے دین قابل رشک ہیں 15 1
11 معلم ومبلغ کے لئے دعائیں اور عابد پر عالم کی فضیلت 16 1
12 علماء اور طلباء کا مرتبہ 18 1
13 علماء کا وجود علم کا وجود ہے 20 1
14 طالب علموں کے ساتھ حسن سلوک 20 1
15 علماء ورثۃ الانبیاء ہیں 21 1
16 علم دین صدقہ جاریہ ہے 24 1
17 سب سے بڑا سخی 26 1
18 علماء اور حفاظ شفاعت کرینگے 27 1
19 مسجدوں میں ذکر وعلم کے حلقے 29 1
20 عورتوں کی تعلیم وتبلیغ کے لئے وقت نکالنا 30 1
21 مومن کو علم دین کا حریص ہونا چاہیے 32 1
22 طلب علم کے لئے سفر کرنا 34 1
23 ایک فقیہ شیطان کیلئے ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے 38 1
24 کوئی طالب علم دین خسارہ میں نہیں 40 1
25 علم پر عمل کرنا 41 1
26 قرآن شریف سیکھنا سکھانا 45 1
27 قرآن پڑھ کر بھول جانا 46 1
28 قرآن مجید کو شکم پروری کا ذریعہ بنانا 47 1
29 اپنی رائے سے تفسیر بیان کرنا 50 1
Flag Counter