سے ڈرتے اور سورہ حم سجدہ کی اس تہدید پر دھیان دیتے:
اِنَّ الَّذِین یلحدون فی اٰیٰتنا لا یخفون علینا
’’بلاشبہ جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی اختیار کرتے ہیں وہ لوگ ہم پر مخفی نہیں۔‘‘
شاید کسی کے دل میں یہ خطرہ گزرے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کو آسان فرمادیا ہے اور مولوی صاحبان اس کے جاننے اور سمجھنے کے لئے پندرہ علوم کی شرط لگارہے ہیں اس وسوسہ کا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ قرآن آسان ہے مگر اپنے اصول کے ساتھ آسان ہے کوئی بھی آسان چیز بغیر اپنے قاعدوں اوراصولوں کے آسان نہیں ہے، مثلاً حلوے کا لقمہ نگل لینا آسان ہے مگر نگلنے سے پہلے اس کابنانا پکانابرتن سے اٹھا کر منہ تک لے جانا تو بہرحال ضروری ہے اسی طرح قرآن شریف کے متعلق سمجھنا چاہیے کہ آسان تو ہے مگر عربی میں ہے عربی سمجھنے کے لئے جن علوم کی ضرورت ہے ان کے بغیر قرآن سمجھنے کی نیت کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص منہ تک لیجائے بغیر حلوہ نگلنے کی مجنونانہ نیت کرے۔
قرآن شریف کے اوامر ونواہی کا سمجھ لینا اور حرام وحلال جان لینا تو اس قدر آسان ہے کہ جس نے قرآن نہ پڑھا اس کے سامنے بیان کردئیے جائیں تو وہ بھی سمجھ لے گالیکن اول سے آخرتک پورے قرآن مجید کی تفسیر جاننا اور معارف ودقائق کا نکالنا مجمل ومبہم کی تعیین کرنا مشترک الفاظ کے معانی میں سے کسی ایک کو سیاق وسباق دیکھ کر طے کرنابہرحال مذکورہ بالا شرائط کے بغیر ناممکن ہے اس زمانے کے جہلاء اپنی طرف سے قرآن کامطلب بتانے میں ذرا نہیں جھجکتے اور جن کی عمریں قرآن فہمی میں ختم ہوگئیںوہ لب کھولتے ہوئی لرزتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق سے زیادہ قرآن سے واقفیت رکھنے والا آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کون ہوسکتا ہے جب ان سے سورہ عبس کی آیت وفاکہۃ وابا کا مطلب پوچھا گیا تو فرمایا کہ:
ای سماء تظلنی او ای ارض تقلنی ان قلت فی کتاب اللہ ما لا اعلم (تاریخ الخلفاء)
’’مجھے کونسا آسمان سائے میں رکھے گا اور کون سی زمین مجھے اٹھائیگی اگر میں اللہ کی کتاب کے بارے میں وہ بات کہدوں جس کا مجھے علم نہیں۔‘‘