Deobandi Books

فضائل علم - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

24 - 54
کردی جائے عام ہوجائے گی اور ذرا نہ گھٹے گی نبیوں کی میراث کے مقابلہ میں سب میراثیں ہیچ ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا:
رضینا قسمۃ الجبار فینا		لنا علم وللجہال مال‘
’’ہم خدا کی تقسیم پر راضی ہیں جو اس نے ہمارے متعلق فرمائی ہے یعنی یہ کہ ہمارے لئے علم اور جاہلوں کیلئے مال مقرر فرمایا ہے‘‘
لان المال یفنیٰ عن قریب 		وان العلم باقٍ لایزال‘
’’اس لئے کہ مال عنقریب فنا ہوجائے گا اور علم باقی رہے گا جسے زوال نہیں۔‘‘
حضرت ابوہریرہ ؓ ایک مرتبہ بازار پہنچے وہاں کھڑے ہو کر زور سے فرمایا کہ اے بازار والو! ایک بہت بڑی دولت کے حاصل کرنے سے کیوں عاجز ہورہے ہو؟ لوگوں نے پوچھا وہ کون سی دولت ہے؟ فرمایا رسول اللہﷺکی میراث مسجد میں تقسیم ہو رہی ہے اور تم یہاں کاموں میں لگے ہو کیوں اس میں سے اپنا حصہ نہیں لیتے؟ یہ سن کر حاضرین جلدی جلدی مسجد پہنچے اور ان لوگوں کے واپس آنے تک حضرت ابوہریرہ ؓ وہیں ٹھہرے رہے جب وہ لوگ مایوسی کا منہ لئے واپس آگئے تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا ہم مسجد پہنچے وہاں دیکھا بھالا تو کچھ بھی تقسیم ہوتا نظر نہ آیا فرمایا مسجد میں دیکھا بھی کسی کو؟ عرض کیا ہاں کچھ لوگ تلاوت میں مشغول تھے کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے اور ایک جماعت آپس مین حلال وحرام کے بارے میں گفتگو کررہی تھی یہ سن کر حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ افسوس! تم اتنی کھلی ہوئی بات بھی نہ سمجھے، رسول اکرم ﷺکی میراث یہ نماز اور تلاوت اور علمی مذاکرہ ہی تو ہے (ترغیب)
علم دین صدقہ جاریہ ہے
(۴۱) {وعن ابی ہریرۃ ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ان مما یلحق المومن من عملہ وحسناتہ بعد موتہ علما علمہ ونشرہ وولدا صالحا ترکہ او مصحفا ورثہ او مسجدا بناہ او بیتا لابن السبیل بناہ او نہرا اجراہ او صدقۃ اخرجہا من مالہ فی صحتہ وحیاتہ تلحقہ من بعد موتہ} (رواہ ابن ماجۃ والبیہقی فی شعب الایمان)
’’حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺنے ارشاد فرمایا کہ بیشک ان چیزوں میں سے جو مومن کو موت کے بعد پہنچتی ہیں یعنی اس کے عمل اور اس کی نیکیاں ان میں ایک تو علم ہے جسے اس نے حاصل کیا اور پھیلایا اور وہ اولاد صالح ہے جسے چھوڑ گیا یا قرآن ورثہ میں چھوڑ گیا یا مسافر خانہ تعمیر کر گیا یا نہر جاری کرگیا یا اپنے مال سے زندگی میں اور تندرستی کے زمانے میں ایسا صدقہ نکال گیا جو مرنے کے بعد اس کو پہنچتا ہے۔‘‘
اللہ پاک کا یہ احسان عظیم ہے کہ مومن بندے جو نیک عمل کرتے ہیں ان کا بھی اجر عنایت فرماتے ہیں اور جن نیک 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 تصحیح نیت اور اس کی اہمیت 1 1
3 مہاجر ام قیس 1 1
4 طالب علم کیا نیت کرے 2 1
5 دنیا حاصل کرنے کیلئے علم دین حاصل کرنا 3 1
6 علمیت جتانے یا معتقد بنانے کے لیے علم حاصل کرنا 4 1
7 علم دین کی ضرورت اور فرضیت 6 1
8 اصل علم تین چیزوں کا علم ہے 10 1
9 دینی سمجھ انعام عظیم ہے 14 1
10 علمائے دین قابل رشک ہیں 15 1
11 معلم ومبلغ کے لئے دعائیں اور عابد پر عالم کی فضیلت 16 1
12 علماء اور طلباء کا مرتبہ 18 1
13 علماء کا وجود علم کا وجود ہے 20 1
14 طالب علموں کے ساتھ حسن سلوک 20 1
15 علماء ورثۃ الانبیاء ہیں 21 1
16 علم دین صدقہ جاریہ ہے 24 1
17 سب سے بڑا سخی 26 1
18 علماء اور حفاظ شفاعت کرینگے 27 1
19 مسجدوں میں ذکر وعلم کے حلقے 29 1
20 عورتوں کی تعلیم وتبلیغ کے لئے وقت نکالنا 30 1
21 مومن کو علم دین کا حریص ہونا چاہیے 32 1
22 طلب علم کے لئے سفر کرنا 34 1
23 ایک فقیہ شیطان کیلئے ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے 38 1
24 کوئی طالب علم دین خسارہ میں نہیں 40 1
25 علم پر عمل کرنا 41 1
26 قرآن شریف سیکھنا سکھانا 45 1
27 قرآن پڑھ کر بھول جانا 46 1
28 قرآن مجید کو شکم پروری کا ذریعہ بنانا 47 1
29 اپنی رائے سے تفسیر بیان کرنا 50 1
Flag Counter