Deobandi Books

فضائل علم - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

54 - 54
سے ڈرتے اور سورہ حم سجدہ کی اس تہدید پر دھیان دیتے:
اِنَّ الَّذِین یلحدون فی اٰیٰتنا لا یخفون علینا
’’بلاشبہ جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی اختیار کرتے ہیں وہ لوگ ہم پر مخفی نہیں۔‘‘
شاید کسی کے دل میں یہ خطرہ گزرے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کو آسان فرمادیا ہے اور مولوی صاحبان اس کے جاننے اور سمجھنے کے لئے پندرہ علوم کی شرط لگارہے ہیں اس وسوسہ کا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ قرآن آسان ہے مگر اپنے اصول کے ساتھ آسان ہے کوئی بھی آسان چیز بغیر اپنے قاعدوں اوراصولوں کے آسان نہیں ہے، مثلاً حلوے کا لقمہ نگل لینا آسان ہے مگر نگلنے سے پہلے اس کابنانا پکانابرتن سے اٹھا کر منہ تک لے جانا تو بہرحال ضروری ہے اسی طرح قرآن شریف کے متعلق سمجھنا چاہیے کہ آسان تو ہے مگر عربی میں ہے عربی سمجھنے کے لئے جن علوم کی ضرورت ہے ان کے بغیر قرآن سمجھنے کی نیت کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص منہ تک لیجائے بغیر حلوہ نگلنے کی مجنونانہ نیت کرے۔
قرآن شریف کے اوامر ونواہی کا سمجھ لینا اور حرام وحلال جان لینا تو اس قدر آسان ہے کہ جس نے قرآن نہ پڑھا اس کے سامنے بیان کردئیے جائیں تو وہ بھی سمجھ لے گالیکن اول سے آخرتک پورے قرآن مجید کی تفسیر جاننا اور معارف ودقائق کا نکالنا مجمل ومبہم کی تعیین کرنا مشترک الفاظ کے معانی میں سے کسی ایک کو سیاق وسباق دیکھ کر طے کرنابہرحال مذکورہ بالا شرائط کے بغیر ناممکن ہے اس زمانے کے جہلاء اپنی طرف سے قرآن کامطلب بتانے میں ذرا نہیں جھجکتے اور جن کی عمریں قرآن فہمی میں ختم ہوگئیںوہ لب کھولتے ہوئی لرزتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق سے زیادہ قرآن سے واقفیت رکھنے والا آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد کون ہوسکتا ہے جب ان سے سورہ عبس کی آیت وفاکہۃ وابا کا مطلب پوچھا گیا تو فرمایا کہ:
ای سماء تظلنی او ای ارض تقلنی ان قلت فی کتاب اللہ ما لا اعلم (تاریخ الخلفاء) 
’’مجھے کونسا آسمان سائے میں رکھے گا اور کون سی زمین مجھے اٹھائیگی اگر میں اللہ کی کتاب کے بارے میں وہ بات کہدوں جس کا مجھے علم نہیں۔‘‘
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 تصحیح نیت اور اس کی اہمیت 1 1
3 مہاجر ام قیس 1 1
4 طالب علم کیا نیت کرے 2 1
5 دنیا حاصل کرنے کیلئے علم دین حاصل کرنا 3 1
6 علمیت جتانے یا معتقد بنانے کے لیے علم حاصل کرنا 4 1
7 علم دین کی ضرورت اور فرضیت 6 1
8 اصل علم تین چیزوں کا علم ہے 10 1
9 دینی سمجھ انعام عظیم ہے 14 1
10 علمائے دین قابل رشک ہیں 15 1
11 معلم ومبلغ کے لئے دعائیں اور عابد پر عالم کی فضیلت 16 1
12 علماء اور طلباء کا مرتبہ 18 1
13 علماء کا وجود علم کا وجود ہے 20 1
14 طالب علموں کے ساتھ حسن سلوک 20 1
15 علماء ورثۃ الانبیاء ہیں 21 1
16 علم دین صدقہ جاریہ ہے 24 1
17 سب سے بڑا سخی 26 1
18 علماء اور حفاظ شفاعت کرینگے 27 1
19 مسجدوں میں ذکر وعلم کے حلقے 29 1
20 عورتوں کی تعلیم وتبلیغ کے لئے وقت نکالنا 30 1
21 مومن کو علم دین کا حریص ہونا چاہیے 32 1
22 طلب علم کے لئے سفر کرنا 34 1
23 ایک فقیہ شیطان کیلئے ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے 38 1
24 کوئی طالب علم دین خسارہ میں نہیں 40 1
25 علم پر عمل کرنا 41 1
26 قرآن شریف سیکھنا سکھانا 45 1
27 قرآن پڑھ کر بھول جانا 46 1
28 قرآن مجید کو شکم پروری کا ذریعہ بنانا 47 1
29 اپنی رائے سے تفسیر بیان کرنا 50 1
Flag Counter