ابوعبدالرحمن اسلمی نے فرمایا کہ حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہم نے فرمایا کہ ہم جب دس آیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھتے تھے تو جب تک ان سے متعلقہ علم وعمل کو نہ جان لیتے تھے (دوسرے سبق کے لئے) آگے نہ بڑھتے تھے، قرآن اور قرآن کا علم وعمل ہم نے سب ساتھ ساتھ سیکھا ہے۔
یہ ایک کھلی ہوئی بات کہ جو بھی آدمی کسی فن کی کتاب پڑھتا ہے (مثلاً حساب یا طب کی کتاب) توضرور بالضرور اس کے معانی اور مطالب کو اچھی طرح سمجھنے اور جاننے اور یاد رکھنے کی کوشش کرتا ہے کیا یہ ہوسکتا ہے کہ حضرات صحابہ نے اللہ کی مقدس کتاب کے معانی اورمطالب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم نہ کئے ہوں حالانکہ قرآن کو نجات کا ذریعہ اور دونوں عالم کی صلاح وفلاح کا وسیلہ سمجھتے تھے قرآن وحدیث اور تفسیر صحابہ پر جسے عبور نہ ہو ایسا شخص عربی دانی کے زور پر جو قرآن کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرے گا ضرور گمراہ ہوگااور امت کو گمراہ کرے گا قرآن کے صحیح مطالب واضح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ عقیدہ اور عمل درست ہو یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو جن عقائد واعمال پر ڈالا تھا ان کا پابند ہو، فسق وفجور اور الحاد وزندقہ سے پاک ہو، قرآن پر چلنے کا ارادہ رکھتا ہو قرآن کو اپنے نظریہ اور خود ساختہ معنی پر چپکانے کی نیت نہ ہو۔
قرآن وحدیث اور تفسیر صحابہ پر عبور ہوتے ہوئے مفسر کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ مندرجہ ذیل علوم میں کامل ہو۔
(۱) عربی کے علم اللغت پر عبور ہو، حضرت امام مالک نے فرمایاکہ عربی لغات جانے بغیر تفسیر کرنے والا جو شخص میرے پاس لایا جائے گا اس کو عبرتناک سزا دوں گاحضرت مجاہد نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کے لئے حلال نہیں ہے کہ اللہ کی کتاب کے بارے میں زبان کھولے، جب تک کہ لغات عرب نہ جانتا ہو یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ذرا بہت مختصر طریقہ پر عربی لغات جاننا کافی نہیں ہے کیونکہ بعض کلمات مشترک ہوتے ہیں جو چند معانی کے لئے آتے ہیں جب تک پورے معانی کا علم نہ ہوگا تفسیر بیان کرنے میں غلطی واقع ہوجانے کا احتمال رہے گا ہوسکتا ہے کہ کم علمی کی وجہ سے وہ معنی بتادے جو معلوم تھے حالانکہ اس جگہ اس کے علاوہ وہ معنی مراد تھے جن کا علم نہ تھا۔
(۲) علم نحو سے پوری طرح واقف ہو، کیونکہ اعراب (زیر زبر وغیرہ )کے بدلنے سے معانی بدل جاتے ہیں اگر علم نحو سے واقفیت نہ ہوگی تو فاعل کو مفعول اور مفعول کو فاعل بنا کر ترجمہ اور مطلب غلط بیان کردے گا۔
(۳) علم صرف میں کمال رکھتا ہو جس کی وجہ سے اوزان اور صیغوں کی پہچان ہوتی ہے اور ثلاثی رباعی مجرد مزید فیہ کے ابواب کاعلم ہوتا ہے، اگر علم صرف سے واقف نہ ہوگا تو ایک ہی آیت کے ترجمہ میں کئی غلطیاں کر بیٹھے گا۔