Deobandi Books

فضائل علم - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

51 - 54
ابوعبدالرحمن اسلمی نے فرمایا کہ حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہم نے فرمایا کہ ہم جب دس آیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھتے تھے تو جب تک ان سے متعلقہ علم وعمل کو نہ جان لیتے تھے (دوسرے سبق کے لئے) آگے نہ بڑھتے تھے، قرآن اور قرآن کا علم وعمل ہم نے سب ساتھ ساتھ سیکھا ہے۔
یہ ایک کھلی ہوئی بات کہ جو بھی آدمی کسی فن کی کتاب پڑھتا ہے (مثلاً حساب یا طب کی کتاب) توضرور بالضرور اس کے معانی اور مطالب کو اچھی طرح سمجھنے اور جاننے اور یاد رکھنے کی کوشش کرتا ہے کیا یہ ہوسکتا ہے کہ حضرات صحابہ نے اللہ کی مقدس کتاب کے معانی اورمطالب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم نہ کئے ہوں حالانکہ قرآن کو نجات کا ذریعہ اور دونوں عالم کی صلاح وفلاح کا وسیلہ سمجھتے تھے قرآن وحدیث اور تفسیر صحابہ پر جسے عبور نہ ہو ایسا شخص عربی دانی کے زور پر جو قرآن کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرے گا ضرور گمراہ ہوگااور امت کو گمراہ کرے گا قرآن کے صحیح مطالب واضح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ عقیدہ اور عمل درست ہو یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو جن عقائد واعمال پر ڈالا تھا ان کا پابند ہو، فسق وفجور اور الحاد وزندقہ سے پاک ہو، قرآن پر چلنے کا ارادہ رکھتا ہو قرآن کو اپنے نظریہ اور خود ساختہ معنی پر چپکانے کی نیت نہ ہو۔
قرآن وحدیث اور تفسیر صحابہ پر عبور ہوتے ہوئے مفسر کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ مندرجہ ذیل علوم میں کامل ہو۔
(۱) عربی کے علم اللغت پر عبور ہو، حضرت امام مالک نے فرمایاکہ عربی لغات جانے بغیر تفسیر کرنے والا جو شخص میرے پاس لایا جائے گا اس کو عبرتناک سزا دوں گاحضرت مجاہد نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کے لئے حلال نہیں ہے کہ اللہ کی کتاب کے بارے میں زبان کھولے، جب تک کہ لغات عرب نہ جانتا ہو یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ذرا بہت مختصر طریقہ پر عربی لغات جاننا کافی نہیں ہے کیونکہ بعض کلمات مشترک ہوتے ہیں جو چند معانی کے لئے آتے ہیں جب تک پورے معانی کا علم نہ ہوگا تفسیر بیان کرنے میں غلطی واقع ہوجانے کا احتمال رہے گا ہوسکتا ہے کہ کم علمی کی وجہ سے وہ معنی بتادے جو معلوم تھے حالانکہ اس جگہ اس کے علاوہ وہ معنی مراد تھے جن کا علم نہ تھا۔
(۲) علم نحو سے پوری طرح واقف ہو، کیونکہ اعراب (زیر زبر وغیرہ )کے بدلنے سے معانی بدل جاتے ہیں اگر علم نحو سے واقفیت نہ ہوگی تو فاعل کو مفعول اور مفعول کو فاعل بنا کر ترجمہ اور مطلب غلط بیان کردے گا۔
(۳) علم صرف میں کمال رکھتا ہو جس کی وجہ سے اوزان اور صیغوں کی پہچان ہوتی ہے اور ثلاثی رباعی مجرد مزید فیہ کے ابواب کاعلم ہوتا ہے، اگر علم صرف سے واقف نہ ہوگا تو ایک ہی آیت کے ترجمہ میں کئی غلطیاں کر بیٹھے گا۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 تصحیح نیت اور اس کی اہمیت 1 1
3 مہاجر ام قیس 1 1
4 طالب علم کیا نیت کرے 2 1
5 دنیا حاصل کرنے کیلئے علم دین حاصل کرنا 3 1
6 علمیت جتانے یا معتقد بنانے کے لیے علم حاصل کرنا 4 1
7 علم دین کی ضرورت اور فرضیت 6 1
8 اصل علم تین چیزوں کا علم ہے 10 1
9 دینی سمجھ انعام عظیم ہے 14 1
10 علمائے دین قابل رشک ہیں 15 1
11 معلم ومبلغ کے لئے دعائیں اور عابد پر عالم کی فضیلت 16 1
12 علماء اور طلباء کا مرتبہ 18 1
13 علماء کا وجود علم کا وجود ہے 20 1
14 طالب علموں کے ساتھ حسن سلوک 20 1
15 علماء ورثۃ الانبیاء ہیں 21 1
16 علم دین صدقہ جاریہ ہے 24 1
17 سب سے بڑا سخی 26 1
18 علماء اور حفاظ شفاعت کرینگے 27 1
19 مسجدوں میں ذکر وعلم کے حلقے 29 1
20 عورتوں کی تعلیم وتبلیغ کے لئے وقت نکالنا 30 1
21 مومن کو علم دین کا حریص ہونا چاہیے 32 1
22 طلب علم کے لئے سفر کرنا 34 1
23 ایک فقیہ شیطان کیلئے ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے 38 1
24 کوئی طالب علم دین خسارہ میں نہیں 40 1
25 علم پر عمل کرنا 41 1
26 قرآن شریف سیکھنا سکھانا 45 1
27 قرآن پڑھ کر بھول جانا 46 1
28 قرآن مجید کو شکم پروری کا ذریعہ بنانا 47 1
29 اپنی رائے سے تفسیر بیان کرنا 50 1
Flag Counter