(۴) علم اشتقاق سے واقف ہونا کہ دو مختلف مادوں سے مشتق ہونے کی وجہ سے جو معنی میں اختلاف پیداہوجاتا ہے اس کا پتہ رہے، مثلاً لفظ مسیح ہے اس کا مادہ مسح بھی ہوسکتا ہے اور مساحت بھی۔
(۵،۶،۷) علم معانی اور بیان وبدیع سے علی وجہ الکمال واقفیت رکھتا ہو یہ تینوں علومِ بلاغت ہیں ان کے ذریعہ قرآن شریف کی فصاحت وبلاغت کا علم ہوتا ہے اور اس کا معجزانہ شان معلوم ہوتی ہے اور عجائباتِ قرآن واضح ہوتے ہیں۔
(۸ ) قراء توں کا پوری طرح علم ہو۔
(۹) ان اصول دینیہ سے علی وجہ الکمال واقف ہو جو ان آیات میں صاف صاف واضح طور پر بیان کردیئے ہیں جو متشابہات نہیں ہیں اگر اصول دینیہ کا علم ہوگا تو آیات خفی الدلالت اور آیاتِ متشابہات کا مطلب عقائد اسلام کے خلاف تجویز نہ کرے گا۔
(۱۰) اصولِ فقہ سے واقف ہو۔
(۱۱) اسبابِ نزول کا واقف ہو۔
(۱۲) ناسخ ومنسوخ کا عالم ہو۔
(۱۳) علم فقہ سے کامل واقفیت رکھتا ہو۔
(۱۴) ان احادیث شریفہ کا خصوصیت کے ساتھ علم ہو جن میں مجملات اور مبہمات کی تفسیر بیان ہوئی ہے۔
(۱۵) علم وہبی ہو جو اللہ تعالیٰ کا خاص عطیہ ہے اور جو ہر آدمی کونصیب نہیں ہوتا بلکہ اس کا فیضان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان حضرات پر ہوتا ہے جو اعمال صالحہ سے آراستہ ہوں دنیا سے بے رغبت ہوں آخرت کے طالب ہوں۔
علامہ زرکشی نے فرمایاکہ وحی الٰہی کے معانی اور اس کے اسرار اس شخص پر واضح نہ ہوں گے جس کے دل میں ذرا بھی بدعت یا تکبر ہو یا جس میں خواہش نفس کا اتباع یا دنیا کی محبت ہو، یا جو کسی گنا ہ پر اصرار کرتاہو ، یا جسے اپنے ایمان کا ٹھیک پتہ نہ ہو ، یا جو خود بے علم ہو اور کسی مفسر کے قول ہی کو نقل کر کے مفسر بننا چاہتا ہو، یا صرف عقلی اٹکلوں سے کام چلاتا ہو، یہ سب حجابات ہیں جو معارفِ قرآن کو ذہن میں نہ آنے دین گے ، جن علوم کا اوپر ذکر ہوا مفسر کے لئے آلات کا حکم رکھتے ہیں ان کے بغیر جو شخص تفسیر کا ارادہ کرے گا اس کی تفسیر ضرور تفسیر بالرائی بن جائے گی (اس مضمون کا بیشتر حصہ تفسیر اتقان سے ماخوذ ہے جو تلخیص اور کسی قدر تقدیم کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے)
قرآن اس لئے ہے کہ اس کا اتباع کیا جائے اپنے علم وعمل اور فکرونظر کو اس کے تابع بنایا جائے اور کوئی نظریہ خود تجویز کر کے یا کسی لیڈر یا جماعت سے سن کر مان لینا اور پھر یہ کوشش کرنا کہ اس نظریہ کو قرآن سے ثابت کردیا جائے الحاد اور